
1۔کیا مسلمان مرد میت کو دفناتے ہوئے عمامہ/پگڑی پہناسکتے ہیں؟
2۔کیا جس قبرستان میں مزید تدفین کی گنجائش نہ ہو، تو پھر بھی میت کے وارثوں کے اصرار اور خواہش پر کسی دوسری میت کو نکال کر دفنانا کیا شرعی حکم رکھتا ہے؟ جب کہ دیگر قبرستانوں میں دفنانے کی جگہ بھی ہو، لیکن وارثوں کا اپنی سہولت اور خواہش کو ترجیح دینا کیسا ہے؟
3۔كيا پیشگی كفن اور تدفين كے ليے قبر كا انتظام و اہتمام كرنا اور جگہ مختص كرنا جائز ہے؟
1۔صورتِ مسئولہ میں میت کے سر پر عمامہ باندھنا خلافِ سنت ہے، سنت کے موافق کفن میں عمامہ شامل نہیں، اس لیے میت کو عمامہ نہ پہنایا جائے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر کو بھی عمامہ نہیں باندھا گیا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وقيل لا يعمم بكل حال كما في المحيط والأصح أنه تكره العمامةبكل حال كما في الزاهدي. اهـ."
(كتاب الصلاة، ج:2، ص:202، ط:سعيد)
2۔واضح رہے کہ کسی پُرانی قبر کو کھود کر اس میں دوسری میت کو دفن کرنا یہ پُرانی میت کی بے حرمتی ہے اور انسان جس طرح زندہ ہونے کی حالت میں محترم و مکرم ہے، اسی طرح انسانی جسم مرنے کے بعد بھی قابلِ اعزاز و اکرام ہے اس لیے محض ورثاء کے اصرار اور خواہش پر (کہ مثلاً میرا میرے والد اس قبرستان میں مدفون ہیں، تو والدہ کی تدفین بھی یہیں ہونی چاہیے)یا سہولت کی خاطر کسی عزیز کی قبر کو کھود کر اس میں دوسرے عزیز کو دفن کرنا قطعا جائز نہیں ہے، بالخصوص جب کہ شہر کے دوسرے قبرستانوں میں جگہ بھی موجود ہو اگرچہ وہ قبرستان دور ہی کیوں نہ ہوں۔
تاہم اگر کوئی ایسی صورتِ حال پیش آجائے کہ شہر کے سارے قبرستان بھر چکے ہوں اور کسی قبرستان میں نئی قبر ملنا انتہائی دشوار ہو، یا قبرستان ہو توسہی، لیکن اتنا دور ہو کہ وہاں تک میت کو منتقل کرنا مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہو، تو ایسی صورت میں وہ قبریں جو کافی پُرانی ہوچکی ہوں اور قبر کی نشانی مٹ چکی ہو اور ان پر اتنا عرصہ گزر چکا ہو کہ اتنے عرصے میں میت کا جسم ختم ہو کر مٹی بن جاتا ہے اور تجربہ سے بھی سے بات ثابت ہو کہ اتنے عرصے میں میت ختم ہو کر مٹی بن جاتی ہے، تو ایسی صورت میں صرف ان قبروں کو کھود کر اس میں دوسری میت کو دفن کرنے کی اجازت ہے، لیکن اس میں بھی اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، کہ اگر قبر کھودتے وقت پُرانی میت کی کچھ ہڈیاں وغیرہ نکل آئیں، تو ان کو ایک طرف رکھ کر درمیان میں مٹی کی آڑ بنا کر پھر اس میں دوسری میت کو دفن کیا جائے، اس میت کے اجزاء کے ساتھ ہی دوسری میت کو دفن کرنا جائز نہیں۔
نوٹ: وہ مدت جس میں میت کا جسم ختم ہو کر مٹی بن جاتا ہے، علاقے اور موسم کے بدلنے سے مختلف ہوسکتی ہے، اس کے لیے ہر علاقے کے ماہرین اور تجربہ کار لوگ جو مدت بتائیں، اس کے مطابق عمل کیا جائے۔ نیز: یہ کہ جب تک قبر کی نشانی موجود ہو اس کو کھولنا جائز نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولا يدفن اثنان أو ثلاثة في قبر واحد إلا عند الحاجة."
(كتاب الصلاة، ج:1، ص:166، ط:دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"وليس من الضرورة المبيحة لجمع ميتين فأكثر ابتداء في قبر واحد قصد دفن الرجل مع قريبه أو ضيق المحل في تلك المقبرة مع وجود غيرها، وإن كانت مما يتبرك بالدفن فيها فضلا عن كون ذلك ونحوه مبيحا للنبش، وإدخال البعض على البعض قبل البلى مع ما فيه من هتك حرمة الميت الأول، وتفريق أجزائه، فالحذر من ذلك اهـ."
(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج: 2، ص: 233، ط:سعيد)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
سوال: اگر اتفاقیہ قبر کھودتے ہوئے لحد میں جاکر کسی کہنہ مردہ کی ہڈیاں یا نعش نکل آوے تو اس لحد میں مردہ د جدید رکھا جائے یا دوسری قبر کھود کر رکھا جاوے اور دیدہ و دانستہ پرانی قبر میں مردہ دفن کرنا کیسا ہے؟
جواب: دیدہ و دانستہ پرانی قبر کو بحالتِ موجودگی میت کے بدون ضرورت کے کھودنا جائز نہیں اور اگر اتفاقاً قبر کھودتے ہوئے دوسری میت کی ہڈیاں نکلیں، تو ان کو ایک طرف کریں اور کسی قدر بیچ میں پردہ رکھ کر دوسری میت کو دفن کریں، یہ جائز ہے، کیوں کہ مردہ کے بوسیدہ ہونے کے بعد جواز ہی مختار ہے۔ چنانچہ شامی میں یہ نقل اقوال علماء کے یہ لکھا ہے :فالأولى إناطة الجواز بالبلى إذ لا يمكن أن يعد لكل ميت قبر لا يدفن فيه غيره اور قبل البلاء ایسا کرنا ناجائز قرار دیا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:وما يفعله جهلة الحفارين من نبش القبور التي لم تبل أربابها، وإدخال أجانب عليهم فهو من المنكر الظاهر۔ فقط۔
(فتاوی دار العلوم دیوبند، ج:5، ص:261، 262، ط:دار الاشاعت)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
سوال: علماء دین سے راہ نمائی مطلوب ہے، مندرجہ ذیل مسئلہ میں ہمارے ملک میں آبادی کے بے تحاشہ پھیلاؤ اور تیز رفتار اضافہ نے خاص طور پر بڑے شہروں میں رہائش کے معاملہ کو جس حد تک دشوار بنادیا ہے، وہ سب پر عیاں ہے، اس کا قدرتی نتیجہ یہ بھی ہے کہ قبرستانوں کی گنجائشیں بڑھتی ہوئی ضرورتوں کا ساتھ دینے سے عاجز آتی جارہی ہیں، شہری آبادی سے بہت دور دراز جگہوں میں نئے قبرستان بنا بھی لیے جائیں، تو وہاں تک اموات کا حمل و نقل بہت دشوار بلکہ عملاً ناممکن نظر آتا ہے، اس کا ایک حل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قدیم قبرستانوں میں دوبارہ تدفین شروع کی جائے، بشرطیکہ شریعت اسلامیہ اس کی روادار ہو، اس لیے علماء کرام راہ نمائی فرمائیں کہ شرعاً کتنی مدت کے بعد کسی پرانی قبر کو دوبارہ تدفین کے لیے کام میں لایا جاسکتا ہے؟ جب کہ مبصرین کا عام خیال یہ ہے کہ چالیس سال یا زیادہ سے زیادہ پچاس سال کے عرصہ میں مدفون میت (الا ماشاء اللہ) خاکستر محض ہوجاتی ہے، تو کیا ان مقابر کو جن کی تدفین پر پچاس ساٹھ سال کا عرصہ یقینی طور پر گزر چکا ہو، دوبارہ کھود کر تدفین کے کام میں لایا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اس معاملہ میں شریعت مقدسہ کی واضح راہ نمائی سے ممنون فرمائیں، جزاکم اللہ خیراً ۔ بینو توجروا (از دہلی)
الجواب: شامی میں ہے:ولا يحفر قبر لدفن آخر إلا إن بلي الأول فلم يبق له عظم إلا أن لا يوجد فتضم عظام الأول ويجعل بينهما حاجز من تراب ............ الي قوله ........... وقال الزيلعي: ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه اهـ.. الي قوله..قلت فالأولى إناطة الجواز بالبلى إذ لا يمكن أن يعد لكل ميت قبر لا يدفن فيه غيره، وإن صار الأول ترابا لا سيما في الأمصار الكبيرة الجامعة .......................
مذکورہ بالا عبارتوں سے واضح ہوتا ہے کہ راجح قول کے مطابق مردہ جب خاک ہوجائے اور اس کا اثر باقی نہ رہے، تو اس صورت میں دوسرے میت کو اس قبر میں دفن کرنا جائز ہے، خاص کر بڑے شہروں میں جہاں زمین کی قلت ہوتی ہے اور اس سے قبل جب کہ اندازہ یہ ہو کہ میت کا جسم خاک نہ ہوا ہوگا، قصدا و ارادۃ بلا عذر شرعی قبر کھودنا جائز نہ ہوگا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب کہ زمین کی قلت ہو، نیا قبرستان آبادی سے بہت دور ملتا ہو اور وہاں تک اموات کا نقل و حمل بہت دشوار ہو، تو مبصرین جتنی مدت کا اندازہ بتائیں اور تجربہ سے بھی ان کی بات کی تصدیق ہوتی ہو، تو اتنی مدت کے بعد پُرانی قبر میں میت دفن کرنا جائز ہے، اگر کبھی ہڈیاں نکالیں، تو پوری احترام کے ساتھ قبر کے ایک جانت رکھ کر مٹی کی آڑ کردی جائے، پختہ قبر بنانے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے کہ شرعا بھی ممنوع ہے اور مصلحت کے بھی خلاف ہے۔
(فتاوی رحیمیہ، ج:7، ص:69، 70، 71، ط:دار الاشاعت)
3۔کسی شخص ک لیے مرنے سے پہلے اپنی زندگی میں اپنے لیے ذاتی زمین یا ذاتی قبرستان میں قبر کے لیے جگہ مختص کرنا جائز ہے، البتہ وقف قبرسان میں قبر کے لیے جگہ مختص کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ وہ شخصی جائیداد نہیں ہے، اسی طرح اگر کوئی زمین سرکاری طور پر اس علاقہ والوں کے لیے مشترکہ طور پر قبرستان کے لیے مختص کی گئی ہے، تو اس میں بھی کسی فرد کے لیے قبل از وقت کسی خاص جگہ کو اپنے لیے مختص کرنا جائز نہیں ، اس لیے کہ اس میں عام لوگوں کا حق متعلق ہے اور اگر زمین چند افراد کی مشترکہ ملکیت ہو، تو ان سب کی اجازت سے اس میں قبر کے لیے جگہ مختص کرنا جائز ہے، بلا اجازت جائز نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"ويحفر قبرا لنفسه، وقيل يكره؛ والذي ينبغي أن لا يكره تهيئة نحو الكفن بخلاف القبر.
(قوله: ويحفر قبرا لنفسه) في بعض النسخ: وبحفر قبر لنفسه، على أن لفظة حفر مصدر مجرور بالباء مضاف إلى قبر: أي ولا بأس به."
(كتاب الصلاة، ج:2، ص:244، ط:سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100638
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن