بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ممنوعہ اشیاء کی ویب سائٹس کے لئے بیک لنکس لگانے اور اسپانسرڈ لنکس کو Do-Follow بناکر لگانے کا حکم


سوال

 ہم آن لائن کام کے طور پر گیسٹ پوسٹنگ  کرتے ہیں، اس کا طریقہ یہ ہے کہ نئی ویب سائٹ والے اپنی ویب سائٹ کو گوگل پر رینک کرانے کے لیے ایک آرٹیکل لکھواتے ہیں، جس میں اپنی سائٹ کا بیک لنک شامل کرتے ہیں، اور پھر یہ آرٹیکل کسی بڑی (ہائی رینکنگ) ویب سائٹ پر پیسے دے کر شائع کرواتے ہیں، اس عمل کے بدلے فری لانسر کو کمیشن ملتا ہے، اس سلسلے میں چند امور کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:

1. کیا ہر طرح کی ویب سائٹ کے لئے بیک لنک لگانا جائز ہے یا اس میں تفصیل ہوگی؟ مثلاً: جوئے اور قمار بازی کی ویب سائٹس شراب اور منشیات سے متعلق ویب سائٹس فحاشی، عریانی یا غیر شرعی لباس و تصاویر پر مشتمل ویب سائٹس فلمز، میوزک اور اس جیسی تفریحی ویب سائٹس انشورنس سے متعلق ویب سائٹس کرپٹو کرنسی کی ویب سائٹس ،عام جائز کاروباری ویب سائٹس (جیسے کپڑے، فیشن، یا فوٹوگرافی وغیرہ)؟

2. گوگل نے لنکس کے لئے الگ الگ ٹیگ مقرر کئے ہیں،" Sponsored Link" یہ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کسی لنک کو پیسے دے کر خریدا گیا ہو، گوگل اس لنک کو بطور اشتہار دیکھتا ہے اور SEO میں زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔

"Do-Follow Link" یہ عام لنک ہوتا ہے جسے گوگل معتبر سفارش (recommendation) سمجھ کر SEO میں زیادہ اہمیت دیتا ہے،عملی طور پر ہوتا یہ ہے کہ کلائنٹ اسپانسرڈ لنک چاہتا ہے، لیکن زیادہ SEO فائدہ حاصل کرنے کے لئے وہ یہ لنک Do-Follow کی شکل میں لگواتا ہے۔ اس سے گوگل کے ساتھ بظاہر یہ دھوکہ ہوتا ہے کہ اصل میں یہ پیسے دے کر لیا گیا اسپانسرڈ لنک ہے لیکن ظاہر "Do-Follow" کیا جا رہا ہے۔ جبکہ کلائنٹ اس حقیقت کو جانتا بھی ہے اور اسی پر راضی بھی ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ: کیا یہ عمل شرعاً دھوکہ شمار ہوگا؟ یا چونکہ کلائنٹ اس پر راضی ہے اس لئے یہ معاملہ جائز ہوگا؟ ایسی صورت میں حاصل ہونے والی کمائی کا شرعی حکم کیا ہوگا؟

جواب

1۔سائل کی بیان کردہ تفصیل کے مطابق ”بیک لنک “ لگانا ویب سائٹ کی تشہیر کا ذریعہ ہوتا ہے،اور ویب سائٹ کی تشہیر کے ذریعہ ان خدمات اور ان اشیاء کی تشہیر ہوتی ہے جو اس ویب سائٹ پر مہیا کی جاتی ہے، لہٰذااگر حلال اشیاء اور جائز خدمات پر مشتمل ویب سائٹس کا”بیک لنک“ لگایا جائے ،اوراس کے عوض اجرت لی جائے تو یہ جائز ہوگا،اور آمدن حلال ہوگی ،اور اگرویب سائٹس   حرام اشیاء،غیرشرعی اورفحش مواد پرمشتمل  ہوتوپھر اس کا ”بیک لنک“ لگانا ،اور اس کے عوض اجرت لینا ناجائز ہے ،اور آمدن حلال نہیں ہوگی۔

2۔مذکورہ عمل کو"seo"زیادہ اہمیت حاصل کرنے کےلیے "اسپانسرڈلنک"کو تکنیکی تبدیلی کرکے "Do follow"لنک شمار کروانا تاکہ صارفین اس کو" Do follow"سمجھ کر قابل اعتماد سمجھیں ،اور اس لنک کےسرفہرست ہونے کی وجہ اس لنک کاکثرت ِاستعمال سمجھیں ،جبکہ حقیقت ا س کے برخلاف ہو،یہ عمل دھوکہ ہونےکی وجہ سے ناجائزہے ،یہ گوگل کے ساتھ بھی دھوکہ ہے ،اور انٹرنیٹ کے صارفین کے ساتھ بھی دھوکہ ہے،نیز اس عمل کے عوض اجرت لینا بھی ناجائز ہے ،آمدن حلال نہیں ہوگی ،تاہم کلائنٹ کے راضی ہونے کی وجہ سے حکم پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

ارشادِباری تعالیٰ ہے:

"وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلإِثمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلعِقَابِ" [المائدة: 2]      

ترجمہ:”نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔“

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"وقوله تعالى: وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى وينهاهم عن التناصر على الباطل والتعاون على المآثم والمحارم، قال ابن جرير : الإثم ترك ما أمر الله بفعله والعدوان مجاوزة ما حد الله لكم في دينكم ومجاوزة ما فرض الله عليكم في أنفسكم وفي غيركم."

(سورة المائدة، الآية:2، ج:3، ص:10، ط: دار الكتب العلمية)

صحیح مسلم  میں ہے:

"قال ابن عباس: إن رجلا أهدى لرسول الله صلى الله عليه وسلم راوية خمر. فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم هل علمت أن الله قد حرمها؟قال: لا. فسار إنسانا. فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم بم ساررته؟ فقال: أمرته ببيعها. فقال إن الذي حرم شربها حرم بيعها."

(كتاب المساقاة، باب تحريم بيع الخمر، ج:3، ص:1213، ط:دار إحياء التراث العربي)

ترجمہ:”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو شراب کا مشکیزہ ہدیہ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے (شراب کو) حرام کر دیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، پھر وہ شخص کسی دوسرے آدمی سے چپکے سے کچھ باتیں کرنے لگا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: تم نے اس سے کیا سرگوشی کی؟ اس نے کہا: میں نے اسے کہا کہ اسے (شراب کو) بیچ دوتو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس ذات نے شراب پینا حرام کیا ہے، اسی نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا ہے۔“

سنن الترمذی میں ہے:

"عن أبي هريرة؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: "يا صاحب الطعام ما هذا"؟ قال: أصابته السماء، يا رسول الله، قال: "أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس؟ " ثم قال: من غش فليس منا."

(أبواب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم،  باب ما جاء في كراهية الغش في البيوع، ج:3، ص:157، ط:دار الرسالة العالمية)

ترجمہ:”حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک غلے کے ڈھیر کے پاس سے گزرے، آپ ﷺ نے اس میں اپنا ہاتھ ڈالا تو آپ کی انگلیوں کو اندر نمی محسوس ہوئی، آپ ﷺ نے فرمایا:اے غلہ والے! یہ کیا ہے؟اس نے کہا: یا رسول اللہ! اسے بارش نے بھگو دیا تھا۔آپ ﷺ نے فرمایا: تو کیا تم نے اسے اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ دیکھ لیں؟پھر آپ ﷺ نے فرمایا: جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“

المحيط البرهانی میں ہے:

"إن ‌جواز ‌البيع ‌يدور مع حل الانتفاع، ولا يحل الانتفاع بهذه الأشياء، فلا يجوز بيعها."

(كتاب البيع، الفصل السادس فيما يجوز وما لا يجوز بيعه، ج:6، ص:349، ط:دار الكتب العلمية)

الدرالمختار مع ردالمحتار میں ہے:

"لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن ‌الغش حرام.

(قوله؛ لأن ‌الغش حرام) ذكر في البحر أو الباب بعد ذلك عن البزازية عن الفتاوى: إذا باع سلعة معيبة، عليه البيان وإن لم يبين قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته، قال الصدر لا نأخذ به. اهـ. قال في النهر: أي لا نأخذ بكونه يفسق بمجرد هذا؛ لأنه صغيرة. اهـ قلت: وفيه نظر؛ لأن ‌الغش من أكل أموال الناس بالباطل فكيف يكون صغيرة، بل الظاهر في تعليل كلام الصدر أن فعل ذلك مرة بلا إعلان لا يصير به مردود الشهادة، وإن كان كبيرة كما في شرب المسكر."

(كتاب البيوع، باب خيار العيب، ج:5، ص:47، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100972

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں