بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مالک زمین کی اجازت سے اس کی زمین پر تعمیر کرنے کا حکم


سوال

ہم لوگ ایک جگہ خریدنا چاہ رہےہیں،لیکن مالک مکان اس کو فروخت کرنے کےلیے تیار نہیں ہوتا،البتہ وہ کہتاہے کہ ہم آپ کو معمولی کرایہ پر جگہ دے دیں گے ،ہم لوگ اس جگہ میں نیچے ہسپتال اور اوپر اسکول بنانا چاہتے ہیں ،مالک مکان کہتاہے کہ آپ لوگوں کا ہسپتال اور اسکول بنانے میں جتنا خرچہ آئے گا،وہ خرچہ کرایہ داری چھوڑنے کے بعد میں  آپ کو دے دوں گا۔

وضاحت :ہم مالکِ زمین کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنی ضرورت کے مطابق اپنے لیے  تعمیر کریں گے، تعمیر مکمل ہونے کے بعد ہم مالک زمین کو زمین کا ماہانہ کرایہ باقاعدگی سے ادا کرتے رہیں گے، معاہدے کے مطابق ہمیں 35 سال تک اس جگہ میں رہنے اور اسے اسپتال یا اسکول کے طور پر استعمال کرنے کا حق حاصل ہوگا، اور اس مدت میں ہم ہر ماہ کا کرایہ مالکِ زمین کو دیتے رہیں گے۔

35 سال کی مدت پوری ہونے پر کرایہ داری کا یہ معاہدہ ختم ہو جائے گا،اس وقت مالکِ زمین کو اختیار ہوگا کہ وہ چاہے تو عمارت کی اصل تعمیراتی لاگت (تعمیر کے وقت کی لاگت) ادا کرکے وہ عمارت ہم سے خرید لےیا پھر دونوں فریق باہمی رضامندی سے نیا معاہدہ کر لیں گے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کا معاملہ کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

وضاحت :یہ مالک زمین کے ساتھ قرض کا معاملہ نہیں ،بلکہ اس کی اجازت سے ہم  اپنے پیسوں سے اپنے لیے ہی تعمیر کریں گے ۔

جواب

واضح رہے کہ  اگر ایک شخص کی مملوکہ زمین پر دوسراشخص کرایہ پر رہنے کےلیے  مالکِ زمین کی اجازت سے تعمیرکرے ،توشرعاًمالکِ زمین موجراور اور تعمیرکرنے والامستاجرہے، لہذا موجر(مالکِ زمین )کےلیے مستاجر(کرایہ پر رہنے والے)سے اپنی زمین کی اجرت لینا درست ہے، البتہ کرایہ دارنے مالکِ زمین کی اجازت سے مذکورہ زمین پر جوتعمیرکی ہے، تو شرعاًاس  تعمیر کا وہی مالک ہے، لہذا مدت مقررختم ہونے کے بعدتعمیرکرنے والے کو اپنے تعمیرہٹانے کاحق حاصل ہوگا، البتہ اگر مدتِ اجارہ ختم ہونے کے بعد وہ  مالکِ زمین  کی باہمی رضامندی سےمذکورہ تعمیرکاعوض مقرر کرکے مالکِ زمین کے حق میں دستبردارہوناچاہے تو شرعاًاس کی بھی اجازت ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیان کردہ صورت یہ ہے کہ وہ ایک شخص کی زمین کرایہ پر لے کر اُس کی اجازت سے اپنے لیے اس میں تعمیر کرے گاتو ایسی صورت میں شرعاً اُس تعمیر کا مالک سائل (مستأجر) ہی ہوگا،تعمیر کے  بعدمعاہدہ کے تحت 35 سال تک سائل اس میں رہے گا اور اس کو بطور اسکول اور ہسپتال کے استعمال کریں گے،اور  زمین کا ماہانہ کرایہ بھی  35 سال تک ادا کیا جاتا رہے گا، لہذا مدت اجارہ یعنی 35 سال ختم ہونے کے بعدتعمیرکرنے والے یعنی سائل  کو اپنے تعمیرہٹانے کاحق حاصل ہوگا، البتہ اگر مدتِ اجارہ ختم ہونے کے بعد سائل   مالکِ زمین  کی باہمی رضامندی سےمذکورہ تعمیرکاکوئی عوض مقرر کرکے مالکِ زمین کے حق میں دستبردارہوناچاہےتو شرعاًاس کی بھی اجازت ہے، تاہم پہلے سے اجارہ کو مشروط کرنا اور مالکِ زمین کوتعمیرلینے کا پابندبنانادرست نہیں ہے۔

رد المحتار على الدر المختارمیں ہے :

"تصح ‌إجارة ‌أرض (للبناء والغرس) وسائر الانتفاعات كطبخ آجر وخزف ومقيلا ومراحا حتى تلزم الأجرة بالتسليم أمكن زراعتها أم لا بحر".

(كتاب الإجارة،‌‌باب ما يجوز من الإجارة وما يكون خلافا فيها، ج:6، ص:30،ط:دار الفكر)

تكملة فتح القدير میں ہے :

"(وإذا ‌استعار ‌أرضا ‌ليبني فيها أو ليغرس فيها جاز وللمعير أن يرجع فيها ويكلفه قلع البناء والغرس) أما الرجوع فلما بينا، وأما الجواز فلأنها منفعة معلومة تملك بالإجارة فكذا بالإعارة."

(‌‌كتاب العارية،ج:9،ص: 14،ط؛دار الفكر)

الدرالمختار میں ہے :

"استعار ‌أرضا ‌ليبني ويسكن وإذا خرج فالبناء للمالك فللمالك أجر مثلها مقدار السكنى، والبناء للمستعير لأن الإعارة تمليك بلا عوض فكانت إجارة معنى".

( ‌‌كتاب العارية،ج:5،ص:686،ص:دار الفكر)

تنقيح الفتاوی الحامدیۃ میں ہے:

''(سئل) فيما إذا كان لهند وبنتها دار مشتركة بينهما فعمر زوج هند في الدار بيوتا بدون إذن منهما ولا وجه شرعي، ورفع العمارة لا يضر بالدار فهل تكون العمارة للمعمر ويؤمر بالتفريغ بطلبهما؟(الجواب) : نعم، ذكر في كتاب الحيطان من العدة: كل من بنى في دار غيره بأمره يكون البناء للآمر، وإن بنى بغير أمره يكون له وله أن يرفعه إلا أن يضر بالبناء فحينئذ يمنع يعني إذا بنى لنفسه بدون أمر، أما إذا بنى لرب الأرض بدون الأمر ينبغي أن يكون متطوعا عمادية من أحكام العمارة في ملك الغير.''

(‌‌كتاب الحيطان وما يحدث الرجل في الطريق وما يتضرر به الجيران ونحو ذلك،ج:2،ص:274،ط:دارالمعرفۃ)

الدر مع الرد میں ہے :

"(عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها).

(قوله عمر دار زوجته إلخ) على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها جامع الفصولين، وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له، وله رفعه إلا أن يضر بالبناء، فيمنع ولو بنى لرب الأرض، بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعا كما مر (قوله فالعمارة له) ‌هذا ‌لو ‌الآلة ‌كلها ‌له ‌فلو ‌بعضها ‌له ‌وبعضها ‌لها فهي بينهما".

(مسائل شتى، ج:6،ص:747،ط:دار الفكر)

فقط وللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100197

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں