بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مخصوص شخص کے لیے دی گئی رقم میں ادارہ کی طرف سے خیانت کا حکم


سوال

 ایک حفظ القرآن کے ادارے میں قاری صاحب کو رمضان المبارک کے مہینے میں ڈبل وظیفہ ملنا تھا، جو کہ ادارے والوں نے ادارے کی طرف سے دینا تھا ،جوکہ عام مدارس میں ترتیب ہوتی ہے ۔ اب ایک بچے کے والد صاحب آتے ہیں اور وہ قاری صاحب کے نام پر'' 5000''روپے عیدی کے طور پر دفتر میں جمع کروا دیتے ہیں اور ادارے والے اس بچے کے والد صاحب کو اطمینان دلاتے ہیں کہ ہم یہ پیسے قاری صاحب کو انکی تنخواہ کے ساتھ دے دینگے ۔ لیکن ادارے والے  وہی متعین وظیفہ قاری صاحب کو  رمضان المبارک میں دیتے ہیں ،جو کہ ان کا سالانہ بنتا تھا۔لیکن اس میں اس بچے کے والد صاحب کی طرف سے دیے گئے پیسوں کو شامل نہیں کرتے ۔ اس طرح سے کئی بچوں کے والدین استاد کیلئے عیدی کے طور پر پیسے دفتر میں جمع کرواتے ہیں ،جو کہ کئی ہزار بن جاتے ہیں، لیکن ادارے والے ان پیسوں کو مخفی رکھتے ہیں، استاد کو بھی نہیں بتاتے اور الگ سے بھی نہیں دیتے ۔

کیا ادارے والوں کیلئے اس طرح سے قاری صاحب کیلئے آئے ہوئے پیسوں کو آپنے پاس رکھ لینا اور قاری صاحب کو نہ دینا جائز ہے ٬اور ان پیسوں کا ادارے والوں کیلئے استعمال کرنا جائز ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب کسی بچے کے والد نے رقم صراحتاً قاری صاحب کے لیے  ”عیدی“ کے طور پر دفتر میں جمع کرائی، تو ادارہ اس رقم کا مالک نہیں بنا بلکہ ادرے کی حیثیت ایک وکیل کی ہے اور وکیل کے لیے موکل (دینے والے) کی منشاء کے خلاف تصرف کرنا جائز نہیں۔ لہٰذا  یہ رقم قاری صاحب کا خالص حق ہے، ادارے کے لیے اسے اپنے کسی بھی مصرف میں لاناجائز نہیں ہے۔

اللہ تبارک وتعالٰی  کا ارشا دہے :

''إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ (58)''

ترجمہ:”بلاشبہ الله تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے ۔“ (بیان القرآن)

اللہ تبارک وتعالٰی  کا ارشا دہے :

''إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُورٍ (38)''

ترجمہ:”بےشک الله تعالیٰ کسی دغا باز کفر کرنے والے کو نہیں چاہتا۔“(بیان القرآن)

فتاوی شامی میں ہے:

"‌لا ‌يجوز ‌لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."

[كتاب الحدود، باب التعزير، ج:4، ص:61، ط:سعيد]

وفيه أيضاً:

''وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره.''

(كتاب الزكاة، ج:2، ص:269، ط:سعید)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

''وليس للمودع حق التصرف والاسترباح في الوديعة.''

(كتاب الوديعة، ج:11، ص:122، ط:مطبعة السعادة)

شرح مجلۃ الاحکام  میں ہے:

"ضابط: ‌الوكيل ‌أمين على المال الذي في يده كالمستودع."

(الکتاب الوکالۃ، الباب الثالث، الفصل الاول، المادۃ 1463، ج:3، ص:561، ط:دار الجیل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101707

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں