
میرا ایک مکان ہے، جو میں نے اپنی ذاتی رقم سے خریدا تھا،اسی میں میری رہائش بھی ہے، البتہ یہ مکان بعض اعذار کی بنا پر قانونی طور پر بیوی کے نام پر تھا، میری بیوی کا انتقال 2018 میں ہوگیا، میرے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، جن میں سے ایک بیٹے کا انتقال2024 میں ہوچکا ہے، اس کی اولاد نہیں ہے، البتہ بیوہ حیات ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا مرحوم بیٹے کی اہلیہ میرے مذکورہ مکان سے حصہ کی حق دار ہے یا نہیں؟ نیز مذکورہ مکان میرے بچوں میں کس طرح تقسیم کیا جائے؟
صورت مسئولہ میں سائل نے اگر واقعۃً مذکورہ مکان اپنی ذاتی رقم سے خریدا تھا اور بعض اعذار کی بنا پر صرف قانونی دستاویزات میں اپنی بیوی کے نام کیا تھا،البتہ شرعی ضابطہ کے مطابق بیوی کو مکان گفٹ نہیں کیا تھا، اس کا قبضہ اور اس میں تصرف کا اختیار بھی سائل کے پاس ہی رہا، تو ایسی صورت میں مذکورہ مکان شرعا سائل کی ہی ملکیت شمار ہوگا، بیوی کی وفات کے بعد اس کے ترکہ میں شامل نہیں ہوگا، پس سائل جب تک بقید حیات ہے، اس مکان میں اس کی اولاد کا شرعا کوئی حصہ نہیں، سائل کے انتقال کے مذکورہ مکان سائل کے دیگر اموال کی طرح اس کا ترکہ شمار ہوگا، اور حصص شرعیہ کے تناسب سے سائل کے موجود ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا، بہر صورت مذکورہ مکان میں مرحوم بیٹے کی بیوہ کا شرعا کوئی حق نہیں، البتہ اگر سائل اپنی مذکورہ بہو کو زندگی میں کچھ دینا چاہے، یا اس کے لیے وصیت کرنا چاہے، تو ایک تہائی تک میں وصیت کر سکتا ہے۔
البتہ اگر سائل اپنی زندگی میں اپنی جائے داد خوشی ورضا سے اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہے تو یہ جائز ہے، تاہم اپنی زندگی میں جو جائے داد تقسیم کی جائے وہ میراث نہیں ہوتی، بلکہ ہبہ (گفٹ) کہلاتی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اولاد کے درمیان ہبہ کرنے میں برابری کرنے کا حکم دیا ہے، البتہ اگر کسی بیٹے یا بیٹی کو کسی معقول شرعی وجہ کی بنا پر دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ دینا چاہے، یعنی مثلاً کسی کی شرافت ودِین داری یا زیادہ خدمت گزار ہونے کی بنا پر اس کو دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ دے تو اس کی اجازت ہے، بشرط یہ کہ دیگر اولاد کو نقصان پہنچانا مقصود نہ ہو ، اسی طرح کسی کو بالکلیہ محروم کرنا بھی جائز نہیں۔
زندگی میں اولاد کے درمیان جائیداد تقسیم کرنےکا شرعی طریقہ یہ ہے کہ اپنی جائے داد میں سے اپنے لیے جتنا چاہے رکھ لے؛ تاکہ بوقتِ ضرورت کام آئے، اور باقی مال اپنی تمام اولاد میں برابر تقسیم کردے یعنی جتنا بیٹے کو دے اتنا ہی بیٹی کو بھی دے، نہ کسی کو محروم کرے اور نہ ہی بلاوجہ کمی بیشی کرے اور اپنے مرحوم بیٹے کی بیوہ کو بھی اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو یہ سائل کی طرف سےتبرع واحسان ہوگا۔
نیز اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان جو جائیداد تقسیم کرے، تو ہر ایک کو اس کا حصہ الگ الگ کرکے قبضہ وتصرف کے ساتھ مالک بناکر دے دے۔
فتاوی شامی میں ہے :
"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة.
(وقوله: بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لا يكون هبة."
(کتاب الهبة، 5 / 689، ط: سعيد)
شرح المجلہ میں ہے:
"کل یتصرف في ملکه کیف شاء".
(الفصل الاول فی بیان بعض قواعد فی احکام الاملاک، 4 /132، مادہ:1192، ط: رشیدیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه - صلى الله عليه وسلم - قال سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير اتقوا الله واعدلوا في أولادكم فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل، وليس عند المحققين من أهل المذهب فريضة شرعية في باب الوقف إلا هذه بموجب الحديث المذكور، والظاهر من حال المسلم اجتناب المكروه، فلا تنصرف الفريضة الشرعية في باب الوقف إلا إلى التسوية والعرف لا يعارض النص هذا خلاصة ما في هذه الرسالة، وذكر فيها أنه أفتى بذلك شيخ الإسلام محمد الحجازي الشافعي والشيخ سالم السنهوري المالكي والقاضي تاج الدين الحنفي وغيرهم اهـ."
(کتاب الوقف، 4/ 444، ط: سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144705100937
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن