
ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک مرتبہ کہا کہ میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں، پھرتقریبا ایک ہفتے بعد کہا میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں، لیکن میرا ارادہ نہیں ہے، اب سوال یہ ہے کہ طلاق واقع ہو گئی اور اگر ہو گئی تو کتنی طلاقیں ہو گئیں؟
صورت مسئوله میں جس شخص نے اپنی بیوی سے یہ کہا کہ ”میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں“ پھر ایک ہفتے بعد دوبارہ یہ الفاظ کہے تو اس سے اس کی بیوی پر دو طلاقیں واقع ہو گئی ہیں اور طلاق کے صریح الفاظ استعمال کرنے کے بعد اس شخص کے یہ کہنا کہ” میرا ارادہ نہیں ہے“ شرعا معتبر نہیں ، دو طلاق کے بعد شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے ،شوہر کی طرف سے عدت کے دوران رجوع کرنے کی صورت میں دونوں ایک ساتھ رہ سکیں گے اور آئندہ کے لیے شوہر کوصرف ایک طلاق کا اختیار حاصل ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح".
"(قوله وما بمعناها من الصريح) أي مثل ما سيذكره من نحو: كوني طالقا واطلقي ويا مطلقة بالتشديد،وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر".
(كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج:3، ص:248، ط: دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144704100181
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن