
حضرت مفتی صاحب ہمارے علاوقہ میں کافی عرصہ سے یہ طریقہ چلا آرہا ہے کہ منگنی کے موقع پر بھی باقاعدہ نکاح ہوجاتا ہے، یعنی گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب قبول کیا جاتا ہے اور نکاح کا پورا پراسیس کیا جاتا ہے۔ایجاب و قبول کے الفاظ یہ ہوتے ہیں: لڑکی کا وکیل کہتا ہے کہ "میں نے فلان نامی لڑکی فلاں نامی لڑکے کے نکاح میں دی "اور پھر جواب میں لڑکے کا وکیل کہتا ہے کہ " میں نے فلاں نامی لڑکی فلاں نامی لڑکے کے لیے قبول کی "۔ پھر شادی اور رخصتی کے موقع پر بھی دوبارہ تجدید نکاح ہوتا ہے، اس بارے میں چند سوالوں کے جوابات مطلوب ہیں:
۱) کیا اس طرح کرنا درست ہے؟
۲) جو صرف جائز سمجھ کر کرتے ان کے اس عمل کا کیا حکم ہے؟
۳) اور جو لازم سمجھ کر اس طرح کرتے ہیں ان کے اس عمل کا کیا حکم ہے؟ بدعت وغیر ہ کے اعتبار سے؟
۴) کیا شادی کے موقع پر دوبارہ نکاح کرنے سے نیا اور دوسرا مہر (جو منگنی کے موقع مقرر شدہ مہر کے علاوہ ہو) لازم ہوتا ہے؟
۵) شادی کے موقع پر تجدید نکاح کے استحباب پر شامی کی مذکورہ عبارت سے استدلال کرنا درست ہے؟
" ولذا استحسنوا التجديد عند الزفاف لان الغالب اظهار النفرة عند فجأة السماع(رد المحتار ، ج:۳،ص:۶،ایچ ایم سعید)"
وضاحت نمبر۱: پہلے نکاح کے بعد لڑکا اور لڑکی میاں بیوی سمجھے جاتے ہیں ۔رسم و رواج کی وجہ سے دوسرا نکاح کیا جاتا ہے۔
وضاحت نمبر ۲: نکاح کے الفاظ یوں ہوتے ہیں کہ قاضی لڑکی کے وکیل کو کہتا ہے "آپ نے اپنی لڑکی نکاح صحیح، شرعی، جزمی ، لازمی میں اتنے مہر کے ساتھ فلاں کے لڑکے کو دی ہے؟ لڑکی کا وکیل کہتا ہے کہ ہاں میں نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ دی ہےاور لڑکا کا وکیل کہتا ہے کہ مذکورہ الفاظ کے ساتھ میں نے قبول کیا ہے۔
سائل کی بیان کردہ تفصیل کے مطابق اگر واقعۃ منگنی کے موقع پر لڑکی اور لڑکے کی اجازت سے ان کے وکیل نکاح کے صریح الفاظ( یعنی قاضی کہتا ہے کہ "آپ نے اپنی لڑکی نکاح صحیح، شرعی، جزمی ، لازمی میں اتنے مہر کے ساتھ فلاں کے لڑکے کو دی ہے؟" پھر لڑکی کا وکیل کہتا ہے کہ " ہاں میں نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ دی ہے" پھر لڑکے کا وکیل کہتا ہے" مذکورہ الفاظ کے ساتھ میں نے قبول کیا ہے")سے نکاح کرتے ہیں اور نکاح کے بعد دونوں میاں بیوی بھی سمجھے جاتے ہیں صرف رخصتی نہ ہونے کی وجہ سے ان کا ملنا ملانا معیوب سمجھا جاتا ہے اور دوسرا نکاح رسم و رواج کی وجہ سے ہوتا ہے تو پھر اس پہلی مجلس میں ہی شرعا نکاح منعقد ہوجائے گا کیونکہ صریح نکاح کے الفاظ جب منگنی کی مجلس میں بھی کہیں جائیں تو اس سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے۔
اب سوالات کے جواب درج ذیل ہیں:
۱،۲،۳) سائل کی بیان کردہ تفصیل کے مطابق جب ایجاب قبول کے مذکورہ الفاظ لڑکی اور لڑکے کی اجازت سے ان کے وکیل کی طرف سے منگنی کے موقع پر ہی ادا کردیے جاتے ہیں تو پھر بعد میں دوبارہ نکاح کی کوئی حاجت نہیں ہے، کوئی دوبارہ کرتا ہے تو دوسرا نکاح لغو ہوگا ۔جب یہ عمل لغو ہے اور شرعا اس کی کوئی حاجت نہیں ہے تو اس کو رواج کے طور پر کرنا یا اس کو شرعا لازم سمجھنا درست نہیں ہے، بلکہ قابل ترک ہے۔
۴) اگر منگنی کے موقع پر کیے گئے نکاح اور بعد میں کیے گئے نکاح دونوں میں ایک ہی جتنا اور ایک ہی قسم کا مہر مقرر کیا جاتا ہے تو پھر ایک ہی مہر شوہر پر واجب ہوگا ، دوسرے نکاح سے مزید کچھ لازم نہیں ہوگا۔ اگر دوسرے نکاح میں مہر کی مقدار پڑھا دی جاتی ہے تو پہلے نکاح کے ساتھ دوسرے نکاح کے مہر میں جو زیادتی ہے وہ شوہر پر لازم ہوگی، مثلا پہلے نکاح میں پچاس ہزار روپے مہر تھا اور دوسرے نکاح میں ساٹھ ہزار روپے مہر تھا تو پھر ساٹھ ہزار روپے لازم ہوں گے۔
۵) شادی کے موقع پر دوبارہ نکاح کرنے پر شامی کی اس عبارت سے استدلال کرنا درست نہیں ہے کیونکہ فقہاء نے یہ حکم اس صورت کے لیے لکھا ہے جب لڑکی اجازت کے بغیر اس کا نکاح کرادیا گیا ہو اور نکاح کے بعد اس کو نکاح کی خبر دی گئی ہو ، اس صورت میں چونکہ غالب امکان ہے کہ اچانک سے نکاح کا سن کر لڑکی نے نفرت کا اظہار کیا ہو اور اس نفرت کے اظہار کرتے ہی جونکاح موقوف تھا باطل ہوگیا ہو لہذا اس غالب امکان کی وجہ سے تجدید کرنا مستحسن ہے۔ ہماری صورت تو وہ ہے جس میں لڑکی اور لڑکے کی اجازت سے ان کے اولیاء ان کا نکاح کرتے ہیں، لہذا اس جزیہ سے استدلال درست نہیں ، ہاں اگر لڑکی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا جائے تو پھر تجدید مستحسن ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي الكافي: جدد النكاح بزيادة ألف لزمه ألفان على الظاهر»
(قوله وفي الكافي إلخ) حاصل عبارة الكافي: تزوجها في السر بألف ثم في العلانية بألفين ظاهر المنصوص في الأصل أنه يلزم الألفان ويكون زيادة في المهر. وعند أبي يوسف المهر هو الأول لأن العقد الثاني لغو. فيلغو ما فيه. وعند الإمام أن الثاني وإن لغا لا يلغو ما فيه من الزيادة، كمن قال لعبده الأكبر سنا منه هذا ابني لما لغا عندهما لم يعتق العبد. وعنده إن لغا في حكم النسب يعتبر في حق العتق كذا في المبسوط. اهـ. وذكر في الفتح أن هذا إذا لم يشهدا على أن الثاني هزل وإلا فلا خلاف في اعتبار الأول، فلو ادعى الهزل لم يقبل بلا بينة ثم ذكر أن بعضهم اعتبر ما في العقد الثاني فقط بناء على أن المقصود تغيير الأول إلى الثاني، وبعضهم أوجب كلا المهرين لأن الأول ثبت ثبوتا لا مرد له والثاني زيادة عليه فيجب بكماله. ثم ذكر أن قاضي خان أفتى بأنه لا يجب بالعقد الثاني شيء ما لم يقصد به الزيادة في المهر، ثم وفق بينه وبين إطلاق الجمهور اللزوم بحمل كلامه على أنه لا يلزم عند الله تعالى في نفس الأمر إلا بقصد الزيادة وإن لزم في حكم الحاكم لأنه يؤاخذه بظاهر لفظه إلا أن يشهد على الهزل، وأطال الكلام فراجعه:أقول: وبقي ما إذا جدد بمثل المهر الأول، ومقتضى ما مر من القول باعتبار تغيير الأول إلى الثاني أنه لا يجب بالثاني شيء هنا إذ لا زيادة فيه، وعلى القول الثاني يجب المهران.
[تنبيه] في القنية: جدد للحلال نكاحا بمهر يلزم إن جدده لأجل الزيادة لا احتياطا اهـ أي لو جدده لأجل الاحتياط لا تلزمه الزيادة بلا نزاع كما في البزازية. وينبغي أن يحمل على ما إذا صدقته الزوجة أو أشهد، وإلا فلا يصدق في إرادته الاحتياط كما مر عن الجمهور، أو يحمل على ما عند الله تعالى وسيأتي تمام الكلام على مسألة مهر السر والعلانية في آخر هذا الباب."
(کتاب النکاح، با ب المہر، ج:۳،ص:۱۱۲، ایچ ایم سعید)
فتح القدیر میں ہے:
"وعلى هذا فرعوا أنه لو استأذنها في معين فردت ثم زوجها منه فسكتت جاز على الأصح، بخلاف ما لو بلغها فردت ثم قالت رضيت حيث لا يجوز؛ لأن العقد بطل بالرد فالرضا بعد ذلك بعقد مفسوخ، ولذا استحسنوا التجديد عند الزفاف فيما إذا زوج قبل الاستئذان، إذ غالب حالهن إظهار النفرة عند فجأة السماع."
(کتاب النکاح،باب الاولیاء و الاکفاء،ج:۳،ص:۲۶۸،شركة مكتبة ومطبعة مصفى البابي الحلبي وأولاده بمصر)
امداد الاحکام میں ہے:
"پس صورت مسئولہ میں نکاح ثانی تو لغو ہے لیکن چونکہ اس سے مقصود محض زیادت مہر تھی اس لیے مہر وہی واجب ہوگا جو دوبارہ مقرر کیا گیا ہے کیونکہ زید زوج نے اس کو برضا منظور کیا ہے اس پر اکراہ شرعی کا تحقق نہیں ہوا اور گو ماموں اس صورت میں ولی نہ تھا مگر اول تو اس نے والدعابدہ کو اپنے ساتھ متفق کر کے ایسا کیا ہے اور دوسرے مدار تو زوج کے منظور کرنے پر ہے جب اس نے دوسرے نکاح کے مہر کو منظور کر لیا تو اس کی طرف سے زیادت فی المہر کا تحقق ہوگیا پس اگر زوجہ مسماۃ عابدہ نے بھی اس زیادت کو قبول کرلیا ہو یعنی اس کو دوسرے نکاح کی مہر زائد ہونے کی اطلاع ہوئی ہو اور اس پر اس نے سکوت کیا اور نکاح ثانی سے انکار نہیں کیا تو یہ مہر لازم ہوگیا جو دخول یا خلوت سے مؤکد بھی ہوگیا اور اگر اس کو اطلاع نہیں ہوئی تو سوال دوبارہ کیا جائے۔الخ"
(کتاب النکاح، فصل فی الجہاز و المہر، ج:۲،ص:۳۶۷،مکتبہ دار العلوم کراچی)
کفایت المفتی میں ہے:
"منگنی کی جو مجلسیں منعقد کی جاتی ہیں وہ صرف رشتہ اور ناطہ مقرر کرنے کے لئے کی جاتی ہیں ۔ اس میں جو الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں وہ وعدہ کی حد تک رہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ منگنی کی مجلس کے بعد فریقین بھی اس کو نکاح قرار نہیں دیتے بلکہ اس کے بعد نکاح کی مجلس منعقد کی جاتی ہے اور نکاح پڑھایا جاتا ہے اس لئے ان مجالس کے الفاظ میں عرف یہی ہے کہ وہ بقصد وعدہ کہے جاتے ہیں نہ بقصد نکاح ۔ ورنہ نکاح کے بعد پھر مجلس نکاح منعقد کرنے کے لئے کوئی معنی نہیں ۔ نیز منگنی کی مجلس کے بعد منکوحہ سے اگر زوج تعلقات زن شوئی کا مطالبہ کرے تو کوئی بھی اس کے لئے آمادہ نہیں ہوتا بلکہ کہتے ہیں کہ نکاح تو ہوا ہی نہیں ۔ عورت کو مرد کے پاس کیسے بھیج دیا جائے، بہر حال منگنی کی مجلس وعدے کی مجلس ہے اس کے الفاظ سب وعدہ پر محمول ہوں گے ۔ کیونکہ عرف یہی ہے ۔ لہذا اس کو نکاح قرار دینا درست نہیں۔
البتہ اگر منگنی کی مجلس میں صریح لفظ نکاح استعمال کیا جائے ۔ مثلا ً زوج یا اس کا ولی یوں کہے کہ اپنی لڑکی کا نکاح میرے ساتھ کر دو اور ولی زوجہ کہے کہ میں نے اپنی لڑکی کا نکاح تیرے ساتھ کر دیا تو نکاح ہوجائے گا ۔ لأن الصریح یفوق الدلالة."
(کتاب النکاح،ج:5،ص:49،ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144612100241
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن