بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

مکان کی تعمیر کے لیے حکومت سے قرضہ لینا


سوال

حکومتِ  پاکستان کی طرف سے مکان کی تعمیر کے لیے دیا جانے والے قرض اور پھر اس پر دیا جانے والا زائد روپیہ کس زمرہ میں آتا ہے؟  اور اس کے حصول کی کوشش کرنا کیسا ہے؟

جواب

اپنا ذاتی گھر بنانے کے لیے حکومت  سے قرضہ لینا جس میں یہ شرط ہو کہ واپسی مارک اَپ کے ساتھ ہوگی،ایسا قرضہ ، سودی قرضہ ہے، اور سود کا لینا، دینا ناجائز اورحرام ہے۔ لہذا مذکورہ اسکیم کے تحت قرضہ لینا جائز نہیں ہے۔ 

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

مختلف بینکوں یا اداروں سے سودی قرضہ لے کر یا شرکتِ متناقصہ (diminishing musharka) کا معاملہ کر کے ذاتی گھر لینے کا حکم

باقی  ضرورت کے لیے  کسی رشتہ دار یا شناسا شخص سے قرض لیا جاسکتا ہے، اور اگر کوئی بندوبست نہ ہو تو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے قناعت کرنا چاہیے، کیوں کہ قرض لینے کے بعد اس قرض کی ادائیگی کا بھی تو انتظام کرنا ہوگا، اس وقت جیسے محنت کرکے حلال رقم سے ادائیگی کا انتظام کیا جائے گا، ابھی سے کوشش کرلی جائے؛ تاکہ سودی قرض لینے کی ہی نوبت نہ آئے، اور اگر بعد میں ادائیگی میں حلال کا اہتمام نہ ہو تو یہ گناہ در گناہ ہوجائے گا، کہیں اس سے زیادہ پریشانی نہ ہوجائے، اور سودی قرضہ اتارنے کے لیے  پھر سودی قرضے لینے کا سلسلہ   نہ کرنا   پڑجائے، اور آدمی  اگر حرام سے بچنے  کے لیے ہمت بلند رکھے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے تو اللہ کی طرف سے مدد ہوتی ہے، اور اللہ تعالی ایسی جگہ سے بندوبست کرتے ہیں جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔

 اس کائنات میں  مالی اعتبار سے مختلف حیثیات کے لوگ آباد ہیں، سب ایک جیسے نہیں ہیں، اس لیے شرعی اصولوں کے مطابق ہمارا نظریہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم  مالی حیثیت اور مالی مراعات  میں اپنے سے کم تر لوگوں کو دیکھیں، اپنے سے اوپر والوں کو نہ دیکھیں، دوسرا یہ کہ اپنی ضروریات اور تعیشات کی تشخیص بھی کرلیں، مزید یہ کہ ہم سب اسباب و متاع کی فروانی کے باجود معاشی سے زیادہ معادی (آخرت کی طرف لوٹنے والے) انسان ہیں، آخرت کا خیال اور دھیان بھی رکھیں تو ہمارا بوجھ کم ہوجائے گا، ان شاءاللہ۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا} [الطلاق: 2، 3]

حدیث مبارک میں ہے:

"عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ» ، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ»".

(الصحیح لمسلم، 3/1219، کتاب المساقات،دار احیاء التراث ، بیروت۔مشکاۃ المصابیح،  باب الربوا، ص: 243، قدیمی)

      مشكاة المصابيح  میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الربا سبعون جزءًا أيسرها أن ینکح الرجل أمه».

(1/246، باب الربوا ، ط؛ قدیمی)

اعلاء السنن میں ہے:

"قال ابن المنذر: أجمعوا على أن المسلف إذا شرط على المستسلف زیادة أو ھدیة  فأسلف على ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا".

(14/513، باب کل قرض جرّ منفعة، کتاب الحوالة، ط: إدارۃ القرآن)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144206200727

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں