بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

منی، مذی اور ودی کی تعریف اور ہر ایک کا حکم


سوال

منی، مذی اور ودی میں کیا فرق ہے؟ ہر ایک کا شرعی حکم کیا ہے،یعنی کن صورتوں میں غسل لازم ہوتا ہے اور کن میں نہیں؟ اور ان میں سے کسی کے کپڑوں کو لگنے سے کپڑے ناپاک ہوتے ہیں یا نہیں؟

جواب

 منی وہ گاڑھا مادہ ہے جو  کود کر شہوت اور لذت کے ساتھ  اگلی شرم گاہ سے خارج ہوتاہے، اور اس کے بعد شہوت ختم یا کم ہوجاتی ہے، خواہ جماع کے وقت ہو یا اس کے  علاوہ کسی حالت میں ہو۔

 مذی پتلی،  سفیدی مائل پانی کی طرح  ہوتی ہے، جو  شہوت کے وقت نکلتی ہے، اس کے نکلنے  پر شہوت قائم رہتی ہے، اس میں  کمی نہیں آتی، بلکہ شہوت میں  مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

 اور  ودی سفید گدلے رنگ کی گاڑھی ہوتی ہے جو پیشاب کے بعد اور کبھی اس سے پہلے اور کبھی جماع یا غسل کے بعد بلا شہوت نکلتی ہے۔

 منی نکلنے کی صورت میں غسل واجب ہوجاتا ہے جب کہ مذی یا ودی نکلنے کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتاہے، ان دونوں سے غسل فرض نہیں ہوتا، البتہ ان کے خروج کے بعد  نماز و دیگر عبادات، جیسے قرآن مجیدکو ہاتھ لگاکر پکڑنے وغیرہ کے لیے وضو کرنا ضروری ہوتا ہے۔

منی، مذی اور ودی تینوں نجاستِ غلیظہ ہیں، لہٰذا اگر یہ کپڑوں کو لگ جائیں تو کپڑے ناپاک ہو جائیں گے۔

مراقي الفلاح میں ہے:

"المني: وهو ماء أبيض ثخين ينكسر الذكر بخروجه يشبه رائحة الطلع ومني المرأة رقيق أصفر."

( ‌‌كتاب الطهارة، باب في الغسل، ص:42، ط:المكتبة العصرية)

حاشية الطحطاوی علی المراقي میں ہے:

"منها مذي بفتح الميم وسكون الدال المعجمة وكسرها وهو ماء أبيض رقيق يخرج عند شهوة لا بشهوة ولا دفق ولا يعقبه فتور وربما لا يحس بخروجه وهو أغلب في النساء من الرجال.....

"و" منها "ودي" بإسكان الدال المهملة وتخفيف الياء وهو ماء أبيض كدر ثخين لا رائحة له يعقب البول وقد يسبقه أجمع العلماء على أنه لا يجب الغسل بخروج المذي والودي".

(کتاب الطھارۃ، فصل عشرة أشياء لا يغتسل منها، ص:100، ط:دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وهي نوعان (الأول) المغلظة وعفي منها قدر الدرهم واختلفت الروايات فيه والصحيح أن يعتبر بالوزن في النجاسة المتجسدة وهو أن يكون وزنه قدر الدرهم الكبير المثقال وبالمساحة في غيرها وهو قدر عرض الكف....

كل ما يخرج من بدن الإنسان مما يوجب خروجه الوضوء أو الغسل فهو مغلظ كالغائط والبول والمني والمذي والودي والقيح والصديد والقيء إذا ملأ الفم. كذا في البحر الرائق."

(کتاب الطھارۃ، باب سابع، فصل ثان، ج:1، ص:45، ط:دار الفکر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144707102000

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں