
(1) حج افراد : اس میں احرام صرف حج کے لئے باندھا جاتا ہے، اور یہ طریقہ مقامی رہائشیوں کے لئے ہے۔
(2) حج تمتع : اس میں سب سے پہلے آدمی احرام باندھ کر عمرہ کرتا ہے، عمرہ مکمل کرنے کے بعد احرام کھول دیتا ہے، پھر ۸ ذوالحجہ کو دوبارہ احرام باندھ کر حج کرتا ہے۔
(3) حج قران : اس میں عمرہ اور حج دونوں ایک ہی احرام میں کیے جاتے ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ یہ سنت بھی ہے۔
میرا پہلا سوال یہ ہے کہ : کیا حج قران سنت ہے یا نہیں؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ چونکہ پاکستان سے عموماً حج کی پروازیں حج سے 20 سے 25 دن پہلے شروع ہو جاتی ہیں، تو کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص صرف عمرہ کی نیت کرے، سعودی عرب جائے، عمرہ ادا کرے اور پھر احرام کھول دے، باقی ایام بغیر احرام کے گزارے، پھر وہ شخص ذوالحجہ کے شروع میں زیارت کے لیے طائف چلا جائے اور وہاں سے حج قران کی نیت کرے، مکہ آئے، عمرہ کرے اور پھر ۸ ذوالحجہ کو بغیر احرام کھولے منی روانہ ہو، حج ادا کرے اور ۱۰ ذو الحجہ کو رمی، قربانی اور حلق کے بعد احرام کھولے۔ تو کیا یہ طریقہ درست ہو گا؟
1۔حج کی فرضیت وارد ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ ہی حج ادا فرمایا، اور وہ حج قران کی صورت میں تھا، جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جو صحابہ کرام حج ادا کرنے آئے تھے، ان میں سے جو ہدی کا جانور ساتھ لائے تھے، انہوں بھی قران کیا تھا، البتہ جو ہدی نہ لاسکے تھے، انہوں نے حج ِتمتع کیا تھا، جبکہ بعض نے افراد کیا تھا، پس حج کے تینوں طریقہ سنت سے ثابت ہیں، البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چونکہ حج قران کیا تھا، اس لیے احناف کے نزدیک آفاقی (میقات اور حل کے باہر والے افراد) کے لیےحج قران افضل ہے، کیوں کہ حج قران میں ایک احرام اور ایک سفر میں دو عبادتیں (یعنی حج و عمرہ) حلال ہوئے بغیر ادا کی جاتی ہیں، جس میں دیگر دو طریقوں سے زیادہ مشقت بھی ہے۔
البتہ اگر کوئی شخص حج ِقران نہ کرسکتا ہو تو پھر حج تمتع کرنا افضل ہے،کیوں کہ حج تمتع میں بھی ایک سفر میں دو احرام کے ساتھ دو عبادتیں جمع کی جاتی ہیں، افضلیت کے اعتبار سے تیسرا درجہ حج افراد کا ہے، جس میں ایک احرام کے ساتھ صرف حج کیا جاتا ہے۔
2۔ پاکستان سے جو شخص 20 ، 25 روز قبل عمرہ کی نیت سے گیا، اور پھر اسی سال اسی سفر میں حج بھی ادا کیا تو ایسا شخص حج تمتع ادا کرنے والا شمار ہوگا، پھر چاہے عمر ادا کرنے کے بعد مدینہ منورہ، طائف یا پھر کسی اور شہر جا کر واپسی پر حج کا احرام باندھ کر آئے، بہر صورت ایسا شخص حج قران کرنے والا شمار نہیں ہوگا، لہذا صورت مسئولہ میں ذوالحجہ کے شروع میں طائف جانے کی صورت میں واپسی پر حج کا احرام باندھ کر آنا تو جائز ہے، تاہم عمرہ کی نیت سے احرام باندھنے کی صورت عمرہ کی ادائیگی کے بعد حلال ہونے سے قبل اگر حج کے احرام کی نیت کرلی، تو ایسے شخص پر دم لازم ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"القران في حق الآفاقي أفضل من التمتع والإفراد والتمتع في حقه أفضل من الإفراد وهذا هو المذكور في ظاهر الرواية هكذا في المحيط.
وليس لأهل مكة تمتع ولا قران، وإنما لهم الإفراد خاصة كذا في الهداية وكذلك أهل المواقيت ومن دونها إلى مكة في حكم أهل مكة كذا في السراج الوهاج."
(کتاب المناسک، الباب السابع، ج:1، ص:239، ط: رشیدیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"(كوفي) أي آفاقي(حل من عمرته فيها) أي الأشهر (وسكن بمكة) أي داخل المواقيت (أو بصرة) أي غير بلده (وحج) من عامه (متمتع) لبقاء سفره.
(قوله أي آفاقي) أشار به إلى أن ذكر الكوفي مثال وأن المراد به من كان خارجالميقات لأن المكي لا تمتع له كما مر (قوله حل من عمرته فيها) لأنه لو اعتمر قبلها لا يكون متمتعا اتفاقا نهر (قوله أي داخل المواقيت) أشار إلى أن ذكر مكة غير قيد، بل المراد هي أو ما في حكمها (قوله أي غير بلده) أفاد أن المراد مكان لا أهل له فيه سواء اتخذه دارا بأن نوى الإقامة فيه خمسة عشر يوما أو لا كما في البدائع وغيرها، وقيد به لأنه لو رجع إلى وطنه لا يكون متمتعا اتفاقا أيضا إن لم يكن ساق الهدي نهر (قوله لبقاء سفره) أما إذا أقام بمكة أو داخل المواقيت فلأنه ترفق بنسكين في سفر واحد في أشهر الحج وهو علامة التمتع.
وأما إذا أقام خارجها فذكر الطحاوي أن هذا قول الإمام. عندهما لا يكون متمتعا لأن المتمتع من كانت عمرته ميقاتية وحجته مكية وله أن حكم السفر الأول قائم ما لم يعد إلى وطنه ."
(کتاب الحج، باب القران، ج:2، ص:542،541 ط:سعید)
غنیۃ الناسک میں ہے:
"فإن أحرم المكي بهما جميعاً، أو أدخل إحرام الحج على العمرة قبل طوافها، فلابد من رفض أحدهما، فرفض العمرة أولى بالاتفاق ... وعليه عمرة ودم الرفض ، وإن مضى فيهما جاز وأساء، وعليه دم الجمع".
(ص: 230، باب الجمع بين النسكين أو أكثر، فصل في الجمع المكروه بين عمرة وحجة، إدارة القرآن)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100846
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن