
میں نے غصّے اور جھگڑے کی حالت میں اپنی بیوی سے دو مرتبہ کہا کہ ”میں تجھے طلاق دیتا ہوں۔“ پھر میں باہر چلا گیا اور تقریباً آدھا گھنٹے بعد واپس آیا تو دوبارہ جھگڑا شروع ہوگیا، تو اس وقت میں نے یہ کہا کہ ”جا! بس تین دفعہ ہوگیا۔“ اس جملے سے میری مراد طلاق کی نہیں تھی، بلکہ بیوی کو محض خاموش کرانا مقصود تھا، تو کیا دو طلاقوں کے ساتھ تیسری طلاق بھی ہوچکی ہے کہ نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کا غصّے اور جھگڑے کی حالت میں اپنی بیوی سے دو مرتبہ یہ کہنا کہ ”میں تجھے طلاق دیتا ہوں۔“ اس سے تو بیوی پر دو طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔
بعد ازاں سائل کے گھر سے نکل جانے اور آدھے گھنٹے بعد واپس آنے کے بعد جھگڑے کی حالت میں مزید یہ کہنا کہ ”جا! بس تین دفعہ ہو گیا۔“ یہ جملہ چونکہ کنائی الفاظ پر مشتمل ہے، طلاق اور غیرِ طلاق کا احتمال رکھتا ہے؛ اس لیے اس میں طلاق کی نیت یا مذاکرۂ طلاق کا ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا اگر واقعتاً مذکورہ صورت میں سائل کی مراد اس جملے سے طلاق دینا نہ تھی، بلکہ محض بیوی کو خاموش کرانا مقصود تھا اور مذاکرۂ طلاق بھی نہیں پایا گیا، نیز مجلس بھی تبدیل ہوگئی تھی تو اس جملہ سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
غرض زیرِ نظر مسئلہ میں مجموعی طور پر سائل کی بیوی پر دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔ لہٰذا اگر سائل نے اس سے پہلے مزید کوئی طلاق نہیں دی تو اب اسے عدت کے اندر رجوع کا حق حاصل ہے، اور اگر عدت گزر چکی ہو تو دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے تجدیدِ نکاح کی ضروری ہوگی، اور آئندہ کے لیے سائل کو صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا۔ آئندہ کبھی تیسری طلاق بھی دے دی تو بیوی اپنے شوہر (سائل) پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی، پھر دوبارہ رجوع اور تجدیدِ نکاح کی بھی گنجائش نہیں ہوگی۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال)، وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب.
(قوله: وهي حالة مذاكرة الطلاق) أشار به إلى ما في النهر من أن دلالة الحال تعم دلالة المقال قال: وعلى هذا فتفسر المذاكرة بسؤال الطلاق أو تقديم الإيقاع، كما في اعتدي ثلاثاً وقال قبله المذاكرة أن تسأله هي أو أجنبي الطلاق."
(کتاب الطلاق، باب الکنایات، ج:3، ص:297/296، ط:ایج ایم سعید)
فتاوىٰ قاضیخان علی ہامش الہندیۃ میں ہے:
"رجل قال لامرأته: ترايكي أو قال: تراسه، قال الصدر الشهيد رحمه ﷲ تعالى: طلقت ثلاثا، ولو قال: تويكي أو قال: توسه، قال أبو القاسم رحمه ﷲ تعالى: لا يقع الطلاق، قال مولانا رضي ﷲ تعالى عنه: وينبغي أن يكون الجواب على التفصيل: إن كان ذلك في حال مذاكرة الطلاق أو في حالة الغضب يقع الطلاق وإن لم يكن لا يقع إلا بالنیة كما لو قال بالعربية: أنت واحدة."
(كتاب الطلاق، الباب الخامس في طلاق المريض، ج:1، ص:464، ط:المكتبة الماجدية كوئته)
وفيه أيضاً:
"و إذا طلق الرجل امرأته تطلييقةً رجعية أو رجعيتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض، كذا في الهداية."
(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة، ج:1، ص:470، ط:المكتبةالرشيدية كوئته)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709102338
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن