بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مالی تنگی کی صورت میں حقِ مہر اور بیوی کے فروخت شدہ زیور کی واپسی کا حکم


سوال

میں ایک سوزوکی کا ڈرائیور ہوں،اور سوزوکی بھی کرائے کی ہے،روزانہ محنت مزدوری کر کے گھر کا گزارا کرتا ہوں،مکان بھی کرائے کا ہے،میری دو بیٹیاں ہیں جو کہ شادی شدہ ہیں،اور ان یہ رشتہ داروں کی مدد سے اپنے گھر کی ہوئی ہیں،کیوں کہ میری حیثیت نہیں تھی،بہر حال اللہ کے کرم سے اپنے گھر کی ہوئی ہیں،اور ایک بیٹی ابھی غیر شادی شدہ ہے،بیٹا نافرمان ہے،اور کچھ نہیں کماتا،اس وجہ سے گھر کی ساری ذمہ داری مجھ بوڑھے پر ہے۔

میرا سوال یہ ہے،کیا میرے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے کیا مجھ پر ابھی بھی حق مہر ادا کرنا لازم ہے،جو اس وقت پچیس ہزار روپےحق مہر تھا سکہ رائج الوقت تھا،اور پچیس ہزار ہی کا میں نے اپنی بیوی کا زیور بھی مجبوری میں فروخت کیا تھا،تا کہ قرضہ ادا کرسکوں،مگر میرا ضمیر اس بات پر ملامت کرتا ہے ،لیکن موجودہ حالات اجازت نہیں دیتے کہ وہ رقم واپس کرسکوں۔

کیا ایسی صورت میں حق مہر اور زیور کی رقم واپس کرنا شرعاً ضروری ہے،یا معاف ہوسکتی ہے؟اور اگر ادا کرنا ضروری ہو تو کیا وہ ۱۹۹۴ میں میری شادی کے وقت کے سکہ رائج الوقت کے حساب سے دینی ہوگی یاموجودہ دور کے حساب سے ؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں سائل پر اپنی بیوی کا حقِ مہر ادا کرنا لازم ہے، چاہے حالات کتنے ہی تنگ یا کشیدہ کیوں نہ ہوں۔

سائل نے جو زیور اپنی بیوی سے لے کر قرض اتارا تھا، چونکہ وہ (سونا) قرض زیور کی صورت میں لیا گیا تھا، اس لیے جتنے وزن اور جتنے کیرٹ کا سونا لیا تھا، اتنے ہی وزن اور کیرٹ کے زیورات تیار کروا کر واپس کرنا ضروری ہے۔

مہر اور زیور دونوں کی رقم یا قیمت آج کے دور کے حساب سے واپس کرنا لازم ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب في قولهم ‌الديون ‌تقضى بأمثالها...قد قالوا إن ‌الديون ‌تقضى بأمثالها...الخ."

(کتاب الرھن، فصل في مسائل متفرقة، ج:6، ص:525، ط: سعید)

وفيہ أيضاً :

"فإذا ‌استقرض مائة دينار من نوع فلا بد أن يوفي بدلها مائة من نوعها الموافق لها في الوزن أو يوفي بدلها وزنا لا عددا، وأما بدون ذلك فهو ربا".

(كتاب البيوع، باب الربا،مطلب في استقراض الدراھم عددا،ج:5، ص:177، ط:سعید)

العقود الدریۃ في تنقيح الفتاوى الحامدیۃ میں ہے:

"(سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغاً من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟

(الجواب) : نعم ولاينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمداً من مجمع الفتاوى."

(باب القرض، ج:1، ص279، ط: دار المعرفه)

الفقه الإسلامي وأدلته میں ہے:

"‌يجب ‌على ‌المقترض أن يرد مثل المال الذي اقترضه إن كان المال مثليا بالاتفاق، ويرد مثله صورة عند غير الحنفية إذا كان محل القرض مالا قيميا، كرد شاة تشبه الشاة التي اقترضها في أوصافها."

(‌‌‌‌‌‌القسم الثالث: العقود أو التصرفات المدنية المالية، الفصل الثاني: القرض، حكم القرض، ما يجب رده على المقترض، ج:5، ص:3793، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101163

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں