
1۔ مجھے نقد رقم کی ضرورت ہے، جس کی وجہ سے میں اپنے گھر کے دو پورشن ایک صاحب کو فروخت کرنا چاہ رہا ہوں، پورشن میں دو کرایہ دار موجود ہیں، ایسی صورت میں سودے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟کیا کرایہ داروں سے مکانات خالی کرانے ہوں گے؟
2۔ کیا فروختگی کے ہفتہ دس دن بعد میں قیمت طے کرکے مثلا 6 ماہ کے ادھار پر مذکورہ دونوں پورشن دوبارہ خریدنا چاہوں تو کیا اس کی شرعا اجازت ہوگی؟
1۔ صورتِ مسئولہ میں سائل کا اپنے مملوکہ پورشن، کرایہ داروں کی موجودگی کے باوجود، فروخت کرنا جائز ہے، پورشن فروخت ہوجانے کے بعد نئے خریدار کو اختیار ہوگا کہ وہ کرایہ داروں کو مزید کرایہ پر رہنے دے یا نہ دے، یعنی نیا خریدار کرایہ داری کا معاملہ کرنے میں آزاد ہوگا، فروخت کنندہ کے لیے سودا ہوجانے کے بعد کرایہ وصول کرنا جائز نہیں ہوگا۔
2۔ خرید و فروخت مکمل ہوجانے کے بعد سائل باہمی رضامندی سے انہی دونوں پورشن کو خریدار سے اگر دوبارہ خریدنا چاہے، تو یہ شرعاً جائز ہے۔ البتہ بیچتے وقت ہی یہ شرط لگانا کہ خریدار بعد میں یہی پورشن دوبارہ سائل کو فروخت کرنے کا پابند ہوگاجائز نہیں، نیز پورشن خریدنے والے شخص پر بھی یہ لازم نہیں کہ وہ خریدنے کے بعد پوریشن دوبارہ سائل کو ادھار پر فروخت کرے۔
فتح القدیر میں ہے:
"(قوله ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل) لإطلاق قوله تعالى {وأحل الله البيع} [البقرة: 275] وعنه عليه الصلاة والسلام «أنه اشترى من يهودي طعاما إلى أجل معلوم ورهنه درعه» . ولا بد أن يكون الأجل معلوما؛ لأن الجهالة فيه مانعة من التسليم الواجب بالعقد، فهذا يطالبه به في قريب المدة، وهذا يسلمه في بعيدها."
(كتاب البيوع، ج: 6، ص: 261، ط: دار الفكر)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(قوله: في بيع العينة) اختلف المشايخ في تفسير العينة التي ورد النهي عنها. قال بعضهم: تفسيرها أن يأتي الرجل المحتاج إلى آخر ويستقرضه عشرة دراهم ولا يرغب المقرض في الإقراض طمعا في فضل لا يناله بالقرض فيقول لا أقرضك، ولكن أبيعك هذا الثوب إن شئت باثني عشر درهما وقيمته في السوق عشرة ليبيعه في السوق بعشرة فيرضى به المستقرض فيبيعه كذلك، فيحصل لرب الثوب درهمان وللمشتري قرض عشرة."
(كتاب البيوع، ج: 5، ص: 273، ط: سعيد)
الہدایہ میں ہے:
"وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده كشرط أن لا يبيع المشتري العبد المبيع."
(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج: 3 ص: 48 ط: دار الإحیاء التراث العربي)
مجمع الانہر میں ہے:
"(ولو) كان البيع (بشرط لا يقتضيه العقد وفي نفع لأحد المتعاقدين) أي البائع والمشتري (أو لمبيع يستحق) النفع بأن يكون آدميا (فهو) أي هذا البيع (فاسد)."
(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، بيع الملامسة والمنابذة وإلقاء الحجر، ج: 2 ص: 63 ط: دار الإحیاء التراث العربي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801102658
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن