
میں نے اپنے بیٹے کے لئے اپنی بھتیجی کا رشتہ مانگا، اس وقت میرے والد حیات تھے، سارا اختیار ان کا تھا، انہوں نے کہا ٹھیک ہے، پھر ایک مجلس منعقد ہوئی، جس میں میرے والد بذات خود اور میرے بھائی یعنی لڑکی کےوالد اور لڑکی سب مجلس میں موجود تھے، پھر اس لڑکی کو اس مجلس میں سونے کی انگوٹھی پہنائی گئی، اور منگنی کا پروگرام ہوا ،لیکن مستقل نکاح نہیں ہو ا ہے، یعنی ایجاب وقبول نہیں ہوا ہے۔نیز اس سے پہلے لڑکی اور لڑکے سے کسی موقع پر اس رشتہ سے متعلق پوچھا گیا تو دونوں نے اس رشتہ پر رضامندی ظاہر کی تھی ۔
1:اب سوال یہ ہے کہ جس مجلس میں لڑکی خود موجود تھی، جو کہ بالغہ ہے، ان کے دادا اور والد بھی موجود تھے، اور میرے بھائی نے اپنی بیٹی میرے بیٹے کو دی تو کیا اس طریقہ سےنکاح ہو ا یا نہیں ؟
اس پروگرام کے چند سال بعد ابھی شادی نہیں ہوئی تھی کہ وہ لڑکی کالج سے کسی دور دراز کے لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی اور انہوں نے شادی کرلی ۔
2: ایسا نکاح جو والدین کی اجازت کےبغیر ہو اور بھاگ کر ہو جس میں خاندان کی بے عزتی ہو یہ شریعت میں جائز ہے ؟
3 :ہم لڑکی اور لڑکے کا پتہ معلوم کرکے ان کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، کیا ہمارے لئے ان کو قتل کرنا جائز ہے ؟کیا اس سے ہماری آخرت میں پکڑ ہوگی ؟
4:اگر ان کا قتل جائز نہیں ہے اور یہ حکومت سے جاکر اپنا فیصلہ کرالیں تو اس صورت میں تو لو گوں کی عزتیں پامال ہوتی رہیں گیں تو اس صورت میں کیا حکم ہے ؟
1۔فراہم کردہ معلومات کے مطابق چونکہ مذکورہ مجلس منگنی کی تھی ،نکاح کا ایجاب وقبول نہیں کیا تھا ،اس سے سائل کے بیٹے اور سائل کی مذکورہ بھتیجی کا نکاح نہیں ہواتھا،منگنی کے باوجود مذکورہ دونوں افراد ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہیں ۔
2۔والدین کی اجازت کے بغیر بھاگ کر نکاح کرنا یہ انتہائی نا مناسب عمل ہے، تاہم اگر لڑکی نے کسی ایسے لڑکے سے نکا ح کیا ہو جو اس کا کفو ہے، تو یہ نکاح درست ہے، اور اولیاء کو کسی قسم کے اعتراض کا حق نہیں ہوگا ،البتہ اگر یہ نکاح غیر کفو میں ہوا ہو، تو اس صورت میں لڑکی کے اولیاء کو اس کے ماں بننے سے پہلے تک بذریعہ عدالت نکاح کے ختم کروانے کاحق ہوگا ۔
3۔مسئولہ صورت میں سائل اور اس کے خاندان کے دیگر افراد کے لئے مذکورہ لڑکی اور اس کے شوہر کو قتل کرنا حرام ہے، ایساقتل قتل عمد کے قبیل سے ہے، جوکہ گناہ کبیرہ وموجب قصاص ہے، اور آخرت کی دائمی رسوائی کا باعث ہے ،لہذا ہر گز قتل جیسے گھناؤنےگناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے ۔
4۔مذکورہ لڑکی نے چونکہ نکاح کیا ہے ،زنا نہیں کیا ہے، لہذا یا تو اس کے اس عمل سے درگزر کرکے اس نکاح کو قبول کیا جائے ۔یا وہ دونوں جہاں رہنا چاہیں ان کو ان کے حال پر رینے دیاجائے ، قتل کرنا یا از خود کوئی سزا دینا جائز نہیں ہے ۔
قرآن مجید اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد ہے :
﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا ﴾ [النساء: 93]
ترجمہ :"اور جو شخص کسی مسلمان کو قصدا قتل کرڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ کو اس میں رہنا ہے اور اس پر الله تعالیٰ غضبناک ہونگے اس کو اپنی رحمت سے دور کردینگے اور اس کے لیے بڑی سزا کا سامان کریں گے"(بیان القرآن )
صحيح البخاري میں ہے :
"عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يحل دم امرئ مسلم، يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، إلا بإحدى ثلاث: النفس بالنفس، والثيب الزاني، والمارق من الدين التارك الجماعة»."
(كتاب الديات، ج:6، ص: 122، ط:دار الكمال المتحدة )
"کسی مسلمان آدمی کا خون بہانا (قتل کرنا) جائز نہیں، جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں مگر تین صورتوں میں:جان کے بدلے جان (قتل کے بدلے قصاص)،شادی شدہ زانی (جس پر حدِ رجم واجب ہو)،وہ شخص جو دین سے نکل جائے اور مسلمانوں کی جماعت چھوڑ دے (یعنی مرتد ہو جائے)۔"
بدائع الصنائع میں ہے :
"وأما ركن النكاح فهو الإيجاب والقبول.وذلك بألفاظ مخصوصة، أو ما يقوم مقام اللفظ."
(كتاب النكاح ،ج: 2، ص: 229، ط:دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي)، والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه، وما لا فلا".
( کتاب النکاح ، باب الولی، ج: 3، ص: 55، ط: سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وفي قول محمد وأبي يوسف الآخر الولاية عليها ولاية مشتركة۔۔۔۔وعلى هذا يبنى الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلا بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض."
(کتاب النکاح، فصل ولایة الندب والاستحباب فی النکاح، ج: 2، ص:247، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100830
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن