
ہم نے ایک گھر لیا تقریبا 10-12 سال پہلے 23 لاکھ روپے کا اور اب اس کی ویلیو تقریبا 80 لاکھ تک پہنچ گئی ہے اور اس کے پہلے جو پیسے ہیں وہ تقریبا 19 ساڑھے 19 لاکھ روپےسامنے والی پارٹی کو دے چکے ہیں، اب ان کے صرف ساڑھے تین چار لاکھ باقی ہیں تو وہ جو سامنے والی پارٹی ہے وہ یہ کہہ رہی ہے کہ جو آج کی مارکیٹ ہے اس کے مطابق آپ یا تو آدھے پیسے ہمیں دے دو پھر گھر لے لو یا آدھے پیسے ہم سے لے کر یہ گھر چھوڑ دو۔
سوال یہ ہے کہ کیا ان کا مطالبہ درست ہے؟
صورت مسئولہ میں اگر آپ نے مذکورہ مکان ایک متعین رقم(یعنی : 23 لاکھ) میں خریدلیا تھا تو آپ کے اوپر اسی متعین رقم کی ادائیگی لازم ہے،اگر کسی وجہ سے ادائیگی میں تاخیر ہو گئی ہے تو اس کی وجہ سے فروخت کنندہ کا یہ مطالبہ درست نہیں کہ آدھی رقم لے کر آپ مکان خالی کر دو یا آدھی رقم دے کر مکان اپنے پاس رکھ لو؛ اس لیے کہ مکان کی خریداری کے بعد مکان کے مالک آپ ہیں اور آپ کے اوپر صرف بقیہ رقم کی ادائیگی لازم ہے لہذا فروخت کنندہ کے مطالبات شرعا درست نہیں ہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"فإن الديون تقضى بأمثالها."
(كتاب الشركة، مطلب في قبول قوله دفعت المال بعد موت الشريك أو الموكل،ج:4،ص:320، ط: سعید)
درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"(المادة 374) البيع النافذ قد يفيد الحكم في الحال.
أي بمجرد وقوع العقد يفيد البيع النافذ الذي هو ملكية البائع للثمن والمشتري للمبيع وتصرف كل منهما فيما في يده ولا حاجة في ذلك إلى شيء آخر
(المادة 375) إذا كان البيع لازما فليس لأحد المتبايعين الرجوع عنه.
أي ليس لأحد المتبايعين أو ورثته في البيع النافذ اللازم أن يرجع عنه بدون رضاء الآخر بوجه من الوجوه.
أما الطرفان؛ فلهما بالتراضي أن يتقايلا البيع كما قد بين في الفصل الخامس للباب الأول."
(کتاب البیوع،الباب السابع في بيان أنواع البيع وأحكامه، الفصل الثاني في بيان أحكام أنواع البيوع ،ج:1، ص:401، ط:دار الجیل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100202
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن