
1۔میرے والد کا انتقال 2009 میں ہوا ہے،ورثاء میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں،ان میں سے دو بیٹے جن کی عمر پچاس سال سے زائد ہے،یہ دونوں ذہنی طور پر بہت کمزور ہیں ،زبان بھی صاف نہیں ہے،اپنے اچھے برے، نفع نقصان کو نہیں سمجھتے،حساب کتاب کچھ نہیں کرسکتے،باقی بھائی بہن تندرست ہیں۔
تو ان دونوں بھائیوں کی کفالت کی ذمہ داری کس پر ہے؟
والد کے فلیٹ میں جو ان کا حصہ بنتا ہے ،وہ کس کے پاس جائے گا؟
2۔والد کے انتقال کے ڈیڑھ سال بعد چھوٹے بھائی نے والد کے فلیٹ کو کرایہ پر دیا ہے،اور وہ کرایہ میں سے کسی بہن بھائی کو کوئی حصہ نہیں دیتا۔
تواس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
3۔والد کے انتقال کے وقت والدہ ان کے نکاح میں نہیں تھیں،کیونکہ والد نے ان کو تین طلاقیں دی تھیں،پھر دوبارہ نکاح نہیں کیا تھا،لیکن والد اور والدہ کی رشتہ داری اور والد کی بیماری کی وجہ سے والدہ نے تمام شرعی حدود کا خیال رکھتے ہوئے والد کا خیال رکھا،خدمت کی ،دوائی اور کھانے پینے کا خیال رکھا۔
تو کیا والد کی وراثت میں والدہ کا کوئی حصہ ہے یا نہیں؟
4۔والدہ کے نام پر ایک مکان تھا،جس کو والدہ نے اپنی ذاتی پیسوں سے خریدا تھا،والدہ نے اس مکان کو فروخت کرکے پیسے بینک میں سیونگ ڈیپازٹ کروادئے ہیں۔
تو والدہ کے ان مذکورہ پیسوں میں تمام بچوں کا حصہ ہے یا نہیں؟
اگر والدہ اپنی زندگی میں سارے پیسے اپنے بیٹے(سائل)کے نام کردے،تو کیا والدہ کی وفات کے بعد اس میں کوئی اور بہن بھائی دعویدار ہوسکتا ہے؟
1۔واضح رہے کہ جس شخص کا دماغی توازن درست نہ ہو اور وہ جنون کی حد تک پہنچا ہوا ہو، تو اس کی خیرخواہی کے پیش نظر اس کی کفالت اور اس کے مال وجائیداد کا اختیار اس کے شرعی سرپرستوں کے سپرد ہوتا ہے، چنانچہ وہ سرپرست اس کی کفالت کریں گے اور اس کے مال کی حفاظت بھی کریں گے اور اس میں حسبِ صوابدید مفید تصرف کرنے کے بھی مجاز ہوں گے۔
شریعت کی رو سے جن لوگوں کو یہ ذمہ داری اور سرپرستی حاصل ہوتی ہے، ان کی دو قسمیں ہیں:
(1) ولایتِ تصرف: جس میں سرپرست کو اپنے زیر سرپرستی لوگوں کے مال کی حفاظت اور اس میں حسبِ صوابدید تصرف کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔
شریعت میں ایسے سرپرستوں کی ترتیب حسب ذیل ہے:
1۔ والد
2۔ والد کا وصی (جسے والد نے اپنی وفات کے بعد اس کے مال کی حفاظت اور بچوں کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کرتے ہوئے وصیت کی ہو)۔
3۔ دادا (جب والد کا وصی نہ ہو)۔
4۔ دادا کا مقرر کردہ وصی، اگر یہ بھی نہ ہو، تو قاضی یا قاضی کا مقرر کردہ وصی۔
لہذا جس شخص کے دماغی توازن میں خلل ہو اور وہ جنون کی حد تک پہنچا ہوا ہو، تو اس کے مال کی حفاظت اور اس کے اندر مفید تصرف کرنے کے مذکورہ بالا اشخاص بالترتیب مجاز ہوں گے۔
(2) ولایتِ حفظ: جس میں سرپرست کو صرف اس بات کی اجازت ہوتی ہے کہ وہ مجنون کے مال کی حفاظت کرے، لیکن اس کے مال میں کسی قسم کے تصرف مثلاً: تجارت وغیرہ کا اختیار نہیں ہوتا ہے، ہاں! ضرورت پڑنے پر قاضی یا اس مجنون کے نیک اور دین دار قرابت داروں کے مشورے سے اس کے مال میں مفید تصرف کر سکتا ہے۔
یہ "ولایتِ حفظ" ہر ایسے شخص کو حاصل ہوگی، جس کو قاضی مقرر کرے یا مجنون کے دین دار قرابت دار اس کو مقرر کریں۔
لہذا جو شخص مجنون کا شرعی سرپرست ہو، خواہ وہ ولایتِ تصرف رکھتا ہو یا ولایتِ حفظ رکھتا ہو، دونوں صورتوں میں وہ مجنون کی طرف سے نائب بن کر اس کو ملنے والے مال پر قبضہ کرے گا۔
مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق اگر واقعۃ آپ کے بھائی کی نفسیاتی حالت ایسی ہو جیسا کہ سوال میں مذکور ہے کہ،"یہ دونوں ذہنی طور پر بہت کمزور ہیں،زبان بھی صاف نہیں ہے،اپنے اچھے برے، نفع نقصان کو نہیں سمجھتے،حساب کتاب کچھ نہیں کرسکتے،" تو ایسی حالت مجنون یا معتوہ (دیوانہ) کی ہوتی ہے، لہذا آپ بحیثیت بڑے بھائی ہونے کے اپنے بھائی کو ملنے والی وراثت کے حصہ کی حفاظت کر سکتے ہیں،اور ان کا حصہ بطور امانت رہے گا، حسب ضرورت اس کے مال کو اس پر خرچ بھی کر سکتے ہیں۔
ان دونوں مجنون بھائیوں کو جو حصہ اپنے والد سے ملے گا،وہ ان کا ہی ہوگا،اور ان کے پاس ہی رہے گا،تاہم کفالت کرنے والا بھائی اس کی حفاظت کرے گا،اور اس سے بقدر ضرورت ان پر خرچ کرے گا،اور ان کی وفات کے بعد ان کے شرعی ورثاء پر تقسیم ہوگا۔
2۔سائل کے چھوٹے بھائی کا والد کے ترکہ میں اکیلے تصرف کرنا شرعا درست نہیں تھا،اور اب اس پر لازم ہے کہ وہ کرایہ کو اپنے والد کے شرعی ورثاء پر ان کےحصوں کےمطابق تقسیم کرے۔
3۔اگرسائل کےوالد نےازخودبغیرمطالبہ کے تین طلاقیں دی تھیں اورعدت بھی گزرچکی تھی ،اس کےبعدسائل کےوالدکاانتقال ہواتوسائل کے والد کے ترکہ میں سے سائل کی والدہ کو کوئی حصہ نہیں ملے گا،تاہم اگر سائل اور اس کے دیگر بہن بھائی باہمی رضامندی اور خوشی سے اس کو کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔
4۔جب تک سائل کی والدہ حیات ہے،اس وقت تک وہ تن تنہا اپنے مال اور جائیداد کا مالک ہے،کسی اور کا اس میں کوئی حق نہیں ،تاہم والدہ کی وفات کے بعد والدہ کے تمام شرعی ورثاء(چار بھائی اور دو بہنوں) کا اس کے مال اور جائیداد میں ان کے شرعی حصص کے مطابق حصہ ہوگا۔
والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنی تمام اولاد کے درمیان برابری اور مساوات کا معاملہ کریں ،عدل وانصاف کے ساتھ،کسی ایک کو کچھ دے کر دوسروں کو محروم کرنا شرعا جائز نہیں ہے،تاہم اگر سائل کی والدہ سائل کو خدمت یا دین داری کی وجہ سے کچھ دینا چاہے،تو دے سکتی ہے،لیکن صرف نام کرنے سے وہ پیسے سائل کی ملکیت نہیں ہوں گے،بلکہ سائل کی والدہ پر لازم ہے کہ وہ پیسے مکمل قبضہ اور اختیار کے ساتھ سائل کی ملکیت میں دے،تو پھر اس کے بعد جب والدہ کی وفات ہوگی ،تو کسی کو ان پیسوں کے بارے میں کسی قسم کے دعوے کا حق نہیں ہوگا،بلکہ سائل تن تنہا اس کا مالک ہوگا۔
جیسا کہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:
"(ووليه أبوه ثم وصيه) بعد موته ثم وصي وصيه كما في القهستاني عن العمادية (ثم) بعدهم (جده) الصحيح وإن علا (ثم وصيه) ثم وصي وصيه قهستاني زاد القهستاني والزيلعي ثم الوالي بالطريق الأولى (ثم القاضي أو وصيه) أيهما تصرف يصح فلذا لم يصح ثم (دون الأم أو وصيها) هذا في المال"
(كتاب المأذون، مبحث في تصرف الصبي ومن له الولاية عليه وترتيبها، ج: 6، ص: 174، ط: ایچ ایم سعید)
الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے:
"وأما المجنون: فهو من زال عقله بحيث يمنع جريان الأفعال والأقوال على نهجه إلا نادرا."
(من تثبت عليه الولاية، وأما المجنون، ج: 45، ص: 160، ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت)
وفیه أیضا:
"نص الفقهاء على أنه يلزم على ولي المجنون والمجنونة تدبير شئونه ورعاية أموره بما فيه حظ المجنون، وبما يحقق مصلحته، فينفق عليه في كل حوائجه من ماله بالمعروف، ويداويه ويرعى صحته، ويقيده ويحجزه عن أن ينال الناس بالأذى أو ينالوه به إن خيف ذلك منه، صونا له، وحفظا للمجتمع من ضرره."
(النوع الثاني: الولاية على النفس، السبب الثاني الجنون، ج: 45، ص: 172، ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت )
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولو طلقها طلاقا بائنا أو ثلاثا ثم مات وهي في العدة فكذلك عندنا ترث، ولو انقضت عدتها ثم مات لم ترث وهذا إذا طلقها من غير سؤالها فأما إذا طلقها بسؤالها فلا ميراث لها كذا في المحيط۔"
(کتاب الطلاق، الباب الخامس في طلاق المريض، ج: 1، ص: 462، ط: رشیدیة)
شرح المجلۃ لسلیم رستم باز میں ہے:
"كما أن أعيان المتوفى المتروكة عنه مشتركة بين الورثة علي حسب حصصهم."
(كتاب الشركة، الفصل الثالث، ج: 1، ص: 610، ط: دارالإشاعة العربية)
مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:
"(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ص: 27، ط: دار الجیل)
مشکوۃ شریف میں ہے:
"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» . وفي رواية ...... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»".
( باب العطایا، ج: 1،ص: 261، ط: قدیمی)
ترجمہ:حضرت نعمان ابن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا : ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ …… آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔
(مظاہر حق ، باب العطایا، ج: 3، ص : 193، ط: دارالاشاعت)
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية".
(کتاب الهبة، الباب الثاني فیما یجوز من الهبة وما لا یجوز، ج:4، ص:378، ط: رشیدیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية".
(کتاب الهبة، ج: 5، ص: 690، ط: ایچ ایم سعید)
وفیه أیضا:
"وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم"
(کتاب الهبة، ج: 5، ص: 696، ط: ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101855
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن