بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مالک نصاب مقروض پرقربانی کا وجوب و عدم وجوب


سوال

مالک نصاب اگر مقروض ہو تو کیا اس پر قربانی واجب ہوگی ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی ہے یا ساڑھے سات تولہ سونا ہے ، یا کچھ سونا اور کچھ چاندی جس کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچتی ہو ، یا اس کے پاس صرف اتنی نقدی ہے جو ساڑھے باون تولہ کی مالیت کے  برابر ہو ، یا اس کے پاس صرف سامان تجارت ہے جس کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچتی ہو ، یا اس کےپاس کچھ سونا ، کچھ چاندی ، کچھ نقدی ، کچھ سامان تجارت موجود ہوجس کو ملا کر اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کو پہنچے نیز وہ اتنا مقروض  بھی نہیں کہ اگر قرض کی رقم اس کے پاس موجود مال سے منہا کردی جاۓ تو اس کے پاس مال  درج بالا نصاب سے کم ہو کر رہ جاۓ  تب تو ایسی صورت میں اس پر قربانی لازم ہوگی ، تاہم اگر اس پر اتنا قرضہ ہے کہ اگر قرضہ کی  رقم کو اس کے پاس موجود مال سے منھا کردیا جاۓ تو  درج بالا نصاب کے  بقدر مال اس کے پا س موجود نہ رہے تو ایسی صورت میں ا س پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو كان عليه دين بحيث لو صرف فيه نقص نصابه لا تجب، وكذا لو كان له مال غائب لا يصل إليه في أيامه، ولا يشترط أن يكون غنيا في جميع الوقت حتى لو كان فقيرا في أول الوقت، ثم أيسر في آخره تجب عليه، ولو كان له مائتا درهم فحال عليها الحول فزكى خمسة دراهم، ثم حضر أيام النحر وماله مائة وخمسة وتسعون لا رواية فيه، ذكر الزعفراني أنه تجب عليه الأضحية؛ لأنه انتقص بالصرف إلى جهة هي قربة فيجعل قائما تقديرا، حتى لو صرف خمسة منها إلى النفقة لا تجب.....الخ"

(کتاب الأضحیة،الباب الأول فی تفسیر الأضحیة، ورکنھا ، وصفتھا ، وشرائطھا، وحکمھا، ج:5،ص:292،ط:دار الفکر)

فقط واللہ تعالی اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101760

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں