
میری شادی کو تقریباً 11 سال ہوگئے ہیں، لیکن میرا شوہر میرے ساتھ حسنِ سلوک نہیں کرتا تھا،انہوں نے نہ تو کبھی مجھے نان و نفقہ دیا اور نہ ہی مناسب طریقے سے رکھا، بلکہ اکثر مجھے روڈ پر چھوڑ دیتے تھے،ایک مرتبہ انہوں نے مجھے تین مرتبہ کہا:"میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، آپ یہاں سے چلی جاؤ،" اس کے بعد میں تقریباً 15 مہینے اپنے والدین کے گھر میں رہی۔
بعد ازاں میں نے عدالت (امریکہ) میں خلع کا مقدمہ دائر کیا تاکہ میرے پاس قانونی و دستاویزی ثبوت موجود ہو۔ عدالت نے میرے شوہر کو نوٹس بھیجے، لیکن وہ خود پیش نہ ہوئے بلکہ اپنے وکیل کو بھیجا اور کہا کہ میری طرف سے دستخط کر دو۔ حالاں کہ یہاں (امریکہ) کسی کی اجازت کے بغیر کوئی دوسرا شخص اس کی طرف سے دستخط نہیں کر سکتا،ان گیارہ سالہ رشتہ میں ہم دونوں صرف گیارہ مہینے ساتھ رہے اور شوہر نے کبھی نان و نفقہ نہیں دیا،میری شادی اور رہائش دونوں امریکہ ہی میں ہیں۔
میرا سوال یہ ہے:
کیامجھے طلاق ہوچکی ہے؟اگر طلاق ہوچکی ہے تو کیا میرے لیے عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سوال میں ذکر کی گئی تفصیل اگر واقعی درست ہے تو سائلہ کے شوہر کے یہ الفاظ: "میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، آپ یہاں سے چلی جاؤ،"تین بار کہنے سے سائلہ پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،اب رجوع کی کوئی گنجائش نہیں اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے،سائلہ اپنی عدت گزار کر کسی اور جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
تبیین الحقائق میں ہے:
"لو طلقها ثلاثا تحرم عليه حرمة غليظة فلا يتصور فيها المراجعة، والطلقتان في الأمة كالثلاث في الحرة ومن شرائطها أن يكون الطلاق صريحا لفظا أو اقتضاء."
(كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:2، ص:251، ط:المطبعة الكبرى الأميرية)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."
(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1، ص:473، المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100072
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن