
کیا ملازمت کے لیے پیسے دینا جائز ہے؟ میں نے بہت جگہ اپلائی کیا اور ٹیسٹ دیا، لیکن جاب اس کو ملی جس نے پیسے دیے یا سفارش کروائی۔ ایک جاب پر ٹیسٹ پاس کرنے کے باوجود مجھ پیسے مانگے گئے اور نہ دینے پر وہ جاب کسی اور آدمی کو دے دی گئی۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ بلوچستان میں سرکاری کوئی کام بھی رشوت کے بغیر نہیں ہوتا۔
ملازمت کے حصول کے لیے رقم دینا رشوت ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔ پس اگر کسی نے رشوت دے کر نوکری حاصل کر لی تو اس پر توبہ و استغفار کرنا لازم ہوگا۔ رہی بات اس کی تنخواہ کے حلال یا ناجائز ہونے کی، تو اگر وہ شخص نوکری کا اہل ہو اور مفوضہ کام ضابطہ کے مطابق سرانجام دیتا ہو تو اس کی تنخواہ حلال ہوگی، بشرطیکہ نوکری کے دوران کوئی ناجائز کام نہ کرتا ہو۔
ملحوظ رہے کہ سرکاری نوکری کرنا شرعاً ضروری نہیں، غیر سرکاری نوکری سے بھی گزارہ کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا رشوت دینے سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:
"وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما، قال: «لعن رسول الله الراشي والمرتشي» رواه أبو داود، وابن ماجه.
(وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما) : بالواو (قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي») : أي: معطي الرشوة وآخذها، وهى الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة. وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلماً فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة ; لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلايجوز لهم الأخذ عليه."
(کتاب الأمارۃ و القضاء، باب رزق الولاۃ و هدایاهم، ج نمبر: 6 ص نمبر 2437، ط: دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه و ماله و لاستخراج حقّ له ليس برشوة يعني في حق الدافع "
(کتاب الحظر والإباحة، فصل في البیع، ج: 6، ص: 423، ط: سعید)
الموسوعة الفقهیة الکویتیةمیں ہے:
"ويحرم طلب الرشوة، وبذلها، وقبولها، كما يحرم عمل الوسيط بين الراشي والمرتشي.
غير أنه يجوز للإنسان - عند الجمهور - أن يدفع رشوة للحصول على حق، أو لدفع ظلم أو ضرر، ويكون الإثم على المرتشي دون الراشي ۔ قال أبو الليث السمرقندي: لا بأس أن يدفع الرجل عن نفسه وماله بالرشوة ... واستدلوا من الأثر بما ورد عن ابن مسعود رضي الله عنه أنه كان بالحبشة فرشا بدينارين، حتى خلي سبيله. وقال: إن الإثم على القابض دون الدافع. وعن عطاء والحسن: لا بأس بأن يصانع الرجل عن نفسه وماله إذا خاف الظلم."
(ج:22 ص:222 ط: وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100982
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن