
میری بیوی ناراض ہو کر میکے چلی گئی تھی، کیونکہ میں نشہ کرتا تھا۔ میرے بار بار منانے کے باوجود وہ واپس نہیں آئی، تو میں نے نشے کی حالت میں فون پر اسے طلاق دے دی، جبکہ میں اس وقت بائیک چلا رہا تھا۔ میں نے یہ الفاظ کہے تھے: ”میں تمہیں دسویں دفعہ طلاق دیتا ہوں۔“ یہ جملہ میں نے صرف ایک ہی مرتبہ کہا تھا۔ میری کوئی نیت نہیں تھی، محض غصے میں یہ الفاظ کہہ دیے تھے۔ نیز اس سے پہلے میں نے کبھی کوئی طلاق نہیں دی، اور طلاق کا یہ واقعہ آج سے تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل رمضان میں پیش آیا تھا۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا نشے کی حالت میں کہے گئے ان الفاظ سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اگر طلاق واقع ہوئی تو کتنی شمار ہوگی؟ اور کیا اب رجوع کی کوئی گنجائش باقی ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ نشے کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا اپنی بیوی سے فون پر غصّے اور نشے کی حالت میں یہ کہنا کہ ”میں تمہیں دسویں دفعہ طلاق دیتا ہوں۔“ تو یہ صریح الفاظِ طلاق میں سے ہے۔ لہٰذا اس سے طلاق واقع ہوگئی، خواہ طلاق کی نیت تھی یا نہیں تھی۔
البتہ ”دسویں دفعہ“ کی قید چونکہ سابقہ طلاقوں کے وجود پر موقوف ہے، اور یہ لفظ اپنے وضع کے اعتبار سے سابق میں نو طلاقوں کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے اگر واقعہ سائل نے اس سے پہلے کوئی طلاق نہیں دی تھی؛ دوم یہ کہ دسویں طلاق کی شرعاً گنجائش بھی نہیں ، اس لیے دسویں کا لفظ لغو شمار ہوگا۔اس جملے سے صرف ایک ہی طلاقِ رجعی واقع ہوئی ہے۔
پس چونکہ یہ طلاقِ رجعی ہے اور واقعہ کو تقریباً ڈیڑھ ماہ گزرا ہے؛ اس لیے اگر ابھی تک عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اور اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک عدت) مکمل نہیں ہوئی تو نکاح باقی ہے اور عدت کے اندر سائل رجوع کر سکتا ہے، اور اگر عدت مکمل ہو چکی ہو تو پھر رجوع جائز نہیں؛ کیونکہ نکاح ختم ہوچکا ہے۔ البتہ دونوں اگر دوبارہ ساتھ رہنے پر رضامند ہوں تو شرعی گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب و قبول اور نئے مہر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں، اور دونوں صورتوں میں آئندہ کے لیے سائل کو صرف دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا۔
باقی رجوع کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ سائل شرعی گواہوں کی موجودگی میں اپنی زبان سے یوں کہہ دے کہ ”میں نے اپنی بیوی سے رجوع کیا۔“ تو اس سے رجوع ہوجائے گا۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"وطلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ. وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط.... أجمعوا أنه لو سكر من البنج أو لبن الرماك ونحوه لا يقع طلاقه وعتاقه كذا في التهذيب. ومن سكر من البنج يقع طلاقه ويحد لفشو هذا الفعل بين الناس وعليه الفتوى في زماننا كذا في جواهر الأخلاطي..... ومن شرب من الأشربة المتخذة من الحبوب والعسل فسكر وطلق لا يقع عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى خلافا لمحمد - رحمه الله تعالى - ويفتى بقول محمد - رحمه الله تعالى - كذا في فتح القدير."
(كتاب الطلاق، الباب الأول، فصل فيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه، ج:1، ص:353، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(أو سكران) ولو بنبيذ أو حشيش أو أفيون أو بنج زجرا، وبه يفتى تصحيح القدوري.
وفي الرد: وبين في التحرير حكمه أنه إن كان سكره بطريق محرم لا يبطل تكليفه فتلزمه الأحكام وتصح عبارته من الطلاق والعتاق، والبيع والإقرار، وتزويج الصغار من كفء، والإقراض والاستقراض لأن العقل قائم، وإنما عرض فوات فهم الخطاب بمعصيته، فبقي في حق الإثم ووجوب القضاء."
(کتاب الطلاق، مطلب في تعریف السکران و حکمه، ج:3، ص:239، ط:ایج ایم سعید)
عجالۃ المحتاج الی توجیہ المنہاج میں ہے:
"ولو قال: أنت طالق طلقة أو أحسن الطلاق أو أجمله فكالسنة، لأنه المتصف بهذه الصفات، اللهم إلا أن ينوي ما فيه تغليظ عليه بأن يكون في حال البدعة وأراد الوقوع في الحال ووصفه بالحسن لسوء عشرتها وخلقها، أو طلقة قبيحة أو أقبح الطلاق أو أفحشه فكالبدعة، لأنه المتصف بهذه الصفات، اللهم إلا إن ينوي ما فيه من تغليظ عليه بأن يكون في حال السنة وأراد به الوقوع في الحال، ووصفه بالقبح، لأن طلاق مثلها مستقبح لحسن خلقها وعشرتها، أو سنية بدعية أو حسنة قبيحة، أي والمخاطبة ذات إقراء، وقع في الحال، لأنه وصف الطلاق بصفتين متضادتين فيلغو الوصفان ويبقى أصل الطلاق، قال السرخسي في الأمالي: فإن فسر كل صفة بمعنى فقال: أردت كونها حسنة من حيث الوقت، وقبيحة من حيث العدد حتى تقع الثلاث أو بالعكس قبل منه، وإن تأخر الوقوع لأن ضرر وقوع العدد أكثر من فائدة تأخير الوقوع."
(كتاب الطلاق، ج:3، ص:1373، ط:دار الكتاب الأردن)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"قال: وإن وكله أن يطلقها واحدة رجعية فطلقها واحدة بائنة طلقت واحدة رجعية؛ لأنه لاغ في قوله: بائنة؛ لأنه لم يفوض إليه تلك الصفة يبقى قوله: أنت طالق فيقع به تطليقة رجعية وهذا على أصلهما ظاهر وعلى أصل أبي حنيفة رحمه الله كذلك؛ لأنه بما ألحق كلامه من الصفة لا يخرج من أن يكون ممتثلا في إيقاع أصل الطلاق فإن الأصل لا يتغير بالصفة بخلاف ما إذا أوقع ثلاثا فإنه يصير مخالفا في أصل الإيقاع؛ لأن الثلاث اسم لعدد مركب مؤلف، والواحدة في ذوي الأعداد أصل العدد وليس فيه تأليف وتركيب، وبينهما مغايرة على سبيل المضادة."
(كتاب الوكالة، باب توكيل الزوج بالطلاق والخلع، ج:19، ص:126، ط:دار المعرفة بيروت)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة."
(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، ج:1، ص:468، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100581
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن