بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

منکوحہ کا غیر سے نکاح


سوال

میری ٹانگ ٹوٹنے کے سبب میں معذور ہو گیا اور معذور ہونے کے بعد میری بیوی میرے بچوں کے ہمراہ میرے بھائی کے ساتھ چلی گئی اس بات کو نو سال ہو چکے ہیں اور میرے بھائی نے ان بندے کو ڈھائی لاکھ روپے دیے مجھے قتل کروانے کے لیے تاکہ میں مر جاؤں میرے بھائی نے میری بیوی سے نکاح کر لیا اور اب وہ دونوں ساتھ رہتے ہیں اور میرے والد بھی ان کے ساتھ رہتے ہیں حالانکہ میں نے بیوی کو اب تک طلاق نہیں دی ہے میرا سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟ نیز کیا میں والد صاحب کی خدمت کر سکتا ہوں یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً  آپ نے  اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی اور اس کے باوجود آپ کی بیوی نے آپ کے بھائی سے نکاح کر لیا ہے تو وہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا ، وہ دونوں اب بھی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں، اب تک جو ساتھ رہے اس پر توبہ و استغفار کریں،  ان کو چاہیے کہ فورا علیحدگی اختیار کر لیں، ورنہ آخرت میں سخت پکڑ ہوگی۔

والد صاحب کو بھی چاہیے کہ ان دونوں کو مسئلہ سے آگاہ کریں اور ان کو سمجھانے کی پوری کوشش کریں اور اس کے باوجود اگر نہ مانیں تو ان سے قطع تعلقی کریں؛ یہاں تک کہ باز آ جائیں۔

باقی اولاد کے لیے حکم یہی ہے کہ ہر حال میں والد کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئیں، لہذا آپ پر لازم ہے کہ آپ اپنے والد کے خوش اخلاقی، حسنِ سلوک اور خدمت والا رویہ روا رکھیں، اگر والد آپ کے بھائی کے ساتھ رہتے ہیں تو اس وجہ سے آپ ان کو اپنی خدمت سے محروم نہیں کر سکتے۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من أصبح مطیعاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن کان واحداً فواحداً، ومن أصبح عاصیاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من النار، إن کان واحداً فواحداً، قال رجل: وإن ظلماه؟ قال: وإن ظلماه وإن ظلماه وإن ظلماه. رواه البیهقي في شعب الإیمان."

(مشکاة المصابیح، کتاب الآداب، باب البر والصلة، الفصل الثالث، ص: 421، ط: قديمي)

ترجمہ: ’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے والدین کا مطیع و فرماں بردار ہو تو اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور اگر والدین میں سے کوئی ایک (حیات) ہو (اور وہ اس کا مطیع ہو) تو ایک دروازہ کھول دیا جاتاہے۔ اور جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے والدین کا نافرمان ہو تو اس کے لیے صبح کے وقت جہنم کے دو دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور اگر والدین میں سے کسی ایک کا نافرمان ہو تو ایک دروازہ جہنم کا کھول دیا جاتاہے۔ ایک شخص نے سوال کیا: اگرچہ والدین ظلم کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگرچہ وہ دونوں اس پر ظلم کریں، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں۔‘‘ 

بدائع الصنائع میں ہے:

"ومنها أن لا تكون منكوحة الغير، لقوله تعالى: {والمحصنات من النساء}."

(كتاب النكاح، فصل أن لا تكون منكوحة الغير، ج: 2، ص: 268، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة."

(كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير، ج: 1، ص: 280، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"أما ‌نكاح ‌منكوحة ‌الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا."

(‌‌كتاب النكاح، ‌‌باب المهر، ج: 3، ص: 132، ط: سعید)

عمدۃ القاری میں ہے:

"باب ما يجوز من الهجران لمن عصى

أي هذا باب في بيان ما يجوز من الهجران لمن عصى وقال المهلب: غرض البخاري من هذا الباب أن يبين صفة الهجران الجائز وأن ذلك متنوع على قدر الإجرام فمن كان جرمه كثيرًا فينبغي هجرانه واجتنابه وترك مكالمته، كما جاء في كعب بن مالك وصاحبيه وما كان من المغاضبة بين الأهل والإخوان، فالهجران الجائز فيها ترك التحية والتسمية وبسط الوجه، كما فعلت عائشة في مغاضبتها مع رسول الله".

( كتاب البر والصلة ، باب ما يجوز  من الهجران لمن عصى ، 22/ 225، ط:دارالكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101394

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں