بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ماں کو شوہر کے گھر میں رکھنا


سوال

اگر کوئی عورت اپنی بیٹی سے مطالبہ کرے کہ اس کو اپنے گھر( یعنی سسرال میں جہاں اس کو دو کمروں کا علیحدہ پورشن ملا ہو) اپنے ساتھ ہمیشہ کے لئے رکھ لے ، لیکن ایسا کرنے سے بیٹی کے ساس نندیں اس کو اور اس کے شوہر کو پریشان کر سکتی ہیں ، دوسری بات کہ بیٹی کے شوہر کے حقوق کی ادائیگی میں بھی رکاوٹ آ سکتی ہے اور شوہر اس چیز کو ناپسند بھی کر رہا ہے ایسی صورت میں بیٹی کے لئے کیا حکم شرع ہے؟

جواب

شریعت کی رو سے شادی کے بعد عورت پر سب سے زیادہ حق اس کے شوہر کا ہوتا ہے، قرآن و سنت میں بیوی کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ شوہر کی اطاعت کرے بشرطیکہ وہ حکم شریعت کے خلاف نہ ہو، دوسری طرف والدین خصوصاً ماں کی خدمت اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک بھی اولاد پر لازم ہے، لیکن اس خدمت کا دائرہ شوہر کے حقوق پر غالب نہیں آسکتا۔

صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی ماں اپنی شادی شدہ بیٹی سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ ہمیشہ کے لیے اسے اپنے سسرال میں اپنے ساتھ رکھے، جب کہ اس کا شوہر اس پر راضی نہیں اور ماں کا مستقل رہنا گھریلو فساد، ساس و نندوں کی پریشانی اور شوہر کے حقوق کی ادائیگی میں رکاوٹ بنے، تو ایسی حالت میں بیٹی پر لازم نہیں کہ وہ ماں کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھے۔ اس صورت میں اگر بیٹی شوہر کی ناپسندیدگی کے باوجود ماں کو رکھتی ہے تو یہ شوہر کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی اور ذمہ داریوں میں کوتاہی شمار ہوگی،البتہ بیٹی کو چاہیے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق ماں کی خدمت اور کفالت کے دوسرے طریقے اختیار کرے، مثلاً خرچ دینا، وقتاً فوقتاً ساتھ رہنا، یا کسی اور مناسب انتظام کے ذریعے ماں کی ضروریات پوری کرنا۔

 حدیث مبارک میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمر أحداً أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها» . رواه الترمذي".

(مشکاۃ المصابیح، 2/281،  باب عشرۃ النساء، ط: قدیمی)

ترجمہ: ”رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ  وہ کسی (غیر اللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔“ (مظاہر حق، 3/366، ط؛  دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100420

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں