
اگر کسی لڑکی کے ولی (سرپرست) کی طرف سے صرف رشتہ یعنی خِطبہ (منگنی) قبول کیا گیا ہو، اور شرعی نکاح باقاعدہ طور پر نہ کیا گیا ہو، صرف مٹھائی تقسیم کی گئی ہو اور خوشی میں ہوائی فائرنگ (بندوق چلانا) کی گئی ہو یعنی شرعاً نکاح کا ایجاب و قبول، گواہوں کی موجودگی میں نہ ہوا ہو، اب اگر وہ لڑکا، جس کے ساتھ اس لڑکی کی منگنی ہوئی تھی، نکاح یعنی شادی اور رخصتی سے پہلے ہی وفات پا جائے، تو:
1. کیا اس لڑکی کو اس لڑکے کی وراثت میں حصہ ملے گا؟
2. کیا اس لڑکی پر عدتِ وفات واجب ہوگی؟
3. کیا اس لڑکی کے لیے حق مہر ثابت ہوگا؟
شرعی دلائل کی روشنی میں وضاحت فرما دیں، عین نوازش ہوگی۔
واضح رہے کہ منگنی کی شرعی حیثیت وعدہ نکاح کی ہے، اور وعدہ نکاح (منگنی) پر حقیقی نکاح کے احکامات جاری نہیں ہوتے۔
لہٰذاصورتِ مسئولہ میں لڑکی کونہ تو لڑکے کی میراث میں حصہ ملے گا، نہ ہی اس پر عدت وفات لازم ہوگی، اور نہ ہی لڑکی کے لیے مہر ثابت ہوگا؛ کیوں کہ مذکورہ لڑکی شرعی طور پر مرحوم کی بیوی نہیں تھی ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"قال في شرح الطحاوي: لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح."
(كتاب النكاح، ج:3، ص:11، ط: سعيد)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"هي انتظار مدة معلومة يلزم المرأة بعد زوال النكاح حقيقة أو شبهة المتأكد بالدخول أو الموت كذا في شرح النقاية للبرجندي. رجل تزوج امرأة نكاحا جائزا فطلقها بعد الدخول أو بعد الخلوة الصحيحة كان عليها العدة كذا في فتاوى قاضي خان."
(کتاب الطلاق،الباب الثالث عشر في العدة، ج:1، ص:526، ط: رشیدیة)
وفیه ایضا:
"ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء."
(کتاب الفرائض،الباب الثاني في ذوي الفروض، ج:6، ص:447، ط: رشیدیة)
کفایت المفتی میں ہے:
’’(سوال)مضافات پشاور اور ماورائے سرحد میں یہ عام بات ہے کہ ایک شخص نے کسی کے ہاں اپنے لڑکے کے واسطے نکاح کے لئے بات چیت کی اور لڑکے والے کچھ زیور، کپڑے، مٹھائی لڑکی والوں کے پاس لے جاتے ہیں ۔ اگر لڑکی والے اشیائے مذکورہ لے لیں تو پٹھانوں کے رواج میں یہ بات پکی ہوگئی جس کو ان کی اصطلاح میں کوجدن (منگنی) کہتے ہیں ۔ لڑکی کا ولی تین چار آدمیوں کے سامنے اقرار کر کے کہتا ہے کہ میں نے لڑکی اس لڑکے کو دے دی۔ لڑکا لڑکی کے گھر میں آتا رہتا ہے۔ اس کے بعد اگر لڑکی کا ولی منگنی سے انکار کر کے لڑکی کا نکاح دوسری جگہ کر دے تو شرعاً جائز ہے یا نہیں۔ واضح رہے کہ اس منگنی میں خطبہ مسنونہ اورمہر وغیرہ کچھ نہ تھا ۔ صرف بات ٹھہرائی گئی تھی۔ یہاں کا طبقہ صوفیان اس کو نکاح ٹھہراتے ہیں۔
(جواب )یہ نکاح نہیں ہے ۔ وعدہ نکاح ہے ۔ اگر اس کے بعد بلا وجہ معقول لڑکی والا لڑکی کو دوسری جگہ بیاہ دے تو وعدہ خلافی کا مجرم ہوگا۔مگر دوسری جگہ نکاح درست ہوجائے گا۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ‘‘
(كتاب النكاح، دوسرا باب منگني، ج:5،ص:48، ط:دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100268
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن