
اگر کوئی شخص اپنی منگیتر سے یہ کہے کہ"تم میری ماں جیسی ہو"اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ میری ماں کی طرح خیال رکھنے والی ہے، تو کیا ایسی بات کہنے کے بعد اس شخص کا اپنی منگیتر سے نکاح ہو سکتا ہے؟ اور اگر کوئی شخص نکاح کے بعد اپنی بیوی سے یہ کہے کہ ’’تم میری ماں جیسی ہو‘‘، اور اس کا مطلب بھی یہی ہو کہ وہ ماں کی طرح اس کا خیال رکھتی ہے، تو کیا اس جملے سے طلاق واقع ہو جائے گی؟ اسی طرح کبھی کبھی کوئی شخص بحث کے دوران بات ختم کرنے کے لیے بیوی سے کہہ دیتا ہے: ’’اچھا میری ماں‘‘تو کیا ایسے جملے نکاح پر کوئی اثر ڈالتے ہیں؟
منگنی نکاح کا وعدہ ہے ، نکاح نہیں ہے، اور نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوتے ہیں، اس لیے منگیتر کو "تم میری ماں جیسی ہو" بول دینے سے آئندہ ہونے والے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
البتہ نکاح ہونے کے بعد بیوی کو کہنا کہ" تم میری ماں جیسی ہو "اور نیت یہ ہو کہ وہ ماں کی طرح اس کا خیال رکھتی ہے ، یا جھگڑا ختم کرنے کے لیے بیوی کو " اچھا میری ماں " کہنا تو ان الفاظ سے بھی طلاق واقع نہیں ہوگی ،تاہم اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے بچنا چاہیے ۔
فتاوی شامی میں ہے :
"(وإن نوى بأنت علي مثل أمي) ، أو كأمي، وكذا لو حذف علي خانية (برا، أو ظهارا، أو طلاقا صحت نيته) ووقع ما نواه لأنه كناية (وإلا) ينو شيئا، أو حذف الكاف (لغا) وتعين الأدنى أي البر، يعني الكرامة. ويكره قوله أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه.
(قوله: ويكره إلخ) جزم بالكراهة تبعا للبحر والنهر والذي في الفتح: وفي أنت أمي لا يكون مظاهرا، وينبغي أن يكون مكروها، فقد صرحوا بأن قوله لزوجته يا أخية مكروه. وفيه حديث رواه أبو داود «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - سمع رجلا يقول لامرأته يا أخية فكره ذلك ونهى عنه» ومعنى النهي قربه من لفظ التشبيه، ولولا هذا الحديث لأمكن أن يقال هو ظهار لأن التشبيه في أنت أمي أقوى منه مع ذكر الأداة، ولفظ " يا أخية " استعارة بلا شك، وهي مبنية على التشبيه، لكن الحديث أفاد كونه ليس ظهارا حيث لم يبين فيه حكما سوى الكراهة والنهي، فعلم أنه لا بد في كونه ظهارا من التصريح بأداة التشبيه شرعا، ومثله أن يقول لها يا بنتي، أو يا أختي ونحوه. اهـ"
(کتاب الطلاق، باب الظهار، ج:3، ص:470، سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144702100037
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن