
میرے داماد کا موبائل ہے، اس میں اسی کی سم ہے اور اس پر اس کے دوست کے فون آتے ہیں، جب گھر میں اس کا فون رکھا ہوا تھاتو میری بیٹی نے فون اٹھالیا،جس کی وجہ سے داماد نے میری بیٹی پر الزام لگایا کہ تمہارا اس کے ساتھ چکر ہے، اس نےہمیں بلایا اور کہا: مجھے اس کو نہیں رکھنا ہے، اسے لے جاؤ، ہم نے بیٹی سے پوچھاتو اس نے کہا: میں نہیں جانا چاہ رہی ہوں، تو داماد نے کہا: مجھے تمہیں نہیں رکھنا ہے، چلی جاؤ۔ میں نے اس کو سمجھایا اور بیٹی کو وہاں چھوڑ دیا، اگلے دن اس نے میرے دوسرے داماد کو فون کرکے کہا: اسے لے جاؤ، میں نہیں رکھ رہااس کو، تو ہم بیٹی کو اپنے گھر لے آئے ہیں، میری بیٹی جانا چاہ رہی ہے لیکن وہ رکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اب سوال یہ ہے کہ ان الفاظ سے طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں سائل کے داماد کے اپنی بیوی کو مذکورہ الفاظ” مجھے اس کو نہیں رکھنا ہے، اسے لے جاؤ“ کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی اگرچہ سائل کے داماد نے ان الفاظ سے طلاق دینے کی نیت کی ہو،اور ”چلی جاؤ“ کے الفاظ سے اگر سائل کے داماد نے طلاق دینے کی نیت نہ کی ہوتو ان الفاظ سے سائل کی بیٹی پرطلاق واقع نہیں ہوئی اور اگراس نے طلاق دینے کی نیت کی ہوتوان الفاظ سے سائل کی بیٹی پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئ ہےاور میاں بیوی کا نکاح ختم ہوگیا ہے،سائل کی بیٹی اپنی عدت (تین ماہواریاں) گزار کر جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ اگردونوں دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو نیا نکاح کرکے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري ...ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي."
(کتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق، ج: 1، ص: 374،375، ط: دار الفکر)
وفیہ ایضا:
"إذا قال لا أريدك أو لا أحبك أو لا أشتهيك أو لا رغبة لي فيك فإنه لا يقع وإن نوى في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في البحر الرائق."
(کتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق، ج: 1، ص: 375، ط: دار الفکر)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"اگر زید نے بیوی کو کہا ہو اور اس کو اقرار بھی ہو کہ اس نے اس طرح کہا ہے کہ: ”میں تمہیں نہیں رکھنا چاہتا ہوں یا میں تمہیں نہیں رکھوں گا“ تو اس سے کوئی طلاق نہیں ہوئی؛ کیونکہ یہ خواہش کا اظہار ہے یا وعدہ ہے، اس سے طلاق نہیں ہوتی۔"
(کتاب الطلاق، باب الطلاق بالفاظ الکنایہ، ج: 12، ص: 548، ط: ادارہ الفاروق کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101054
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن