بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مالک کی اجازت کے بغیر خرید و فروخت کا حکم


سوال

موضوع: ایسی دکان یا جائیداد کی خرید و فروخت جس کی زمین فروخت کنندہ کی ملکیت میں نہ ہو۔

صورتِ مسئلہ: ایک دکان ایسی زمین پر قائم تھی، جو ماضی میں دو خاندانوں کے درمیان باہمی تبادلے (تبادلۂ اراضی) کے طور پر تبدیل ہو چکی تھی۔ تبادلے کے بعد  (فریق اول کی ) زمین فریقِ دوم کے قبضہ و استعمال میں آگئی، جب کہ فریقِ اوّل کا زمین پر کوئی شرعی یا عملی حق باقی نہیں رہا۔

کئی سال بعد، 2009ء میں،(فریق اول میں سے) ایک شخص (فروخت کنندہ) — جس کے والد کی زمین ماضی کے اسی تبادلے میں شامل تھی — نے یہ گمان کرتے ہوئے کہ ریوینیو ریکارڈ میں  یہ (فریق دوم کو تبادلہ میں کے طور پر دی جانے والی )زمین ابھی بھی فریقِ اوّل کے خاندان کے نام پر ہے، ایک دوسرے شخص (خریدار) کے ساتھ، جس کی بیوی فریقِ اوّل کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے، ایک تحریری معاہدہ (ایگریمنٹ) کے ذریعے دکان فروخت کر دی۔

اس معاہدے میں زمین کو "واپس اصل مالک کے نام ظاہر کرنے" کا جملہ تو درج کیا گیا، لیکن زمین کے تبادلے اور ملکیت کے انتقال کی حقیقت کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ علاوہ ازیں، معاہدے میں جو قیمت طے ہوئی وہ صرف دکان کے ڈھانچے (ملبہ) کے عوض تھی، زمین کی قیمت شامل نہ تھی۔ بعد ازاں، زمین کا حقیقی مالک (جس کے قبضے میں زمین تبادلے کے وقت سے تھی) نے اسی زمین کو فروخت کنندہ کے والد کے ورثاء سے باقاعدہ خرید لیا۔ مزید یہ کہ 2009 سے لے کر آج (2025) تک وہ دکان بند ہے، نہ خریدار نے قبضہ لیا، نہ استعمال کیا، اور نہ زمین یا دکان پر کوئی عملی تصرف ثابت ہوا۔

استفسار برائے شرعی رہنمائی:

1️⃣ جب فروخت کنندہ ایسی زمین پر دکان فروخت کرے جس کا وہ مالک یا مجاز نہ ہو، تو کیا ایسی بیع شرعاً صحیح ہے یا باطل؟

2️⃣ اگر بیع باطل ہو اور خریدار نے رقم ادا کر دی ہو، تو اس رقم کی واپسی کس پر واجب ہوگی — زمین کے مالک پر یا رقم وصول کرنے والے پر؟

3️⃣ اگر فروخت کنندہ (رقم لینے والا) بعد میں موجود نہ ہو یا اس سے رقم واپس لینا ممکن نہ ہو، تو کیا زمین کے اصل مالک پر کوئی مالی ذمہ داری عائد ہوگی؟

4️⃣ اگر زمین کا مالک صلحاً یا حسنِ سلوک کے طور پر کچھ رقم واپس کرنا چاہے، تو کیا وہ اصل رقم کے حساب سے ہوگی یا موجودہ قیمت کے مطابق؟

 وضاحت برائے فہمِ مسئلہ:

فقہی اصول یہ ہے کہ:"من باع ما لا يملك فبيعه باطل." یعنی :جو شخص ایسی چیز بیچے جس کا وہ مالک نہ ہو، اس کی بیع باطل ہے۔ اور اگر بیع باطل ہو جائے تو: "إذا بطلت البیعة وجب ردّ الثمن إلی من دفعه." یعنی :جب بیع باطل ہو جائے تو خریدار کی ادا کردہ رقم واپس کرنا واجب ہے۔

لہٰذا ایسی صورت میں: بیع شرعاً باطل ہے، رقم کی واپسی اسی شخص پر واجب ہے جس نے وہ وصول کی ہو (فروخت کنندہ یا اس کے ورثاء پر)۔ زمین کے حقیقی مالک پر کوئی مالی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، کیوں کہ وہ اس باطل بیع کا فریق نہیں تھا۔ اگر زمین کا مالک احساناً یا مصالحتاً کچھ رقم واپس کرنا چاہے تو یہ تعاون اور حسنِ سلوک کے زمرے میں شمار ہوگا، واجب نہیں۔

مطلوب فتویٰ: دارالافتاء کے فاضل مفتیانِ کرام سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ فقہِ حنفی اور اصولِ شریعت کی روشنی میں مذکورہ عمومی صورتِ حال پر اصولی شرعی رائے مرحمت فرمائیں، تاکہ آئندہ ایسے معاملات میں شرعی رہنمائی سامنے رہ سکے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  جب فریقین  نے آپس میں زمین کا تبادلہ  کرنے کے بعد  زمینیں اپنے اپنے قبضہ اور استعمال میں لے لیں تو   فریق اول،فریق دوم سے حاصل شدہ زمین اور فریق دوم ،فریق اول  سے حاصل شدہ زمین کے مالک بن گئے،   ریوینیو  ریکارڈ میں فریقین کا ایک دوسرے کے نام زمین منتقل نہ کرانے کے سبب  اس  شرعی حکم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نیز اگر کوئی شخص مالک کی اجازت کے بغیر زمین فروخت کردے تو اس کو شرعاً فضولی کی بیع کہا جاتا ہے، اور یہ بیع مالک کی اجازت پر موقوف  ہوتی ہے، اگر وہ اجازت دے دے تو نافذ ہوتی ہے ورنہ باطل ہوجاتی ہے۔

اس تمہید کے بعد سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

1۔ مالک کی اجازت کے بغیر اس کی زمین میں موجود  دوکان فروخت  کرنا  فضولی کی بیع ہے۔ لہذا یہ بیع مالک کی اجازت  پر موقوف ہے، اگر مالک اجازت دے گا تو بیع نافذ ہوگی ورنہ باطل ہوگی۔

2۔  اگر بیع فضولی میں خریدار نے رقم  ادا کی اور فضولی نے رقم وصول کرلی، لیکن بعد میں مالک نے بیع کی اجازت نہیں  دی تو یہ بیع شرعاً  باطل ہے۔ پھر  دو صورتیں ہیں:

الف:خریدار اس دوکان کی قیمت کی ادائیگی کے  وقت یہ  جانتا تھا کہ اس دوکان کو بیچنے والا فضولی ہے، اور دوسرے کا مال بلا اجازت بیچ رہا ہے،پھر بھی خریدار نے قیمت ادا کی،تووہ رقم فضولی کے ہاتھ میں موجود ہے تو واپس لے لے اور اگر وہ رقم ضائع ہو گئی، تو خریدار کو واپس لینے کا حق نہیں ہوگا۔

ب:خریدار اس دکان کی قیمت کی ادائیگی کے وقت  یہ نہیں جانتا تھا کہ، اس دکان کو بیچنے والا  فضولی ہے اور دوسرے کا مال بلااجازت بیچ رہا ہے،تو خریدار کو حق ہے کہ فضولی سے اپنی  ادا کردہ رقم واپس لے ،اگر وہ رقم موجود ہو تو بعینہٖ وہی واپس لےاور اگر ضائع ہو چکی ہو تو اسی کے مثل  واپس لے۔

3۔اگر خریدار نے لاعلمی کے سبب فضولی کو دوکان کی قیمت ادا کردی پھر  فضولی  سےادا کردہ  رقم واپس لینا بھی ممکن  نہ ہو تب بھی مالک  پر خریدار کو رقم واپس کرنا لازم نہیں ہے۔

4۔مالک پر کسی طور پر بھی خریدار کو رقم واپس کرنا شرعاً لازم نہیں ہے، تاہم اگر وہ اپنی مرضی سے کچھ رقم دینا چاہے تو جتنی رقم چاہے اپنی مرضی سے  دے سکتا ہے ، نیز یہ اس کی طرف سے خریدار پر احسان ہوگا۔

حوالہ جات:

البحر الرائق میں ہے:

"شرع في بيان الفضولي وبعض أحكامه وهو من يتصرف لغيره بغير ولاية ولا وكالة أو لنفسه وليس أهلا له۔۔۔۔والفضولي جمع فضل غلب في الاشتغال بما لا يعنيه وما لا ولاية له فيه۔۔۔وصفته أنه عقد صحيح غير نافذ والأصل أن ‌كل ‌عقد ‌صدر ‌من ‌الفضولي وله مجيز انعقد موقوفا على الإجازة."

(کتاب النکاح،فصل بعض مسائل الوكيل والفضولي في النكاح،147/3، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتح القدیر میں ہے:

"ومنها شرط النفاذ وهو الملك والولاية، حتى إذا ‌باع ‌ملك ‌غيره توقف النفاذ على الإجازة ممن له الولاية".

(كتاب البيوع،248/6، ط: دارالفکر)

مرشد الحیران الی معرفۃ احوال الانسان میں ہے:

"(مادة 300) من باع ملك غيره لآخر بغير إذنه انعقد بيعه موقوفاً على إجازة المالك فإن أجازه نفذ وإلا بطل.

(مادة 301) يشترط لصحة الإجازة من المالك الذي بيع ملكه بغير إذنه أن يكون كل من البائع والمشتري وصاحب المتاع المبيع حياً وأن يكون المبيع قائماً على حاله لم يتغير تغيراً به يعد شيئاً آخر وأن يكون الثمن باقياً إن كان عرضاً معيناً.

(مادة 302) إذا أجاز المالك بيع الفضولي الذي تصرف في ماله بغير إذنه إجازة معتبرة بالقول أو بالفعل تعتبر إجازته توكيلاً له عنه في البيع ويطالب الفضولي بالثمن إن كان قبضه من المشتي وإن لم يكن قبضه منه فلا يجبر المشتري على أدائه للمالك لكن إن دفعه إليه صح الدفع وبرئ. وسكوت المالك عند بيع الفضولي ماله بلا إذنه لا يكون رضا منه بالبيع.

(مادة 303) إذا لم يجز المالك بيع الفضولي وكان المشتري قد أدى للفضولي الثمن غير عالم وقت الأداء أنه فضولي باع ملك غيره بغير إذنه فله الرجوع عليه بالثمن إذن كان قائماً وبمثله إن كان هالكاً وإن كان قد أداه إليه عالماً أنه فضولي وهلك الثمن في يده فلا رجوع له عليه بشيء منه."

(‌‌كتاب البيع،‌‌باب:في شروط المبيع وفيما يجوز بيعه وما لا يجوز وفي كيفية المبيع،الفصل الثالث:في كيفية بيع المبيع،ص:49، ط:المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101689

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں