
میرے نکاح کو تقریبا ایک سال ہوگیا، لیکن ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی، میں نے لڑائی کی وجہ سے واٹس ایپ پر اپنی بیوی کو یہ میسج کیا ہے، جس کے بارے میں سسرال والے کہتے ہیں، کہ اگلے مہینے کو دوسری اور تیسرے مہینے کو تیسری طلاق واقع ہوتی ہے۔ آپ حکم واضح کریں کہ اس کا کیا حکم ہے، میسج کے الفاظ یہ ہیں۔
"آج کے بعد مجھے کال میسج نہیں کرنا، میں تمہارے ساتھ اب ایک منٹ نہیں رہنا چاہتا، آج سے پہلے جب تمہارا دل کرتا تو رشتہ ختم کرنے کی بولتی، آج میں بول رہاہوں ہمارا کوئی رشتہ نہیں، میں نے آج تمہیں آزاد کیا ہر رشتہ سے، مجھے نہیں رہنا اب تمہارے ساتھ، جاسکتی ہو تم، جو بھی رشتہ تھا وہ اب تم شوق سے ختم کرلینا، آزاد کیا تمہیں ۔"
صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنی منکوحہ جو یہ یہ میسج کیا ہے کہ " میں نے آج تمہیں آزاد کیا ہر رشتہ سے " ان الفاظ سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے، نکاح ختم ہوچکا ہے ، اب سائل کو رجوع کا حق حاصل نہیں ہے ۔البتہ ان الفاظ سے آئندہ مہینوں میں مزید دوسری یا تیسری طلاق واقع نہیں ہوگی۔
البتہ اگر دونوں (سائل اور مطلقہ عورت) آپس میں رضامندی سے دوبارا نکاح کرنا چاہیں، تو نئے مہر اور شرعی گواہان کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرکے میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں، اور آئندہ کے لئے سائل(شوہر) کو صرف دو طلاق کا اختیار ہوگا۔
الدر المختار میں ہے:
"كنايته لا تطلق بها إلا بنية أو دلالة الحال ... أنت حرة ... سرحتك فارقتك، لا يحتمل السب والرد ... ويقع بالاخيرين وإن لم ينو،لان مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لانها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة، ولذا تقبل بينتها على الدلالة لا على النية."
(كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج: 1، ص: 214، ط: سعيد)
البحر الرائق میں ہے:
"وثلاثة من هذه الثمانية يقع بها حال الغضب، اعتدي،۔۔ فارقتك۔۔ أو سرحتك."
(كتاب الطلاق، باب الكنايات في الطلاق، ج: 3، ص: 327، ط: دار الكتب الإسلامي)
بدائع الصنائع میں ہے:
"سرحتك وفارقتك من الكنايات لا يقع الطلاق بهما إلا بقرينة النية كسائر الكنايات."
(كتاب الطلاق، فصل في الكناية في الطلاق، ج: 3، ص: 106، ط: ایچ ایم سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100837
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن