
ایک شخص نے اپنی نابالغ بیٹی کی منگنی نکاح پڑھائے بغیر کرلی۔ ابھی جب لڑکا لڑکی جوان ہوئے، تو لڑکی اپنے منگیتر سے نکاح سے منکر ہے، اور دوسری جگہ نکاح کرنا چاہتی ہے۔اس کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ یعنی کیا لڑکی کو مجبور کیا جاسکتا ہے؟
واضح رہے کہ خطبہ اور منگنی وعدۂ نکاح ہے، لیکن یہ کوئی شخصی وعدہ نہیں، بلکہ دو خاندانوں کے درمیان نکاح کا ایک باہمی معاہدہ ہوتا ہے، اس لیے بغیر کسی معقول وجہ کے اسے توڑنا عہد شکنی ہے۔ البتہ اگر انکار کی کوئی شرعی یا معقول وجہ موجود ہو تو ایسی صورت میں منگنی توڑنا جائز ہے، لڑکی پر نکاح کے لیے دباؤ ڈالنا شرعاً درست نہیں ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ."
(کتاب النکاح، باب الولی،58/3، ط:سعید)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
”خطبہ اور منگنی وعدۂ نکاح ہے، اس سے نکاح منعقد نہیں ہوتا، اگرچہ مجلس خطبہ کی رسوم پوری ہوگئی ہوں، البتہ وعدہ خلافی کرنا بدون کسی عذر کے مذموم ہے، لیکن اگر مصلحت لڑکی کی دوسری جگہ نکاح کرنے میں ہے تو دوسری جگہ نکاح لڑکی مذکورہ کا جائز ہے۔“
( کتاب النکاح ، ج:7، ص: 110، ط: دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100185
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن