
ہمارے علاقہ میں 120 گھروں پر مشتمل گجر برادری میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے، جس میں بطورِ ایڈوانس 1500 روپے، اور ماہانہ 500 روپے فی گھر کمیٹی کے ممبر کے پاس جمع کرتا ہے، پھر جب اس برادری میں کسی کا انتقال ہوتا ہے تو کمیٹی والے وہ فنڈ میت کے اخراجات وغیرہ پر خرچ کرتے ہیں، جس میں تین دن کا کھانا، دور دراز سے آنے والے مہمانوں کا اکرام، میت کو دوسرے وطن منتقل کرنے کا خرچہ وغیرہ شامل ہے، اور جو آدمی مذکورہ رقم جمع نہیں کرے گا تو اسے خارج کر دیا جائے گا، اسے کمیٹی کی طرف سے مذکورہ سہولیات فراہم نہیں کی جائیں گی۔
تو پوچھنا یہ ہے کہ کیا مذکورہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو جواز کی کوئی صورت قرآن وحدیث کی روشنی میں بتادیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ معاملہ شرعی اعتبار سے کئی قباحتوں کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے درست نہیں ہے، کیوں کہ اس کا مقصد ہر ممبر کو اس کی جمع کردہ رقم کے بدلے سہولیات فراہم کرنا ہے، یہ سہولیات اس کی جمع کردہ رقم کی نسبت سے کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوسکتی ہیں، لہذا یہ معاملہ قمار (جوا) کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔
البتہ اگرمندرجہ بالا طریقہ سے اجتناب کرتے ہوئے رفاہی انجمن یا کمیٹی قائم کی جائے جس میں مخیر حضرات ازخود چندہ دیں، کسی فرد کو چندہ دینے پر مجبور نہ کیا جائے بلاتفریق مذکورہ خدمات انجام دی جائیں تو اس کی گنجائش ہے، یہ انجمن یا کمیٹی خاندان کے لوگوں کی ضروریات کی کفالت کرے، بے روزگار افراد کے لیے روزگار، غریب ونادار بچیوں کی شادی اور دیگر ضروریات میں ضرورت مندوں کی مدد کرے، ان امور کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ اگریہ کمیٹی یا انجمن خاندان کے کسی فرد کی موت کے بعد اس کی تجہیز وتکفین پر آنے والے اخراجات بھی اپنے ذمہ لے تو یہ درست ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: لأنه يصير قماراً)؛ لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص."
(كتاب الحظر والإباحة، 6 / 403، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100735
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن