
بندے نے ایک دین دار ساتھی سے کرایہ پر رہنے کے لئے فلیٹ لیاتھا، الحمدللہ پانچ سال بندے نے یہاں گزارے ہیں، اب فلیٹ خالی کیا ہےتو مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات کی ضرورت پیش ہے،ہم دونوں آپ کے جواب پر عمل کرنے پر راضی ہیں:
بندے نے 21 اکتوبر کو مالک فلیٹ سے کال پر عرض کیا کہ فلیٹ خالی کرکے دوسری جگہ شفٹ ہونے کی ترتیب بن رہی ہے،توانہوں نے کہا جیسے آپ کو مناسب لگے،اس پر بندے نے نئے مالک مکان کو ہاں کردی۔
1: چونکہ بندے نے ان کو بتا کر آگے شفٹنگ کی اور انہوں نے اس وقت کسی قسم کا مطالبہ نہیں کیا، اگر یہ اسی وقت ایسی بات کردیتے تو بندہ دوسری جگہ شفٹنگ نہیں کرتا، اب ان کا کہنا ہے کہ ایک مہینہ پہلے بتانا ہوتا ہے ،تم نے گیارہ دن پہلے بتایا ہے اس لئے آدھے مہینے کا کرایہ ایڈوانس سے کاٹوں گا، جب کہ بندہ اس پر راضی نہیں ہے ،ایسی صورت میں کیا یہ رقم کاٹنا جائز ہے؟
نیز 21تاریخ کو اطلاع دی گئی اور الحمد للہ 25 تاریخ کو شفٹنگ سے پہلے ہی نئے کرایہ دار کے لیے آٹھ کے قریب فیملیاں بھی آگئی. جن میں سے ایک کو اگلے مہینے کے لیے فائنل کرلیا گیا،چونکہ فلیٹ ان کی وجہ سے خالی کرکے 25 تاریخ کو چابی بھی مالک مکان کے حوالے کردی گئی ہے، اس لیے 31 تاریخ تک کے چھ دن کا کرایہ بھی قابل واپسی بنتا ہے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
2: اسی طرح بندہ پانچ سال یہاں رہا تو کچن میں کھانے پکانے سے بوجہ بھاپ در و دیوار، چولہے پر جو اثرات آجاتےہیں الحمدللہ اہلیہ اور ماسی اہتمام سےاپنی طاقت کے مطابق معمول کی صفائی کرتی رہتی تھیں، ایسی صفائی جو معمول میں خواتین کے بس باہر ہوتی ہے، اور عام طور نہیں کی جاتی، عرف میں بھی شامل نہیں ہے، (جیسے اوپر چمنی ایگزاسٹ فین کی طرف جانے والی جگہ کو کھول کر صاف کرنا،جس کا علم بندے کو بھی نہیں تھا، ٹیکنکل کام، نہ ہی مالک مکان نے مکان دیتے وقت یہ کھول کر بتایا تھا) اب مالک مکان کا تقاضہ ہے کہ مذکورہ جگہ کی مکمل صفائی پر جو انہوں نے خرچہ کیا ہے وہ رقم بھی کاٹ کر دی جائے گی، جبکہ بندہ اس پر راضی نہیں ہے، ایسی صورت میں کیا یہ رقم کاٹنا جائز ہے؟
3: آج کل کچن میں عام طور پر سامان رکھنے کے لئے کیبنٹ بنے ہوتے ہیں، موصوف نے سِنک (برتن دھونےکی جگہ) کے کیبنٹ کے دونوں پلے (دروازے )کھول کرنیچے والی طرف دکھائی اور ایک اس کے ساتھ والا برابر کا پلہ ،کہ یہ لکڑی پھول رہی ہے۔پانچ سال کا عرصہ رہنے میں اگر یہ تین دروازے کے پلے کہیں سے پھول گئے ہیں ،جبکہ یہ تعدی کرایہ دار کی طرف سے ہر گز نہیں پائی گئی ہے، کہ ہم نے ان پر پانی بہاکر خراب کیا ہو، نیز مالک مکان نے فلیٹ دیتے وقت یوں پلے کھول کر دکھایا بھی نہیں تھا کہ یہ پلے نیچے سے کیسے ہیں، ایسی صورت میں اس کی مرمت کے خرچہ میں کیا یہ رقم کاٹنا جائز ہے؟
برائےمہربانی ان تینوں سوالات کے بارے میں راہ نمائی فرمائیں بالخصوص جب کہ کرایہ دار یہ خرچہ دینے پر راضی بھی نہیں ہے۔ کیوں کہ ان پانچ سال کے عرصہ میں مالک فلیٹ نے کسی قسم کا کوئی بھی خرچہ اس فلیٹ کی منٹی ننس پر نہیں کیا ہے۔ البتہ ابھی چند ماہ قبل تین کمرے اور ایک لاؤنچ کے فلیٹ میں صرف ایک کمرے پر رنگ کروا کردیا ہے۔
1. واضح رہے کہ کرایہ دار پر مکان کا کرایہ اتنا ہی لازم ہوتا ہے جتنے دن وہ مکان میں رہا ہے، تاخیر سے اطلاع دینے کی وجہ سے اضافی رقم منہا کرنا جائز نہیں ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں کرایہ دارکو چاہیے تھا کہ ایک ماہ یا اس سے بھی پہلے مالک مکان کو مکان خالی کرنے کے حوالے سے آگاہ کرتا، لیکن اس وجہ سے ایڈوانس میں سے رقم کاٹنا مالی جرمانہ کے زمرے میں آتا ہے جو کہ جائز نہیں ہے، لہذاآدھے مہینے کرایہ اور چھ دن پہلے جو مکان خالی کیا ہے اس کا کرایہ واپس کرنا ضروری ہے، کاٹنا جائز نہیں ہوگا۔
2 ،3.واضح رہے کہ کرایہ دار کے پاس مکان کی حیثیت امانت کی ہے، اس لیے اگر بلا تعدی مکان میں کوئی نقص پیدا ہو جائے تو کرایہ دار ضامن نہیں ہوگا، البتہ اگر کرایہ دار کی تعدی کی وجہ سے کوئی نقصان ہوجائے تو اس کا ذمہ دارکرایہ دار ہوگا اور ایڈوانس رقم میں سے اس کی کٹوتی جائز ہوگی، لہذا صورتِ مسئولہ میں عام طور پر مالک مکان کی طرف سے گھر میں کھانا پکانے کی اجازت ہوتی ہے، اس لیے اگر کچن میں کھانا پکانے کی وجہ سے دیوار کالی ہوگئی ہو تو اس کا ضمان کرایہ دار پر نہیں آئے گا، البتہ کچن میں لکڑی کے پلے اگر احتیاط سے استعمال کیے جائے تو حتی الامکان خراب نہیں ہوتے، اس لیے اگر پلے پھول گئے ہیں تو کرایہ دار پر اس کا ضمان لازم ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة. وحكمها وقوع الملك في البدلين ساعة فساعة ...
(قوله: ساعة فساعة) ؛ لأن المنفعة عرض لا تبقى زمانين، فإذا كان حدوثه كذلك فيملك بدله كذلك قصدا للتعادل، لكن ليس له المطالبة إلا بمضي منفعة مقصودة كاليوم في الدار والأرض والمرحلة في الدابة كما سيأتي."
(كتاب الإجارة، شروط الإجارة، ج: 6، ص: 5، ط: سعيد)
بدائع الصنائع میں ہے :
"وأما صفة الإجارة فالإجارة عقد لازم إذا وقعت صحيحة عرية عن خيار الشرط والعيب والرؤية عند عامة العلماء، فلاتفسخ من غير عذر". وقال شريح: إنها غير لازمة وتفسخ بلا عذر؛ لأنها إباحة المنفعة فأشبهت الإعارة، ولنا أنها تمليك المنفعة بعوض فأشبهت البيع وقال - سبحانه وتعالى-: {أوفوا بالعقود} [المائدة: 1] والفسخ ليس من الإيفاء بالعقد وقال عمر: - رضي الله عنه - " البيع صفقة أو خيار " جعل البيع نوعين: نوعا لا خيار فيه، ونوعا فيه خيار، والإجارة بيع فيجب أن تكون نوعين، نوعا ليس فيه خيار الفسخ، ونوعًا فيه خيار الفسخ؛ ولأنها معاوضة عقدت مطلقة فلاينفرد أحد العاقدين فيها بالفسخ إلا عند العجز عن المضي في موجب العقد من غير تحمل ضرر كالبيع."
(کتاب الاجارۃ ، فصل فی حکم الاجارۃ ،4/ 201،دار الکتب العلمیۃ)
مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:
"(المادة 600) المأجور أمانة في يد المستأجر إن كان عقد الإجارة صحيحا أو لم يكن. ( المادة 601) لا يلزم الضمان إذا تلف المأجور في يد المستأجر ما لم يكن بتقصيره أو تعديه أو مخالفته لمأذونيته. ( المادة 602) يلزم الضمان على المستأجر لو تلف المأجور أو طرأ على قيمته نقصان بتعديه. مثلا لو ضرب المستأجر دابة الكراء فماتت منه أو ساقها بعنف وشدة هلكت لزمه ضمان قيمتها...(المادة 607) لو تلف المستأجر فيه بتعدي الأجير أو تقصيره يضمن."
(الكتاب الثاني: في الإجارات، الباب الثامن في بيان الضمانات، الفصل الثاني: في ضمان المستأجر،ص: 112، ط: نور محمد كراتشي)
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:
"(المادة 602) يلزم الضمان على المستأجر لو تلف المأجور أو طرأ على قيمته نقصان بتعديه. مثلا لو ضرب المستأجر دابة الكراء فماتت منه أو ساقها بعنف وشدة هلكت لزمه ضمان قيمتها. يلزم الضمان على المستأجر لو تلف المأجور أو طرأ على قيمته نقصان بتعديه أي يلزمه ضمان كل قيمته إذا تلف وقيمة النقصان في حال طروء نقصان عليه انظر المادة (787 و 803) . وإذا طرأ على المأجور نقصان فيجري حكمه على ما جاء في المادة (900) وقد بين في هذه المادة القيد المحترز عنه في المادة الآنفة وهو ما لم يكن بتقصيره أو تعديه أو مخالفته مأذونيته المذكورة في المادة السابقة."
(كتاب البيوع، الباب الثامن في بيان الضمانات، ج: 1، ص: 697، ط: دارالجيل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100799
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن