بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

گلی میں اپنے گھر یا دوسرے کے گھر کے سامنے گاڑی کھڑی کرنا/ مین روڈ پر گاڑی کھڑی کرنے کا حکم


سوال

گلی میں اپنے گھر کے باہر گاڑی یا موٹر سائیکل کھڑی کرنا جائز ہے یا نہیں؟
گلی میں کسی اور کے گھر کے باہر گاڑی یا موٹر سائیکل کھڑی کرنا جائز ہے یا نہیں؟
روڈ پر گاڑی یا موٹر سائیکل کھڑی کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

1: گلی میں اپنے گھر کے باہر موٹر سائیکل یا گاڑی اس طرح کھڑی کرنا کہ بعد میں کسی آنے والی گاڑی یا راہ گزر کو تکلیف نہ ہو جائز ہے، اور اگر سواری کھڑی کرنے سے گلی کا راستہ بند ہو جاتا ہو یا لوگوں کو گزرنے میں تکلیف ہو، تو پھر اپنے گھر کے آگے بھی گاڑی یا موٹر سائیکل کھڑا کرنا جائز نہیں ہے۔

2: کسی دوسرے کے گھر کے آگے گاڑی یا موٹر سائیکل پارک کرنا بھی مندرجہ بالا شرائط کے ساتھ جائز ہے، تاہم اگر مکان کا مالک منع کرے تو اس کا منع کرنا درست ہے، اور اس صورت میں گاڑی کو ہٹانا ضروری ہوگا؛ کیوں کہ گھر کے آگے کا حصہ خاص مکان والے کو استعمال کرنے کا حق ہے۔ نیز کسی کے گھر کے آگے گاڑی یا موٹر سائیکل لگا کر استعمال کا دروازہ بالکل بند یا تنگ کردینا اخلاقی طور پر بھی مناسب نہیں ہے، اس لیے اس معاملہ میں پہلے اجازت لے لینی چاہیے۔

3: مین روڈ یا شاہراہِ عام پر اگر گاڑی یا موٹر سائیکل کھڑی کرنے کی حکومتِ وقت کے قانون کے مطابق پابندی نہیں ہوتی، اور نہ ہی اس سے آنے جانے والی گاڑیوں کو دشواری یا گزرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، تو مین روڈ یا شاہراہِ عام كے ایک طرف گاڑی وموٹر سائیکل کھڑی کرنا جائز ہے، ورنہ جائز نہیں ہو گا۔

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:

"إن إحداث شيء في الطريق العام يضيق الطريق ويضر بالمارة غير جائز، أما إذا كانت لا تضيق الطريق بسبب اتساعها فالإحداث جائز ما لم يمنع (الطوري) والحكم في الجلوس على الطريق العام للبيع والشراء هو على هذا الوجه فإذا كان مضرا فهو غير جائز وإذا كان غير مضر فجائز ومع ذلك إذا كان غير مضر ومنع فالإحداث غير جائز أيضا."

(الكتاب العاشر، الباب الثالث، الفصل الثالث، ٣/ ٢٣١، المادة: ١٢١٣، ط: دار الجيل)

مجمع الأنهر شرح ملتقى الأبحر میں ہے:

"(من أحدث في طريق العامة كنيفا أو ميزابا أو جرصنا) الجرصن قيل: هو البرج وقيل: جذع يخرجه الإنسان من الحائط ليبني عليه وقيل هو مجرى ماء يركب في الحائط وهو بضم الجيم وسكون الراء المهملة وضم الصاد المهملة (أو دكانا وسعه ذلك إن لم يضر بهم) أي بالعامة لأن الطريق معد للتطرق فله الانتفاع ما لم تتضرر العامة به وإنما قيد بذلك لقوله عليه الصلاة والسلام لا ضرر ولا ضرار في الإسلام فما تحقق فيه الضرر يأثم بأحداثه (ولكل منهم) أي العامة (نزعه) ومطالبته بالنقض لأن كل واحد منهم له حق فيه بالمرور بنفسه وبدوابه فكان له حق النقض كما في الملك المشترك فإن لكل واحد حق النقض لو أحدث غيرهم فيه شيئا."

(كتاب الديات، باب ما يحدث في الطريق، ٢/ ٦٥١، ط: المكتبة الحنيفية)

رد المحتار على الدر المختار میں ہے:

"(اختلفوا في مقدار عرض ‌الطريق جعل) عرضها (قدر عرض باب الدار) وأما في الأرض فبقدر ممر ‌الثور.

(قوله اختلفوا في مقدار عرض ‌الطريق) أي في سعته وضيقه وطوله، فقال بعضهم: يجعل سعته أكبر من عرض الباب الأعظم وطوله من الأعلى إلى السماء. وقال بعضهم غير ذلك عناية، وبه ظهر أن الاختلاف في تقدير الطريق المشترك لا في طريق كل نصيب فافهم."

(كتاب القسمة، ٦/ ٢٦٣، ط: سعيد)

فقط والله تعالى أعلم


فتویٰ نمبر : 144705101630

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں