
ایک صاحب کا انتقال 28 شعبان کو ہوا ، زکات کا سال یکم رمضان کو پورا ہوتا تھا ،تو اب ان کے مال پر زکات واجب ہو گی یا نہیں ؟اور ان کا مال شوال میں تقسیم ہوا ہے تو ورثاء اس مال کی زکات کب ادا کریں گے، تمام ورثاء کی زکات کا سال یکم رمضان ہی کو پورا ہوتا ہے،اس صورت میں زکات کب اور کس پر لازم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں میت پر زکوۃ واجب نہیں؛ کیوں کہ اس کا سال مکمل نہیں ہوا، البتہ تمام ورثاء پر آئندہ سال اپنے مالِ زکات ہی کے ساتھ میراث سے حاصل شدہ مالِ زکات کی زکوۃ لازم ہو گی ،امسال یکم رمضان کو مذکورہ مال پر کچھ واجب نہیں ۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث، أو بصنعه كما لوصية، أو وجب بدلا عما ليس بمال كالمهر، وبدل الخلع، والصلح عن القصاص، وبدل الكتابة ولا زكاة فيه ما لم يقبض كله ويحول عليه الحول بعد القبض."
(كتاب الزكوة،ج:2،ص:10،ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101728
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن