بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مخصوص رقم کی شرط پر ٹرسٹ قائم کرنے کا حکم


سوال

تین بھائی ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، اور ہر ایک کی اپنی اولاد ہے۔ وہ باہمی تعاون کے لیے ایک فنڈ قائم کرنا چاہتے ہیں، تاکہ کسی بھائی کو کسی وقت مالی مشکل، قرض یا اچانک آفت پیش آئے تو وہ اس فنڈ سے قرض لے سکے اور بعد میں آسانی سے واپس کر دے۔

فنڈ کی ترتیب درج ذیل تجویز کی گئی ہے:

1- ابتدا میں داخلہ فیس لی جائے۔  

2-ہر شریک ماہانہ مقررہ رقم جمع کرائے۔

3-4-کسی کے ہاں لڑکا پیدا ہونے یا شادی ہونے پر مخصوص رقم جمع کرانا لازم ہو۔

5- اگر کسی کی بیٹی کی شادی ہو، تو سسرال والوں سے رضامندی کے ساتھ یہ درخواست کی جائے گی کہ اگر ممکن ہو تو فنڈ کے لیے مقرر کردہ رقم جمع کرا دیں۔ یہ رقم مہر سے الگ ہو گی، اور اگر وہ نہ دیں تو کوئی ناراضگی نہیں ہوگی۔  

6- اگر کوئی بیٹا شریک نہ ہونا چاہے تو اس کا والد اس کی طرف سے رقم جمع کرانے کی ذمہ داری لے۔  

7-جمع شدہ رقم کسی شریک کے کاروبار میں لگا دی جائے، اور حاصل شدہ نفع فنڈ کا ہو۔۔

کیا اس طرح کا فنڈ قائم کرنا شرعاً جائز ہے؟ اگر نہیں، تو جائز صورت کیا ہو سکتی ہے؟

جواب

ایسا ٹرسٹ یا رفاہی   فنڈ قائم کرنا شرعاً درست نہیں جس میں شرکاء یا فائدہ اٹھانے والوں پر مخصوص رقم جمع کرانا لازم کی جائے، خواہ یہ التزام ماہانہ چندے کی صورت میں ہو یا کسی کے ہاں بیٹے کی پیدائش، شادی وغیرہ کے موقع پرہو۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ فنڈ مذکورہ  شرائط  کےساتھ قائم کرناشرعاً درست نہیں۔

اسی طرح بیٹی کی شادی کے موقع پر اس کے سسرال سے فنڈ کے لیے رقم دینے کا مطالبہ بھی درست نہیں، کیوں کہ یہ بلا ضرورت سوال کرنا ہے، جو شرعاً جائز نہیں۔

البتہ اگر ان شرائط سے اجتناب کرتے ہوئے ایک رفاہی انجمن یا باہمی تعاون کی کمیٹی قائم کی جائے، جس میں شرکاء اپنی خوشی سے، بلا جبر حسبِ استطاعت تعاون کریں، اور کسی پر چندہ دینا لازم نہ ہو تو اس کی گنجائش ہے، لیکن ایسے فنڈ کو   کاروبار میں لگانے کی شرعاً اجازت نہیں ہوگی۔

کنز العمال میں ہے:

"لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه."

”(ترجمہ) کسی مسلمان کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر  حلال نہیں“۔

(حرف الهمزة، ‌‌الكتاب الأول من حرف الهمزة، ‌‌الباب الأول، ‌‌الفصل الرابع، الفرع الثاني،1/ 92، ط:مؤسسة الرسالة)

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

"عن ابن سیرین قال: کل شيء فیه قمار فهو من المیسر".

(4/483، کتاب البیوع  والأقضیة، ط: مکتبة رشد، ریاض)

فتح القدیرمیں ہے:

"لأنه صلى الله عليه وسلم نهى عن قرض جر نفعا، رواه الحارث بن أبي أسامة في مسنده عن حفص بن حمزة، أنبأنا سوار بن مصعب عن عمارة الهمداني قال: سمعت عليا رضي الله عنه يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا فهو ربا."

(كتاب الحوالة، 250/7، ط: دار الفکر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144707100025

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں