
میں کراچی سے اپنے ہم زلف (بیوی کے بہنوئی) کے گھر کوئٹہ گیا ،ان کی بیٹی کارشتہ اپنے بیٹے کےلیے طے کرنا تھا ،میں نے ان سے رشتے کی بات کی تو انہوں نے کہا کہ نماز کے بعد مولوی صاحب سے دعاخیر کروالیتے ہیں ،نماز کے بعد ایک میں تھا ،ایک میرا ہم زلف تھا اور ایک آدمی اور تھا اور امام صاحب تھے یعنی ہم چار لوگ تھے تو امام صاحب کے سامنے میرے ہم زلف نے کہا کہ میں نے اپنی بیٹی ان کے بیٹے کو دے دی ہے اور میں نے کہا کہ میں نے اپنے بیٹے کے لیے قبول کیا ،اس کے بعد مولوی صاحب نے دعا کرادی ۔
اس کے کچھ عرصہ بعد ہم نے شادی طے کرنے کےلیے رابطہ کی کوشش کی لیکن وہ لوگ رابطہ نہیں کررہے تھے تو میرے بیٹے نے اس لڑکی کے والد کو فون کیا تو باتوں میں کچھ تیزی آئی تو میرے بیٹے نے کہا کہ آپ کی بیٹی مجھ پر تین طلاق کے ساتھ طلاق ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ جو ہم نے مسجد میں مولوی صاحب کے سامنے رشتے کی بات کی اور دعا خیر کی کیا اس سے نکاح منعقد ہوا ہے کہ یہ تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں یااس مجلس سے نکاح نہیں ہوا تھا اور طلاق نہیں ہوئی؟
واضح رہے کہ ہمارے ہاں منگنی کے موقع پر ویسے بڑے جمع ہوجاتے ہیں ،دولہا کو نہیں لے جاتے ہیں اور رشتہ طے کرلیتے ہیں جبکہ رخصتی کے موقع پر دولہا کو لے جاتے ہیں اور باقاعدہ ایجاب وقبول کے ساتھ خطبہ پڑھ کر نکاح ہوتاہے ۔
ہمارے سوال کرنے کامقصد یہ ہے کہ ہم اپنے بیٹے کا اسی لڑکی سے رشتہ کرناچاہتے ہیں ،لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ کے بیٹے نے جو طلاق دی وہ ہوگئی ہے اب دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا اور کچھ کہتے ہیں کہ وہ مجلس صرف منگنی کی تھی نکاح ہوا ہی نہیں تھا اس لیے آپ کے بیٹے کی طرف سے طلاق نہیں ہوئی ہے اب رشتہ کرسکتے ہیں ۔
آپ حضرات اس تفصیل کی روشنی میں بتادیں کہ جو ہم امام سمیت چار لوگ رشتے کے سلسلے میں جمع تھے اور رشتہ طے کیا کیاوہ منگنی تھی یانکاح شمار ہوگا ؟کیامیرے بیٹے کےلیے اس لڑکی سے نکاح شرعا جائزہے یانہیں ؟
یاد رہے کہ یہ مجلس منگنی کی تھی نکاح کی مجلس نہیں تھی ۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ مذکورہ مجلس مجلسِ نکاح نہیں تھی،رواج کے مطابق منگنی کی مجلس تھی تو اس مجلس میں ہونے والی گفتگو کی حیثیت وعدہ نکاح کی ہوگی ،اور اس سے نکاح منعقد شمار نہیں ہوگا،پس سائل کے بیٹے نے جو الفاظ اپنے متوقع سسر سے کہے تھے کہ "آپ کی بیٹی مجھ پر تین طلاق کے ساتھ طلاق ہے" اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،مذکورہ الفاظ شرعا لغو شمار ہوں گے ۔
لہذا مسئولہ صورت میں سائل کے بیٹے کے لیے اسی لڑکی سے نکاح کرناشرعا جائز ہوگا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(وينعقد)ملتبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي)... ينعقد أيضا (بما) أي بلفظين (وضع أحدهما له) للمضي (والآخر للاستقبال) أو للحال، فالاول الامر (كزوجني)... والثاني المضارعالمبدوء بهمزة أو نون أو تاء كتزوجيني نفسك إذا لم ينو الاستقبال،وكذا أنا متزوجك أو جئتك خاطبا لعدم جريان المساومة في النكاح ،أو هل أعطيتنيها أن المجلس للنكاح وإن للوعد فوعد."
(کتاب النکاح ،ج:3،ص: 12، ط:سعید)
وفیہ ایضا:
"(ومحله المنكوحة).وأهله زوج عاقل بالغ مستيقظ."
(کتاب الطلاق،ج:3،ص: 230،ط:سعید)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
‘‘منگنی میں لڑکی لڑکا دینے لینے کہنے سے نکاح نہیں ہوتاـ‘‘
"سوال :ہماری قوم میں یہ رواج ہے کہ بوقت منگنی لڑکی والا لڑکے والے سے مخاطب کر کے کہتا ہے کہ میں نے اپنی فلاں لڑکی تمہارے فلاں لڑکے کو دی لڑکے والا کہتا ہے کہ میں نے اپنے لڑکے کے واسطے قبول کی اس صورت میں نکاح ہو جاتا ہے یا نہیں بعض لوگ اس طرح منگنی کر کے لڑکی کو دور جگہ بیاہ دیتے ہیں۔
الجواب :منگنی کے وقت الفاظ مذکورہ کہنے سے نکاح منعقد نہیں ہو تا بلکہ یہ وعدہ نکاح ہے اور اس سےمنگنی ہوتی ہے جیسا کہ درمختار میں ہے: وان للوعد فوعد ."
(كتاب النكاح،پہلا باب، ج:7، ص:106، ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100419
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن