
میری بیٹی کی منگنی ہوئی ، اس کے بعد انہوں نے میری بیٹی کی دعوت کی ،تو اس موقع پر میری بیٹی کو کچھ تحائف دیے،ان میں سے ہم نے اکثر استعمال کرلیے ،اس کے بعد انہوں میری بیٹی کو کسی کام کے لیے بلایا تو ہم نے انکار کیا ،تو اس کے بعد انہوں کہا کہ ہم رشتہ نہیں کرتے ہیں ،اور ہم نے جو تحائف آپ لوگوں کودیے وہ واپس کردو !
اب سوال یہ ہے کہ وہ ہم سے ان تحائف کا مطالبہ کرسکتے ہیں ؟میں ان کو وہ تحائف واپس کر دوں ؟یہ رشتہ انہوں نے خود توڑ ا ہے تووہ گناہ گار ہوں گے یا ہم؟
واضح رہے کہ لڑکے والوں نے منگنی کے موقع پر یا بعد میں کسی وقت اگر کوئی چیزلڑکی کو بہ طور مہر دی تھی تو نکاح نہ ہونے کی صورت میں اسے واپس لے سکتے ہیں، اگر وہ چیز باقی نہیں ہے ؛ بلکہ استعمال ہو کر ختم ہوگئی ہے تو اس کا بدل لے سکتے ہیں ؛ رہی وہ چیزیں جو بہ طور ہبہ دی گئی ہیں تو ان میں سے جو استعمال ہوکر ختم ہوگئیں وہ تو ختم ہوگئیں ؛ ان کا مطالبہ تو جائز نہیں ہے البتہ جو چیزیں باقی ہوں انھیں دونوں فریق باہمی رضامندی سے ایک دوسرے سے واپس لے سکتے ہیں ۔ اگر کوئی فریق دینے پر آمادہ نہ ہو تو دوسرا جبرنہیں کرسکتا ۔یعنی جس کو وہ اشیاءدی ہیں اس کی خوشی کے بغیر لینا جائز نہیں ہے ۔
نیز انہوں نے جو منگنی کے بعد رشتہ توڑا ہے وہ اگر بغیر کسی معقول عذر کے ہے، تو اس صورت میں وہ گناہ گار ہوں گے ؛کیونکہ منگنی ایک وعدہ ہے اور اس کو بلاکسی وجہ کے توڑنے سے آدمی گناہ گار ہوگا ۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے :
"وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «العائد في هبته كالكلب يعود في قيئه ليس لنا مثل السوء» . رواه البخاري"
ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اپنے ہبہ (تحفہ) کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے، اور ہمارے لیے بری مثال مناسب نہیں۔
(كتاب البيوع ،باب العطايا،ج:2،ص: 909،ط:المكتب الإسلامي ،بيروت)
فتاوی شامی ہے :
"(خطب بنت رجل وبعث إليها أشياء ولم يزوجها أبوها فما بعث للمهر يسترد عينه قائما) فقط وإن تغير بالاستعمال (أو قيمته هالكا) لأنه معاوضة ولم تتم فجاز الاسترداد (وكذا) يسترد (ما بعث هدية وهو قائم دون الهالك والمستهلك) لأنه في معنى الهبة.
(قوله لأنه في معنى الهبة) أي والهلاك والاستهلاك مانع من الرجوع بها، وعبارة البزازية لأنه هبة اهـومقتضاه أنه يشترط في استرداد القائم القضاء أو الرضا، وكذا يشترط عدم ما يمنع من الرجوع، كما لو كان ثوبا فصبغته أو خالطته."
(باب المهر،مطلب فيما يرسله إلى الزوجة،ج:3، ص: 153، ط:سعید)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"أما العوارض المانعة من الرجوع فأنواع (منها) هلاك الموهوب... (ومنها) خروج الموهوب عن ملك الموهوب له ... (ومنها) موت الواهب، . . (ومنها) الزيادة في الموهوب زيادة متصلة . . . (ومنها) أن يتغير الموهوب .. (ومنها الزوجية) (ومنها القرابة المحرمية)".
(الباب الخامس في الرجوع في الهبة وفيما يمنع عن الرجوع ما لا يمنع، ج: 4، ص: 385، ط: المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ )
فتاوٰی رحیمیہ میں ہے:
"منگنی یعنی شادی کرنے کا وعدہ اور قول و قرار اس پر دونوں جماعتوں کا قائم رہنا ضروری ہے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے"وأوفوا بالعهد إن العهد كان مسئولا"یعنی اور عہد (قول و قرار) پورے کرتے رہو، بے شک عہد کے متعلق پرسش ہونے والی ہے۔( سورۃ بنی اسرائیل )
لہذا کسی شرعی سبب کے بغیر قول و قرار سے پھر جانا اور دو سال تک امید دلا کر پھر انکار کردینا گناہ کا کام ہے، برادری کے ذمہ دار لوگوں کا فرض ہے کہ رشتہ کرنے کی پوری کو شش کریں۔"
(متفرقات نکاح،ج:8،ص:248،ط:دار الاشاعت)
فقط و اللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101802
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن