
میری والدہ کا ابھی حال ہی میں انتقال ہوا ہے، ان کے ورثاء میں شوہر، دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، مرحومہ کےوالدین کا ان کی زندگی میں انتقال ہو گیا تھا۔
میرے والد صاحب کا ایک مکان ہے جس میں ہم دو بھائی والد صاحب کے ساتھ رہائش پذیر ہیں، والد صاحب نےکاغذات میں وہ مکان میری والدہ کے نام کر دیا تھا۔ اب والد صاحب یہ مکان اپنی زندگی میں اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں، یہ والد کی ملکیت شمار ہوگا یا والدہ کا ترکہ شمار ہوگا؟ اور کس تناسب سے اولاد میں تقسیم کیا جائےگا؟
واضح رہے کہ مکان محض کاغذات میں کسی کے نام کرنے سے شرعا اس کی ملکیت میں نہیں آتا، شرعا ملکیت منتقل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مالک بنا کر وہ چیز اس کے قبضہ و تصرف میں دے دی جائے اور اپنا قبضہ و تصرف اس سے ختم کر دیا جائے، لہذا صورت مسئولہ میں جو مکان آپ کے والد نے محض کاغذات میں آپ کی والدہ کے نام کیا تھا تو محض کاغذات میں مکان نام کرنے کی وجہ سے وہ والدہ کی ملکیت میں نہیں آیا تھا بلکہ والدہی اس کے مالک ہیں،اور اولاد کا اس میں کچھ حصہ نہیں ہے، نیز ان کے ذمہ زندگی میں اس مکان کو تقسیم کرنا بھی لازم نہیں ہے۔
باقی آپ کے والداگر اپنی رضامندی سے اپنی زندگی میں ہی وہ مکان اولاد میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے اپنے لیے جتنا حصہ رکھنا چاہیں رکھ لیں تاکہ ضرورت کے وقت کام آئے اور کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے، اس کے بعد جو مال تقسیم کرنا ہو اس میں شرعا ضروری ہے کہ تمام اولاد (بیٹا، بیٹی) میں برابری کی بنیاد پر تقسیم کی جائے، اور ہر ایک کو اس کا حصہ متعین کر کے مکمل مالک بنا کر اس کے قبضہ و تصرف میں دے دیا جائے اور اپنا قبضہ و تصرف اس سے ختم کر دیا جائے، اور کمی بیشی کے ساتھ تقسیم نہ کی جائے،ورنہ ایسی تقسیم غیرمنصفانہ کہلائے گی اور گناہ کا باعث ہوگی،البتہ کسی بیٹے یا بیٹی کی ضرورت مندی یا زیادہ خدمت گزاری یا زیادہ نیکی کی وجہ سے دیگر اولاد سے زیادہ دینا چاہیں تو اس کی گنجائش ہوگی۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه». وفي رواية... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»."
(کتاب البیوع، باب العطایا، ج: 2، ص: 909، ط: المكتب الإسلامي)
ترجمہ: "حضرت نعمان ابن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے، اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟انہوں نے کہا : نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ … آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔"
(مظاہر حق، کتاب البیوع، باب العطایا، ج: 3، ص: 193، ط: دار الاشاعت)
فتاوی شامی میں ہے:
"اعلم أن أسباب الملك ثلاثة: ناقل كبيع وهبة وخلافة كإرث وأصالة، وهو الاستيلاء حقيقة بوضع اليد أو حكما بالتهيئة كنصب الصيد لا لجفاف على المباح الخالي عن مالك."
(کتاب الصید، ج: 6، ص: 463، ط: دار الفکر بیروت)
و فیہ ایضا:
"ينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف، وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم."
(كتاب الوقف، فصل إجارة الواقف، ج: 4، ص: 444، ط: دار الفکر)
و فیہ ایضا:
"وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى."
(كتاب الهبة، ج: 5، ص: 696، ط: دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101391
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن