بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میں تمہیں تین بار طلاق دے دیتا ہوں پھر یہی چاہتی ہو کیا؟ سے طلاق کے عدم وقوع کا حکم


سوال

میاں بیوی کے درمیان بحث و مباحثہ چل رہاتھا، تکرار کے دوران شوہر نے بیوی سے جھنجھلا کر پوچھا، بیوی کا بیان:" میں تمہیں تین بار طلاق دے دوں پھر یہی چاہتی ہو کیا؟" شوہر کا بیان: "میں تمہیں تین بار طلاق دے دیتا ہوں پھر یہی چاہتی ہو کیا؟" یہ جملا سوالیہ انداز میں ایک ہی بار ادا کیا گیا ہے،  اور اس کے جواب میں خاموشی تھی ، براہ کرم اس مسئلہ پر رہنمائی فرمائیں ۔ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سوالیہ انداز میں شوہر نے یہ الفاظ "میں تمہیں تین بار طلاق دے دیتا ہوں پھر یہی چاہتی ہو کیا؟"کہے ہوں جیساکہ شوہر کا اپنا بیان ہے یا یہ الفاظ " میں تمہیں تین بار طلاق دے دوں پھر یہی چاہتی ہو کیا؟"کہے ہوں جیسا کہ بیوی کا بیان ہے، دونوں صورتوں میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح بدستور برقرار ہے،البتہ آئندہ کے لیے شوہر کو اس طرح کے الفاظ کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

في المحيط: "لو قال بالعربية: أطلق، لايكون طلاقاً إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقاً."

(کتاب الطلاق، الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية، ج: 1، ص: 384، ط: رشيدية)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100132

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں