
1:ہمارے ہاں مساجد کے لیے ہر جمعہ کو مائیک لگاکر محلہ میں چندہ کیا جاتا ہے ،اس بارے میں کیا حکم ہے؟
2: "Suhada" نام اردو میں کس طرح لکھتے ہیں؟
واضح رہے کہ شدید ضرورت کے مختلف مواقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تعاون کا اعلان اور بعض مواقع پر (جیسے غزوہ تبوک، اور ایک ضرورت مند قبیلے کے وفد کی آمد کے موقع پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خود مسجد میں امداد جمع کرنا منقول ہے، لہذادینی ضرورت کے لیے مثلاً مسجد یا مدرسہ یا کسی اور دینی مقصد کے لیے اگر چندہ کی ضرورت ہو تو چند شرائط کی رعایت کرتے ہوئے مسجد میں یا مسجد سے باہر چندہ کرنا جائز ہے، وہ شرائط یہ ہیں:
(1) اس سے کسی نمازی کی نماز میں خلل نہ ہو۔ (2) کسی کو تکلیف نہ دی جائے، مثلاً گردن پھلانگنا یا لاؤڈ اسپیکر پر بلند آواز سے مستقل اعلانات کرتے رہنا وغیرہ۔ (3) مسجد میں شور وشغب نہ کیا جائے۔ (4) چندہ زبردستی نہ لیا جائے اور چندہ نہ دینے پر کسی کو عار نہ دلائی جائے۔
تاہم بہتر یہی ہے کہ چندہ مسجد سے باہر کیا جائے، اور ضرورت پر مسجد میں صرف اعلان کرلیا جائے، لیکن مستقل اور مسلسل لاؤڈ اسپیکر پر چندے کے اعلانات کرتے رہنا جس سے محلہ کے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو یہ طریقہ درست نہیں ہے، اس سے اجتناب ضروری ہے۔
حدیث شریف میں ہے:
"وعن عبد الرحمن بن خباب قال: شهدت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يحث على جيش العسرة فقام عثمان فقال: يا رسول الله علي مائتا بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله ثم حض على الجيش فقام عثمان فقال: علي مائتا بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله ثم حض فقام عثمان فقال: علي ثلاثمائة بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله فأنا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينزل عن المنبر وهو يقول: «ما على عثمان ما عمل بعد هذه ما على عثمان ما عمل بعد هذه» . رواه الترمذي."
(مشكاة المصابيح، كتاب المناقب، باب مناقب عثمان، الفصل الثاني، ج:3 ، ص:1713، ط: المكتب الإسلامي)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(قوله: ويكره التخطي للسؤال إلخ) قال في النهر: والمختار أن السائل إن كان لا يمر بين يدي المصلي ولا يتخطى الرقاب ولا يسأل إلحافا بل لأمر لا بد منه فلا بأس بالسؤال والإعطاء."
(كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج:2، ص:164، ط: دار الفكر)
2:"Suhada" کو اردو میں "سہادا" لکھا جاتا ہے،درحقیقت یہ عربی لفظ ہے، جو کہ"بے خوابی میں مبتلاء ہونے" اور "نیند نہ آنے "کے معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے، نیز اگر "س" کی جگہ "ص" استعمال کیا جائے "تو"صہاد" عربی میں" سخت اور جُھلساتی گرمی "کے لیے استعمال ہوتا ہے،لہذا کسی بچے/بچی کا نام "سہاد" ، "سہادا"یا "صہاد" رکھنا درست نہیں ہے۔
معتبر و مستند اسلامی ناموں کے لیے درج ذیل لنک سے استفادہ کریں :
لسان العرب میں ہے:
"والسهد، بضم السين والهاء: القليل من النوم. وسهد، بالكسر، يسهد سهدا وسهدا وسهادا: لم ينم. ورجل سهد: قليل النوم ."
(ج:3، ص:224، ط:دارصادر)
وفيه ايضا:
"صهد: صهدته الشمس: لغة في صخدته. ابن سيده: صهدته الشمس تصهده صهدا وصهدانا: أصابته وحميت عليه. والصيهد: شدة الحر."
(ج:3، ص:260، ط:دارصادر)
تاج العروس میں ہے:
"سهد: (السهد، بالضم) ، كالسهاد، كغراب: (الأرق) ...يقال: في عينه سهد وسهاد. وفي الصحاح: السهاد: الأرق.
(والسهد. بضمتين: القليل النوم) أو القليل من النوم، كما في اللسان. ورجل سهد: قليل النوم."
(ج:8، ص:238، ط:دارالهداية)
وفيه ايضاً:
"صهد : (صهد، كمنع: صخد) ، يقال: صهدته الشمس، أي صخدته. قال ابن سيده: صهدته الشمس تصهده صهدا، وصهدانا: أصابته، وحميت عليه."
(ج:8، ص:301، ط:دارالهداية)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144501100963
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن