بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1448ھ 17 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسے کے طلباء سے فیس لینے کا حکم


سوال

مدرسے کے طلباء سے مدرسے کے اخراجات  کےلئےفیس لینے کاکیا حکم ہے؟ اور اِس مینٹینس میں کن کن امور کو شامل کیا جاسکتا ہے؟ وضاحت مطلوب ہے۔

موقوفہ جگہ سے مراد مدرسہ ہے اور مینٹیننس کے اخراجات سے مراد مدرسے کی حفاظت اور صفائی پر آنے والا خرچہ ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگرمدرسے کےاخراجات  کامعقول بندوبست اورانتظام  چندے وغیرہ  سےنہ ہوتومذکورہ مدرسہ میں پڑھنے والےطلباء سے بطور فیس(تعلیمی اخراجات)  رقم وصول کرنا جائز ہے، اور اس رقم کومدرسہ کی تمام ضروریات مثلاً طلباء کا کھانا، اساتذہ کی تنخواہوں،بجلی کے بِل وغیرہ میں استعمال کرنادرست ہے۔

المحيط البرهاني في الفقه النعماني میں ہے:

"ومشايخ بلخ جوزوا الإستئجار على تعليم القرآن، إذا ضرب لذلك مدة أفتوا بوجوب أجر المثل قالوا: وإنما كره تعليم القرآن بالأجر في الصدر الأول؛ لأن حملة القرآن كانوا قليلاً فكان التعليم واجباً حتى لا يذهب القرآن، فأما في زماننا كثر حملة القرآن ولم يبق التعليم واجباً، فجاز الإستئجار عليه.

وذكر الشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل البخاري كان المتأخرون من أصحابنا يجوزون ذلك، ويقولون إنما كان المتقدمون يكرهون ذلك لأنه كان للمعلمين عطيات من بيت المال وكانوا مستغنين عما لا بد لهم من أمر معاشهم، وقد كان في الناس رغبة في التعليم بطريق الحسبة، وللمتعلمين مروءة في المجازاة بالإحسان من غير شرط أما اليوم ليس لهم عطيات من بيت المال والتعليم يشغلهم عن اكتساب ما لا بد لهم من أمر المعاش وانقطع رغبة المعلمين في الإحتساب ومجازاة المتعلمين من غير شرط، فتجوز الإجارة ويجبر المستأجر على دفع الأجرة ويحبس بها وبه يفتى."

(كتاب الإجارت، ‌‌الفصل الخامس عشر: في بيان ما يجوز من الإجارات، وما لا يجوز، ج:7، ص:479، ط:داالكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144702100819

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں