بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

”منفی کمیشن“ کے نام سے ہنڈی کے ایک طریقے کا حکم


سوال

آج کل صراف/ایکسچینج والوں کے ہاں کمیشن کی دو صورتیں رائج ہیں: ایک وہ جس میں یہ لوگ کمیشن وصول کرتے ہیں، اور دوسری وہ جس میں صراف/ایکسچینج والے خود گاہک کو کچھ رقم دیتے ہیں۔

پہلی (لینے والی) صورت تو عام ہے، مثلاً اگر زید کراچی سے دبئی کو حوالہ کرے تو صراف اس حوالہ کا معاوضہ/کمیشن فی لاکھ سو روپے لیتا ہے۔

دوسری (دینے والی) صورت یہ ہے کہ بعض اوقات اسی طرح حوالہ کرنے پر صراف فی لاکھ سو روپے زید کو دیتا ہے، اور اسے ”منفی کمیشن“ کا نام دیا جاتا ہے، صراف سے پوچھنے پر وہ یہ وضاحت کرتے ہیں کہ یہ دراصل مختلف اسعار کے روزانہ نرخ (ریٹ) میں فرق کی بنیاد پر ہوتا ہے،مثلاً اگر آج روپے اور درہم کا ریٹ 51 ہو، تو صراف اسے 50 کے حساب سے شمار کرتا ہے، اس طرح جب زید کراچی میں ایک لاکھ روپے دیتا ہے، تو صراف اسے دبئی میں 100000÷50 = 2000 درہم دیتا ہے، جب کہ اصل ریٹ کے مطابق 100000÷51 = 1960 درہم بنتے ہیں، اس طرح زید کو ایک لاکھ پر تقریباً 40 درہم کا اضافی فائدہ حاصل ہوتا ہے، جو بظاہر نفع کی صورت ہے۔

لہٰذا سوال یہ ہے کہ اس دوسری صورت (منفی کمیشن) کا لینا زید کے لیے شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ حوالہ ( ہنڈی ) کے ذریعہ رقم ایک ملک سے دوسرے ملک بھیجنے کی شرعی حیثیت در حقیقت قرض کی ہے،  لہٰذا کرنسیوں کے مختلف ہونے کی صورت میں لازم ہے کہ دوسرے ملک ( جہاں قرض کی ادائیگی کرنی ہے ) ادائیگی کے وقت یا تو قرض لی ہوئی کرنسی ہی بعینہ  لوٹا دی جائے یا پھر جتنی رقم قرض لی ہے اسی کے بقدر ادائیگی یا وصولیابی کے دن کے مارکیٹ ریٹ کے حساب سےمساوی کرنسی  ادا کر  دی جائے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر زید کے مذکورہ ایک لاکھ پاکستانی روپے، دبئی میں وصولی کے دن مارکیٹ ریٹ کے مطابق 2000 درہم بنتے ہوں تو زید کے لیے 2000 درہم لینا جائز ہوگا، اگرچہ پاکستان میں ہنڈی والوں کو ادائیگی کے وقت درہم کی یہ مالیت موجود نہ تھی، البتہ دبئی میں وصولی کے دن مارکیٹ ریٹ سے کم یا زیادہ طے کر کے لین دین کرنا جائز نہیں ہوگا۔ باقی کرنسی کی مالیت کی منتقلی پر الگ سے کچھ اجرت مقرر کرکے لینا شرعاً جائز ہے۔ لیکن مذکورہ طریقہ  پر کمی بیشی کو اجرت محنت قرار نہیں دیاجاسکتا۔

تنقیح الفتاوی الحامدیة   میں ہے:

"الدیون تقضیٰ بأمثالها."

(کتاب البیوع، باب القرض،1/ 500، ط: قديمي)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"و في الأشباه: کل قرض جر نفعاً حرام."

( کتاب البیوع، فصل فی القرض، 5/ 166، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100361

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں