بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مخصوص جماعت کے ذمہ دار اور امیر کی شرعی حیثیت


سوال

کسی بھی تنظیم یا جماعت یا گروہ کے امیر یا ذمہ دار کی شرعی حیثیت کیا ہوتی ہے؟ کیا اس کی اطاعت اسی طرح لازم ہوتی ہے جس طرح امیر المومنین کی اطاعت لازم ہوا کرتی تھی؟ نیز کیا اس ذمہ دار سے اختلاف کرنے والا باغی کہلائے گا؟ 

جواب

کسی تنظیم یا جماعت کے امیر کی اراکین پر جائز امور میں اطاعت اس تنظیم کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے، لیکن یہ اطاعت عمومی طور پر تمام مسلمانوں پر لازم نہیں ہوتی جیسے امیرالمومنین کی اطاعت تمام مسلمانوں پر واجب ہےکیوں کہ کسی تنظیم یا جماعت کے امیر کی اطاعت ایک انتظامی اور معاہداتی معاملہ ہے، جب کہ امیرالمومنین کی اطاعت شرعی فریضہ ہے۔

مزید برآں، اگر امیر کا حکم شریعت کے خلاف ہویاامیر ظلم اور زیادتی کرے، یا ناجائز مفاد کے لیے حکم دے، تو اس کی اطاعت جائز نہیں۔

  کسی تنظیم، جماعت یا گروہ کے امیر کی اطاعت نہ کرنے پر شریعت میں کوئی ایسی عمومی وعید (سزا) نہیں جو خلیفہ یا امیرالمومنین کی نافرمانی پر ہوتی ہے۔کسی تنظیم یا جماعت کے امیر سے اختلاف کرنے والا شرعی طور پر "باغی" نہیں کہلائے گا، کیوں کہ بغاوت کا مفہوم اسلامی ریاست کے امیرالمومنین (مسلمان حاکمِ وقت) کے خلاف خروج پر لاگو ہوتا ہے۔

اسی طرح اگر کوئی شخص محض انتشار، فتنہ، یا تنظیم کے نظم و ضبط کو خراب کرنے کے لیے اختلاف کرے، تو یہ شرعی طور پر ناپسندیدہ ہوگا، مگر اسے "باغی" نہیں کہا جائے گا، بلکہ ایک نافرمان یا تنظیمی نظم و ضبط یا عہد کو توڑنے والا سمجھا جائے گا۔ اگر کوئی شخص تنظیم کے امیر سے کسی انتظامی مسئلے یا اصولی اختلاف پر بات کرتا ہے، تو وہ "باغی" نہیں بلکہ اختلافِ رائے رکھنے والا کہلائے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب: شروط الإمامة الكبرى:
(قوله: فالكبرى استحقاق تصرف عام على الأنام) أي على الخلق، وهو متعلق بتصرف لا باستحقاق؛ لأن المستحق عليهم طاعة الإمام لا تصرفه، ولا بعام؛ إذ المتعارف أن يقال عام بكذا لا عليه. وعرفها في المقاصد بأنها رياسة عامة في الدين والدنيا خلافة عن النبي صلى الله عليه وسلم؛ لتخرج النبوة، لكن النبوة في الحقيقة غير داخلة؛ لأنها بعثة بشرع كما يعلم من تعريف النبي، واستحقاق النبي التصرف العام إمامة مترتبة على النبوة، فهي داخلة في التعريف دون ما ترتبت عليه أعني النبوة، وخرج بقيد العموم مثل القضاء والإمارة.
ولما كانت الرياسة عند التحقيق ليست إلا استحقاق التصرف، إذ معنى نصب أهل الحل والعقد للإمام ليس إلا إثبات هذا الاستحقاق عبر بالاستحقاق، كذا أفاده العلامة الكمال ابن أبي شريف في شرحه على كتاب المسايرة لشيخه المحقق الكمال ابن الهمام (قوله: ونصبه) أي الإمام المفهوم من المقام (قوله: أهم الواجبات) أي من أهمها لتوقف كثير من الواجبات الشرعية عليه، ولذا قال في العقائد النسفية: والمسلمون لا بد لهم من إمام، يقوم بتنفيذ أحكامهم؛ وإقامة حدودهم، وسدثغورهم، وتجهيز جيوشهم؛ وأخذ صدقاتهم، وقهر المتغلبة والمتلصصة وقطاع الطريق، وإقامة الجمع والأعياد، وقبول الشهادات القائمة على الحقوق؛ وتزويج الصغار والصغائر الذين لا أولياء لهم، وقسمة الغنائم."

(کتاب الصلوٰۃ،باب الامامة،ج :1 ص:548،ط :ایچ ایم  سعید )

شرح نووی میں ہے:

"أجمع العلماء على وجوبها في غير معصية وعلى تحريمها في المعصية نقل الإجماع على هذا القاضي."

(کتاب الامارۃ،باب وجوب طاعة الامراء فی غیر معصیةج:12ص:222،ط،دار احیاءالتراث بیروت)

شرح نووی علی مسلم میں ہے:

"قوله (نزل قوله تعالى أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم في عبد الله بن حذافة أمير السرية قال العلماء المراد بأولي الأمر من أوجب الله طاعته من الولاة والأمراء هذا قول جماهير السلف والخلف من المفسرين والفقهاء وغيرهم "

(کتاب الامارۃ،باب وجوب طاعة الأمراء في غير معصية وتحريمها في معصیة    ،ج:12،ص :223،   ط دار إحياء التراث العربي - بيروت)

فتح المنعم شرح صحیح مسلم میں ہے

"ومن يطع الأمير فقد أطاعني، ومن يعص الأمير فقد عصاني قال الحافظ ابن حجر: ويمكن رد اللفظين لمعنى واحد [وأن يراد مطلق أمير، أعم من أميره صلى الله عليه وسلم] فإن كل من يأمر بحق، وكان عادلا، فهو أمير الشارع، لأنه تولى بأمره وشريعته."

(كتاب الامارة ،باب وجوب طاعة الامير،   ج:7ص :453,   ط :الأولى دار الشروق)

فتاوی شامی میں ہے۔

"وشرعا: (هم الخارجون عن الامام الحق بغير حق) فلو بحق فليسوا ببغاة، وتمامه في جامع الفصولين."

( کتاب الجھاد،باب البغاۃ ج:4 ص :361,ط:دار الکتب العلمیة بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144608102139

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں