بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مخصوص شرائط پر مبنی نیٹ ورک مارکیٹنگ کا شرعی حکم


سوال

نیٹ ورک مارکیٹنگ کے چار پلان ہیں:

پہلا پلان:اس پلان کے اندر دو بندے جوائن کرانا لازمی ہیں اور وہ دو بندے پھر اگلے دو بندوں کو تیار کرے گا ممبر بننے کے لیے۔

اس پلان کے اندر 6 خامیاں اور شرائطِ فاسدہ ہیں:1۔ مقررہ یا مطلوبہ تعداد مثلاً صرف دو بندے جوائن کروا سکتے ہیں، نہ اس سے زیادہ  اور نہ کم ۔

2۔ دونوں لائنوں کے بندوں کو برابر رکھنا ضروری ہے۔

3۔ اس میں بندے کی محنت وجود و عدم کے درمیان معلق ہے، یعنی کہ ہو سکتا ہے مہینے کے آخر میں دونوں طرف کے بندے پورے ہو جائیں۔

4۔ کمپنی کی جنس یعنی پروڈکٹ اپنی نہیں ہے، اگر ہے بھی تو کسی اور کا لیبل لگایا ہوا ہے اور مارکیٹنگ بھی بندوں کے پیسوں سے کر رہی ہے اور پروڈکٹ عام بازاری قیمت سے زیادہ پر سیل کرتے ہیں۔

5۔ اگر موجودہ دونوں لائنوں کے بندوں میں سے کوئی مر گیا یا بھاگ گیا تو اسپانسر کا جو پوائنٹ ہے، وہ سب کچھ ختم ہو جائے گا اور وہ اسپانسر پھر زیرو سے اسٹارٹ کرے گا۔

6۔ بغیر ممبر بننے سے اگر کوئی بندہ پروڈکٹ خریدنا چاہے تو پروڈکٹ خرید نہیں سکتے بلکہ زنجیر میں شامل ہونا ضروری ہے۔

دوسرا پلان:اس پلان میں ہر ایک بندے کو تین بندے جوائن کرانا لازمی ہیں، اور باقی وہی اوپر والی شرائط ہیں۔

تیسرا پلان:اس پلان میں ایک بندے کو چار بندے جوائن کرنا لازمی ہیں، باقی وہی پہلی والی شرائط اس میں بھی پائی جاتی ہیں۔

نوٹ: ان تینوں پلان پر ٹائنز کمپنی کام نہیں کرتی ، بلکہ ٹائنز کمپنی جنریشن پر کام کرتی ہے اور جنریشن پلان میں کوئی شرطِ فاسد نہیں ہے۔

ٹائنز کمپنی کمیشن کے اوپر کام کرتی ہے، اورکمیشن کی دو اقسام ہیں: 1۔ ڈائریکٹ کمیشن ملنا۔2۔ اِن ڈائریکٹ کمیشن ملنا۔ (مطلب پہلے والے کی واسطے سے دوسرے کو کچھ حصہ ملنا۔)

فکس کمیشن 16٪ سے لے کر 41٪ تک ہے اور اِن ڈائریکٹ کمیشن 4٪ سے لے کر 20٪ تک ہے۔

کمپنی کے اندر تین قسم کی ٹیمیں کام کرتی ہیں:1۔ فنکشنل ٹیم،2۔ کور ٹیم،3۔ لیڈ ٹیم۔

فنکشنل ٹیم کی ذمہ داریاں:1۔ نئے لوگوں سے رابطہ کرنا اور کام کی دعوت دینا2۔ لوگوں کا خیال رکھنا،اس فنکشنل ٹیم کے رینک کا نام (B.M) (B.C) (R.S.C) ہے۔

کور ٹیم کی ذمہ داریاں:1۔ میٹنگ کرے گا فنکشنل ٹیم کے ساتھ۔اس کور ٹیم کے رینک کا نام (S.C) (G.C) ہے۔

لیڈ ٹیم کی ذمہ داریاں: 1۔ ٹریننگ دے گا نئے لوگوں کو (کمپنی کے حوالے سے)،2۔ کوچنگ کرے گا یعنی لوگوں کو کام سکھائے گا،3۔ لوگوں کے مسائل کا حل دے گا،4۔ مکمل مینجمنٹ کرے گا، ہاسٹل اور آفس وغیرہ کی۔اس لیڈ ٹیم کے رینک کا نام (P.C) (S.M) ہے۔باقی S.C سے S.M تک اِن ڈائریکٹ بونس تب ملے گا جب یہ بندہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گا، ورنہ نہیں۔

 کام کرنے کا طریقہ کار: ڈسٹری بیوٹر نئے بندے کو کام کی دعوت دے گا، پھر بندہ آتا ہے، 6000 ہزار روپے ٹریننگ کے لیے اور کھانے اور رہائش کا جمع کرتے ہیں۔ پھر ٹریننگ میں پہلے دن کمپنی کا مکمل پروفائل پڑھاتا ہے اور پروڈکٹ پڑھاتا ہے۔ دوسرے دن نیٹ ورک کا پاور پڑھاتے ہیں اور سسٹم پڑھاتے ہیں۔

نئے بندے کا کام: معاشرے کے اندر تین بڑے مسائل ہیں: پہلا:بیماری، دوسرا: بے روزگاری اور غربت، تیسرا: بدامنی اور لاشعوری۔لہذا نیا بندہ اس کی دعوت دے گا، یعنی نیٹ ورک مارکیٹنگ اور ٹیم ورک کرے گا۔

سسٹم کو جوائن کرنے کا طریقہ کار:شاپنگ پیکجز: پہلا: نارمل پیکج 55,500،دوسرا :وی آئی پی پیکج ایک لاکھ پانچ ہزار،تیسرا :ایگزیکٹو پیکج چار لاکھ چالیس ہزار۔ چناں چہ کوئی بھی پیکج کرے گا تو پیکج میں ہیلتھ کیئر کی پروڈکٹ ملے گی اور سروسز ملیں گی، مثلاً آفس کا، ہاسٹل کا، اور اس کے مطابق ماہانہ انکم ملے گی۔یعنی خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ ٹریننگ کے دوران مکمل پریزنٹیشن دے گا۔

بنیادی سوال: مذکورہ بالا تفصیلات کے مطابق یہ نیٹ ورک مارکیٹنگ/جنریشن سسٹم، جس میں ممبر بننا لازم ہے، مخصوص تعداد میں لوگوں کو جوائن کرانا شرط ہے، ڈائریکٹ و اِن ڈائریکٹ کمیشن ملتا ہے اور کمائی غیر یقینی ہے، کیا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟نیز اس میں شامل ہونا، دوسروں کو شامل کرنا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

مذکورہ بالا تفصیلات کی روشنی میں  نیٹ ورک مارکیٹنگ/جنریشن سسٹم شرعاً جائز نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس میں کمائی کا مدار حقیقی تجارت کے بجائے ممبر سازی(یعنی  اصل کمائی پروڈکٹ بیچنے سے نہیں بلکہ لوگوں کو جوائن کرانے اور ان کی زنجیر بنانے سے ہوتی ہے) ، ممبران کی مخصوص تعداد کی شرط، اِن ڈائریکٹ کمیشن(بالائی ممبر کو  نچلے ممبران کی محنت پر کمیشن لیتا ہے، حالانکہ اس نے خود وہ کام نہیں کیا ہوتا)، اور غیر یقینی نفع ( بندے کی محنت کا نتیجہ پکا نہیں ہوتا، کبھی کمائی بنتی ہے کبھی نہیں)پر ہے، جس میں غرر، شرطِ فاسد، اور دوسروں کی محنت پر بلاعوض فائدہ پایا جاتا ہے۔لہٰذا اس میں شامل ہونا، دوسروں کو شامل کرانا، اور اس کے ذریعے کمیشن یا آمدن حاصل کرنا شرعاً ناجائز ہے، چاہے اسے جنریشن پلان یا کسی اور نام سے پیش کیا جائے۔

حوالہ جات:

قرآن کریم میں ہے:

"وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ." [ المائدة:2]

ترجمہ:” گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور الله تعالیٰ سے ڈرا کرو بلاشبہ الله تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں۔“

مجمع الزوائد میں ہے:

"وعن عبد اللہ بن مسعود قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم: من غشنا فلیس منا والمكر والخداع في النّار."

(كتاب البيوع، باب الغش،139/4، ط: دار الفكر، بيروت)

ترجمہ:’’سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دھوکہ دیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے اور مکر و فریب آگ (کا سبب) ہے۔‘‘

مشكاة المصابيح ميں هے:

"وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا لاتظلموا ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."

(كتاب البيوع، باب الغصب والعارية،889/2،ط:المكتب السلامي)

ترجمہ : ”اور حضرت  ابو حرہ رقاشی رضی اللہ عنہ اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار!کسی پر ظلم نہ کرنا، جان لو! کسی بھی دوسرے شخص کا مال اس کی  مرضی وخوشی کے بغیر حلال نہیں۔“

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"{ولاتعاونوا على الاثم و العدوان}، یأمر تعالی عبادہ المؤمنین بالمعاونة علی فعل الخیرات وهوالبر و ترك المنکرات و هو التقوی، و ینهاهم عن التناصر علی الباطل و التعاون علی المآثم والمحارم."

(سورة المائده،10/2، ط:دارالسلام)

البحر الرائق میں ہے:

"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد ‌بغير ‌سبب شرعي."

(كتاب الحدود،44/5، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن ‌الحقوق ‌المجردة كحق الشفعة."

(كتاب البيوع، مطلب: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة،518/4، ط: سعيد)

درر الحکام میں ہے:

"المادة (1337) - (يشترط أن تكون حصة الربح الذي بين الشركاء جزءا شائعا كالنصف والثلث والربع فإذا اتفق على أن يكون لأحد الشركاء كذا درهما مقطوعا من الربح تكون الشركة باطلة).

يشترط أن تكون حصة الربح الذي سيقسم بين الشركاء جزءا شائعا كالنصف والثلث والربع، وبتعبير آخر يجب أن لا يكون في تعيين الربح حال يقطع الشركة أي يجب أن يكون الربح أولا: جزءا، فإذا شرط كل الربح لأحد الشركاء لا تصح الشركة، ثانيا: أن يكون شائعا، فلذلك إذا اتفق على أن يكون لأحد الشركاء كذا درهما مقطوعا كمائة درهم من الربح وأن يكون باقيه كاملا للآخر أو مشتركا تكون الشركة باطلة ويقسم الربح على الوجه المبين في المادة (1368) لأنه من الجائز أن يحصل ربح أكثر من الربح الذي عين مقطوعا ويحرم الشريك الآخر من الربح بالكلية فتنقطع الشركة في هذا الحال (رد المحتار والبحر).

وإن يكن أن الشركة لا تبطل بالشروط الفاسدة بل يبطل الشرط وتبقى الشركة صحيحة إلا أن بطلان الشركة هنا لم يكن ناشئا عن الشرط الفاسد بل ناشئ عن وجود شرط ينفي الشركة كما بين آنفا (البحر بزيادة)."

(الكتاب العاشر: الشركات، الباب السادس في بيان شركة العقد، الفصل الثاني في بيان شرائط شركة العقد العمومية، ج:3، ص:352، ط:دار الجيل)

و فیہ ایضا:

"(المادة 424) :الأجير المشترك لا يستحق الأجرة إلا بالعمل.

أي لا يستحق الأجرة إلا بعمل ما استؤجر لعمله؛ لأن الإجارة عقد معاوضة فتقتضي المساواة بينهما فما لم يسلم المعقود عليه للمستأجر لا يسلم له العوض والمعقود عليه هو العمل، أو أثره على ما بينا؛ فلا بد من العمل.(زيلعي. رد المحتار)."

(الكتاب الثاني:الإجارة، الباب  الأول في بيان الضوابط العمومية للإجارة، ج:1، ص:457، ط:دارالجيل)

البنایہ شرح الہدایہ میں ہے :

"وقد نهى النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عن بيع الملامسة والمنابذة. ولأن فيه تعليقًا بالخطر".

شرح:م: (تعليقًا) ش: أيتعليق التمليكم: (بالخطر) ش: وفي " المغرب "، الخطر: الإشراف على الهلاك، قالت الشراح: وفيه معنى القمار؛ لأن التمليك لايحتمل التعليق لإفضائه إلى معنى القمار".

(کتاب البیوع ،باب البیع الفاسد،ج:8،ص:158،دارالکتب العلمیة)

مزید تفصیل کے لیے فتاوی بینات ج:4،ص:233 ملاحظہ فرمائیں ۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101506

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں