
ہمارے علاقے میں چلغوزےکے درخت کے پہاڑ ہوتے ہیں، یہ درخت مملوکہ زمینوں میں ہوتے ہیں، مالکان جب ان دانے ( جس کو ہماری اصطلاح میں غیٹے کہتے ہیں) درختوں سے کاٹ لیتے ہیں تو کچھ دانے درختوں پر رہ جاتے ہیں، پھر عام لوگ وہ باقی چند دانے مالکان کی اجازت سے ان درختوں سے اکٹھا کرتے ہیں، پھر یہ لوگ انہی دانوں کو یا ان سے چلغوزے نکال کر بیچتے ہیں ، تو اب کیا ان اکٹھے کیے گئے دانوں یا ان سے نکالے گئے چلغوزے میں عشر دینا واجب ہے؟ جب کہ مالکان اس درخت سے جو چلغوزے ابتداء اتارتے ہیں وہ ان سب کا عشر ادا کرتے ہیں۔
صورت مسئولہ میں مملوکہ زمینوں کے درختوں میں لگے ہوئے چلغوزوں کی تمام پیداوار کا عشر اس کے مالک پر لازم ہے، اورعشر پھل کے نکلتے ہی لازم ہوجاتا ہے، اگر مالک کچھ پھل درختوں سے اتار نہ سکے تو اس کا بھی محتاط اندازہ لگاکر عشر ادا کرنا ضروری ہے، اس کے بعد مالک کی اجازت سے درختوں پر رہ جانے والے باقی ماندہ چلغوزے جمع کرنے والوں پر الگ سے عشر ادا کرنا لازم نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ويجب العشر عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - في كل ما تخرجه الأرض من الحنطة والشعير والدخن والأرز، وأصناف الحبوب والبقول والرياحين والأوراد والرطاب وقصب السكر والذريرة والبطيخ والقثاء والخيار والباذنجان والعصفر، وأشباه ذلك مما له ثمرة باقية أو غير باقية قل أو كثر هكذا في فتاوى قاضي خان...ويجب في الكتان وبذره؛ لأن كل واحد منهما مقصود كذا في شرح المجمع. ويجب في الجوز واللوز والكمون والكزبرة هكذا في المضمرات... وما يجمع من ثمار الأشجار التي ليست بمملوكة كأشجار الجبال يجب فيها العشر كذا في الظهيرية.... ووقته وقت خروج الزرع وظهور الثمر عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في البحر الرائق. فلو عجل عشر أرضه قبل الزرع لا يجوز، ولو عجل بعد الزراعة بعد النبات فإنه يجوز ولو عجل بعد الزراعة قبل النبات فالأظهر أنه لا يجوز، ولو عجل عشر الثمار إن كان بعد طلوعها يجوز، وإن كان قبل طلوعها لا يجوز في ظاهر الرواية هكذا في شرح الطحاوي.
(کتاب الزکاۃ، الباب السادس في زكاة الزرع والثمار، 1/ 186، ط: رشیدیة)
وفیہ أیضاً:
"ولا يأكل شيئا من طعام العشر حتى يؤدي عشره كذا في الظهيرية. وإن أفرز العشر يحل له أكل الباقي وقال أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - ما أكل من الثمرة أو أطعم غيره ضمن عشره كذا في محيط السرخسي في باب ما يحتسب لصاحب الأرض."
(کتاب الزکاۃ، الباب السادس في زكاة الزرع والثمار، 1/ 187، ط: رشیدیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100312
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن