بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 محرم 1448ھ 04 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

’’میں اس شادی سے دستبردار ہو جاؤں گا‘‘ کہنا اور اس سے طلاق کی نیت کرنا


سوال

 اگر کسی شخص کے گھر میں جھگڑا ہو، غصہ اور ناراضی کا ماحول ہو، اور اس حالت میں اس کا بیٹا بھی موجود ہو۔ اس بیٹے کا نکاح ہو چکا ہو، لیکن ابھی رخصتی اور ازدواجی تعلق قائم نہ ہوا ہو، بلکہ اس نے اپنی بیوی سے ملاقات بھی نہ کی ہو اور اس کی بیوی اپنے والدین کے گھر میں ہو، پھر یہ بیٹا پریشان ہو کر یہ الفاظ کہے ”مجھے زیادہ تنگ نہ کرو ، ورنہ میں اس شادی سے دستبردار ہو جاؤں گا“،  یا اس طرح کہے:  ”مجھے زیادہ تنگ نہ کرو،  ورنہ اللہ کی قسم میں اس شادی سے دستبردار ہو جاؤں گا“ اور ان دونوں جملوں کو کہتے وقت اس کی نیت طلاق کی بھی ہو۔

1۔ تو كيا ان دو جملوں سے طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟ جبکہ اس کی نیت طلاق کی  ہو۔ 

2۔ اگر طلاق واقع ہو جاتی ہے تو کون سی طلاق واقع ہو گی؟ 

3۔ کیا ان دونوں جملوں میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟ 

4۔ مذکورہ الفاظ کس قسم کے الفاظ شمار ہوتے ہیں؟ 

5۔ اس شخص کی جو نیت تھی، کیا اس کا اعتبار ہو گا یا نہیں؟

جواب

1- 2۔  صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کے بیٹے کا یہ کہنا: ’’میں اس شادی سے دستبردار ہو جاؤں گا‘‘، اور اس سے طلاق کی نیت کرنا، دراصل مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی ہے۔ شرعاً اس قسم کے الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی، لہٰذا نکاح بدستور قائم و برقرار ہے۔ البتہ آئندہ اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

3۔دونوں جملوں میں فرق یہ ہے کہ پہلے جملے میں محض طلاق کی دھمکی پائی جاتی ہے، جبکہ دوسرے جملے میں قسم کے ساتھ طلاق کی دھمکی دی گئی ہے، جو کہ یمین (حلف)  ہے۔ اس لیے اگر مذکورہ شخص کا بیٹا آئندہ تنگ ہونے کے باوجود اس شادی سے دستبردار نہیں ہوتا، بلکہ وفات تک نکاح برقرار رکھتا ہے (جوکہ شرعاً مطلوب ہے)، تو وہ زندگی کے آخری لمحات میں حانث (قسم توڑنے والا) شمار ہوگا،  ایسے شخص کو چاہیے کہ ایسی قسموں کو شمار کر کے ان کے کفارے کی وصیت کر دے اور آئندہ ایسی قسم نہ اٹھائے۔

4۔ مذکورہ الفاظ   طلاق کی دھمکی یا وعدہ کے الفاظ میں سے ہیں۔

5۔ چونکہ الفاظ مستقبل کے ہیں اور دھمکی پر مبنی ہیں، اس لیے محض نیت کا اعتبار نہیں ہوگا۔ جب تک طلاق کے صریح الفاظ یا کنایہ الفاظ (حال یا ماضی کے صیغے میں) استعمال نہ کیے جائیں، صرف دل کی نیت یا مستقبل کے ارادے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

فتح القدیر میں ہے:

"ولا يقع ‌بأطلقك إلا إذا غلب في الحال."

(باب إيقاع الطلاق، ج:4، ص:7، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصفى البابي الحلبي وأولاده بمصر)

العقود الدریۃ في تنقيح الفتاوى الحامدیۃ میں ہے:

"(الجواب) : صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام."

(كتاب الطلاق، ج: 1، ص: 38، ط:  دار المعرفة)

مجمع الأنہر في شرح ملتقى الأبحر میں ہے:   

"(و) ثالثها (منعقدة وهي حلفه على فعل أو ترك في المستقبل وحكمها وجوب الكفارة إن حنث) لقوله تعالى {ولكن يؤاخذكم بما عقدتم الأيمان فكفارته} [المائدة: 89] الآية والمراد به اليمين في المستقبل بدليل قوله تعالى {واحفظوا أيمانكم} [المائدة: 89] ولا يتصور الحفظ على الحنث والهتك إلا في المستقبل وفي هذا المحل بحث في الدرر فليطالع، (ومنها) أي من اليمين المنعقدة (ما يجب فيه البر) أي حفظ يمينه (كفعل الفرائض) كأن يقول والله لأصومن رمضان (وترك المعاصي) مثل والله لا أشرب الخمر (ومنها ما يجب فيه الحنث كفعل المعاصي) مثل أن يقول والله لأفعلن الزنا اليوم (وترك الواجبات)."

(كتاب الأيمان، أقسام الأيمان، ج: 1، ص: 540، ط: دار الطباعة العامرة بتركيا)

وفيه أيضًا: 

"(وهي) أي الكفارة (عتق رقبة) .... (أو إطعام عشرة مساكين كما في عتق الظهار)...(وإطعامه) أي يجزئ فيها ما يجزئ في الظهار من الإطعام وقد مر بيانه أيضا (أو كسوتهم) أي كسوة عشرة مساكين (كل واحد) من العشرة (ثوبا) جديدا أو خلقا يمكن الانتفاع به أكثر من نصف الجديد (يستر عامة بدنه) أي أكثره وهو أدناه وذلك قميص وإزار ورداء، ......  ثم إن الأصل فيه قوله تعالى {فكفارته إطعام عشرة مساكين} [المائدة: 89] الآية... (فإن عجز) الظاهر بالواو (عن أحدها) أي عن أحد هذه الثلاثة (عند الأداء).... (صام ثلاثة أيام متتابعات)."

(كتاب الأيمان، أقسام الأيمان، ج: 1، ص: 541، ط: دار الطباعة العامرة بتركيا)

فتاوی شامی میں ہے:  

"كل فعل حلف أن يفعله في المستقبل وأطلقه ولم يقيده بوقت لم يحنث حتى يقع اليأس عن البر مثل ليضربن زيدا أو ليعطين فلانة أو ليطلقن زوجته وتحقق اليأس عن البر يكون بفوت أحدهما."

(كتاب الأيمان، فروع، ج: 3، ص: 757، ط: ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

المبسوط للسرخسی میں ہے:  

"وهذا لأن المنوي إذا لم يكن من محتملات اللفظ فقد تجردت النية عن اللفظ وبمجرد النية لا يقع شيء."

(كتاب الطلاق، باب ما تقع به الفرقة مما يشبه الطلاق، ج: 6، ص: 76، ط:  مطبعة السعادة - مصر)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے: 

"ولا عبرة بالنية بلا لفظ صالح للإيقاع."

(كتاب الطلاق، فصل في المشيئة، ج: 3، ص: 364، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712101497

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں