
میں ایک پائپ مینوفیکچرنگ کمپنی کا مالک ہوں اور کراچی میں میرے مختلف پائپ ڈیلرز ہیں، جنہیں میں اپنی مقررہ قیمتوں پر مختلف شرح سے ڈسکاؤنٹ دیتا ہوں، ایک ڈیلر ایسا ہے، جسے ہم حالات اور کاروباری نوعیت کے مطابق کبھی 25٪ اور کبھی 27٪ ڈسکاؤنٹ دیتے رہے ہیں، لیکن کچھ عرصے بعد اس ڈیلر نے بغیر ہماری اجازت اور کسی تحریری یا زبانی معاہدے کے خود بخود اپنا ڈسکاؤنٹ 35٪ کرنا شروع کر دیا۔
ان کا مؤقف یہ ہے کہ ہماری کمپنی کے ایک نمائندے نے ان سے یہ کہا تھا کہ آئندہ انہیں زیادہ ڈسکاؤنٹ دیا جائے گا، جبکہ ہمارے اس نمائندے نے اس بات کی صاف اور صریح تردید کی ہے کہ اس نے نہ کوئی وعدہ کیا تھا اور نہ ہی کسی قسم کی کمیٹمنٹ دی تھی،معاملے کو خوش اسلوبی سے نمٹانے کے لیے ہم نے یہ طے کیا کہ آج کی تاریخ تک جتنا مال وہ لے چکے ہیں، اس پر وقتی طور پر ان کا بڑھایا ہوا 35% ڈسکاؤنٹ تسلیم کر لیا جائے، لیکن اس کے بعد آنے والے تمام مال پر صرف وہی ڈسکاؤنٹ لاگو ہوگا، جو کمپنی کی طرف سے باقاعدہ طور پر طے کیا جائے گا، اس کے باوجود وہ اس فیصلے کے بعد بھی خریدے گئے مال پر 35٪ ڈسکاؤنٹ کاٹ رہے ہیں۔
مزید برآں اس ڈیلر کی طرف ہماری کمپنی کے چار لاکھ اکہتر ہزار پانچ سو انیس روپے (471,519 روپے) واجب الادا ہیں، لیکن وہ یہ کہتا ہے کہ وہ اس رقم میں سے صرف ستاون ہزار روپے (57,000 روپے) ہی ادا کرے گا، اور بقیہ رقم مختلف کٹوتیوں اور مبینہ بونس کے نام پر دینے سے انکار کر رہا ہے، اور وہ ہم سے بونس کا مطالبہ بھی کر رہا ہے اور اسی بنیاد پر اپنی واجب الادا رقم میں سے خود سے کٹوتی کر رہا ہے، حالانکہ موجودہ مارکیٹ کی صورتحال کے باعث کمپنی کسی بھی قسم کا بونس دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی، اور نہ ہی ہم نے اسے کبھی کسی بونس کا وعدہ کیا تھا۔
اس طرزِ عمل سے ہمارے لیے یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دینداری میں لین دین، وعدوں کی پابندی اور لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کی کوئی اہمیت نہیں؟ کیا شریعتِ مطہرہ میں صرف عبادات (نماز، روزہ وغیرہ) ہی مطلوب ہیں یا معاملات اور مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی بھی دین کا لازمی اور بنیادی حصہ ہے؟
کیا شرعاً کسی ڈیلر کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ بغیر واضح معاہدے اور مالک کی اجازت کے خود سے ڈسکاؤنٹ کی شرح بڑھا لے؟
کیا اس کے لیے جائز ہے کہ وہ واجب الادا رقم میں سے زبردستی بونس کے نام پر کٹوتی کرے، جبکہ نہ بونس کا وعدہ کیا گیا ہو اور نہ ہی کمپنی اس پر رضامند ہو؟
کیا واجب الادا رقم ادا نہ کرنا، اپنی مرضی سے رقم مقرر کرنا، اور اصل رقم روک لینا شرعاً ظلم اور حق تلفی کے زمرے میں آتا ہے؟
ایسی صورتِ حال میں فریقین کے لیے شرعی طور پر درست اور واجب طریقۂ کار کیا ہے؟
1۔واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے حقوق العباد کو اپنے حقوق کی نسبت زیادہ اہمیت دی ہے،عوام میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ گویا حقوق اللہ کو حقوق العباد پر برتری حاصل ہے، اسی وجہ سے لوگ نماز اور روزہ کا کچھ اہتمام کر لیتے ہیں، لیکن حقوق العباد کی پاسداری نہیں کرتے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے سے عدل و احسان ختم ہوجاتا ہے اور نفاق، انتشار اور بے اطمینانی جنم لیتے ہیں، حقوق اللہ میں کوتاہی کے گناہ تو ممکن ہے اللہ تعالیٰ جو رحیم و کریم ہیں، توبۃ النصوح کے ذریعے معاف فرما دیں، لیکن حقوق العباد کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی کی اُمید نہیں، کیونکہ بندے کا حق تو بندہ ہی معاف کر سکتا ہے۔
لہذا یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ معاملات اور مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی بھی دین کا لازمی اور بنیادی حصہ ہے۔
2۔کسی ڈیلر کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مالک کی اجازت کے بغیر ڈسکاؤنٹ کی شرح بڑھا لے۔
3۔اس کے لیے واجب الادا رقم میں سے کمپنی کی رضامندی اور بغیر بونس کے وعدہ کے بونس کے نام پر کٹوتی کرنا شرعا کسی کا مال غصب کرنے کے حکم میں ہے، جو کہ ناجائز ہے۔
4۔ اپنے ذمہ واجب الادا رقم ادا نہ شرعاً کسی کا حق کھانا ہے، جس کا آخرت میں حساب دینا ہو گا۔
5۔ اس صورت میں فریقین کے لیے یہ لازم ہے کہ جس کے ذمہ واجب الاد رقوم ہیں اگر وہ فوری طور پر ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو وہ ادا کرے، البتہ اگر فوری طور پر ادا کرنے کے گنجائش نہ ہو تو مالک کو چاہیے کہ وہ اس کو مہلت دے تاکہ وہ آہستہ آہستہ اپنے ذمہ میں تمام رقوم اور حقوق ادا کرے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وقال: لا يجوز بيعه بنقصان لا يتغابن الناس فيه ولا يجوز إلا بالدراهم والدنانير كذا في الهداية. ويفتى بقولهما في مسألة بيع الوكيل بما عز وهان وبأي ثمن كان كذا في الوجيز للكردري،والخلاف في الوكالة المطلقة أما إذا قال الموكل بعه بألف أو بمائة لا يجوز أن ينقص بالإجماع كذا في السراج الوهاج."
(کتاب الوکالۃ ج نمبر ۳ ص نمبر ۵۸۸،دار الفکر)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما) : الوكيل بالبيع فالتوكيل بالبيع لا يخلو إما أن يكون مطلقا، وإما أن يكون مقيدا، فإن كان مقيدا يراعى فيه القيد بالإجماع، حتى إنه إذا خالف قيده لا ينفذ على الموكل ولكن يتوقف على إجازته إلا أن يكون خلافه إلى خير لما مر أن الوكيل يتصرف بولاية مستفادة من قبل الموكل، فيلي من التصرف قدر ما ولاه، وإن كان الخلاف إلى خير فإنما نفذ؛ لأنه إن كان خلافا صورة فهو وفاق معنى؛ لأنه آمر به دلالة فكان متصرفا بتولية الموكل، فنفذ بيان هذه الجملة إذا قال: بع عبدي هذا بألف درهم فباعه بأقل من الألف لا ينفذ، وكذا إذا باعه بغير الدراهم، لا ينفذ، وإن كانت قيمته أكثر من ألف درهم؛ لأنه خلاف إلى شر؛ لأن أغراض الناس تختلف باختلاف الأجناس فكان في معنى الخلاف إلى شر وإن باعه بأكثر من ألف درهم نفذ؛ لأنه خلاف إلى خير، فلم يكن خلافا أصلا، وكذلك على هذا لو وكله بالبيع بألف درهم حالة فباعه بألف نسيئة لم ينفذ بل يتوقف لما قلنا، وإن وكله بأن يبيعه بألف - درهم نسيئة، فباعه بألف حالة نفذ لما قلنا، وإن وكله بأن يبيع ويشترط الخيار للآمر، فباعه ولم يشترط الخيار، لم يجز، بل يتوقف.
ولو باع وشرط الخيار للآمر ليس له أن يجيز؛ لأنه لو ملك الإجازة بنفسه لم يكن للتقييد فائدة، هذا إذا كان التوكيل بالبيع مقيدا.
فأما: إذا كان مطلقا فيراعى فيه الإطلاق عند أبي حنيفة، فيملك البيع بالقليل والكثير، وعندهما لا يملك البيع إلا بما يتغابن الناس في مثله، وروى الحسن عن أبي حنيفة مثل قولهما»."
(کتاب الوکالۃ ج نمبر ۶ ص نمبر ۲۷،دار الکتب العلمیۃ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101341
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن