بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

من صلى خلف عالم تقي روایت کی تحقیق


سوال

«من صلی خلف عالم تقي فکأنما صلی خلف نبي» اس روایت کی تخریج وتحقیق اور تشریح مطلوب ہے؟

 

جواب

یہ حدیث  ، علامہ سرخسی  رحمہ اللہ نے ”المبسوط“ میں، اور  علامہ مرغینانی رحمہ اللہ نے ”الهداية “ میں نقل کی ہے، لیکن  تلاش کے با وجود ہمیں کتب حدیث کے موجودہ اور دستیاب ذخیرے میں یہ روایت  نہیں ملی، اس لیے جب تک کسی معتبر سند کے ساتھ نہ مل جائے، اسے بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

علامہ ابن الترکمانی ”التنبيه“ میں کہتے ہیں:  

«لم أره».

(التنبيه إلى أحاديث الهداية والخلاصة، تحقيق: محمد بن سيد بن عبد الفتاح درويش، دار المنهاج القويم، دمشق، رقم ٢٩٢)

حافظ زیلعی ، ”نصب الراية“ میں لکھتے ہیں:

«غريب».

(نصب الراية، تحقيق: محمد عوامة، مؤسسة الريان، بيروت، ٢/٢٦)

علامہ بدر الدین عینی ”البناية شرح الهداية“ میں کہتے ہیں:

 «هذا الحديث غريب ليس في كتب الحديث، لكن روى الطبراني ما في معناه».

(البناية شرح الهداية، تحقيق: أيمن صالح شعبان، دار الكتب العلمية، بيروت، ١٤٢٠هـ، ٢/٣٣١)

ابن الہمام ، ”فتح القدير“ میں لکھتے ہیں:

«الله سبحانه وتعالى أعلم بالحديث».

(فتح القدير، مصطفى البابي الحلبي، 1389هـ، ١/٣٤٩)

 حافظ سخاوی ، ”المقاصد الحسنة“ میں کہتے ہیں:

«لم أقفْ عليه بهذا اللفظ».

(المقاصد الحسنة، تحقيق: إحسان الله بن عبد الوهاب مبارز البدخشي، دار الميمنة، دمشق، ١٤٣٩هـ، ٣/٧٤٦)

 ملا علی قاری ”المصنوع“ میں لکھتے ہیں: 

«لا أصل له».

(المصنوع في معرفة الحديث الموضوع، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، مؤسسة الرسالة، بيروت، 1398هـ، رقم ٣٤٤، ص ١٨٦)

نیز ابن عابدین شامی بھی  ”رد المحتار“ میں لکھتے ہیں:

«قال في الحلية: ولم يجده المخرجون».

(رد المحتار، مطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر، ١٣٨٦هـ، ١/٥٦٢)

روایت کی تشریح:

بفرضِ ثبوت اس روایت کا مطلب یہ ہوگا کہ پرہیزگار عالمِ دین کے پیچھے نماز پڑھنا، نبی کی امامت میں نماز پڑھنے کی مانند ہے۔اس  روایت سے اس مسئلے کے اثبات کے لیے استدلال کیا جاتا ہے کہ نماز کی امامت میں عالمِ دین کو، قاری پر ترجیح حاصل ہوگی۔البتہ یہ ملحوظ رہے کہ متقدمین حنفی اہل علم نے اس مسئلے کے لیے مذکورہ حدیث سے استدلال نہیں کیا۔ ہماری تلاش کی حد تک امام سرخسی نے سب سے پہلے اس حدیث سے استدلال کیا ہے، جبکہ ان سے قبل فقہاء حنفیہ میں  امام محمد نے ”كتاب الآثار“ میں، نیزابوبكر جصاص رازی نے ”شرح مختصر الطحاوي“ میں، اور قدوری نے ”شرح مختصر الكرخي“ میں اس حدیث سے استدلال نہیں کیا ۔ یاد رہے کہ یہ تینوں اہلِ علم ، علم فقہ کے ساتھ ساتھ علم حدیث میں  بھی بلند  مقام کے حامل ہیں۔ نیز حنفیہ کی کتب میں متعلقہ مسئلے کے اثبات کے لیے دیگر احادیث ودلائل بھی ہیں۔

اس مسئلے میں حنفیہ کے دلائل کے لیے دیکھیے:

نصب الراية للزيلعي،تحقيق: محمد عوامة، مؤسسة الريان، بيروت، ٢/٢٦.

البناية شرح الهداية للعيني،تحقيق: أيمن صالح شعبان، دار الكتب العلمية، بيروت، ١٤٢٠هـ، ٢/٣٣١.

واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101940

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں