
میرے اور میری بیوی کے درمیان گھریلو معاملات پر جھگڑا ہوا۔ غصے کی حالت میں میں نے اس سے کہا: "میں نے تیرے کو طلاق دی، میں نے تیرے کو طلاق دی" (دو بار کہا)۔ پھر میں نیچے آیا اور تھوڑی دیر بعد گھر واپس آیا تو بیوی نے مجھ سے پوچھا: "کیا تم نے مجھے چھوڑ دیا؟"
میں نے جواب دیا: "ہاں، میں نے تمہیں فارغ کر دیا" (یہ کہتے وقت میرے دل میں طلاق کی کوئی نیت نہیں تھی، اور نہ ہی مجھے پہلی طلاق کے بارے میں کوئی اطلاع تھی)۔
پھر پنچایت میں میرے بیوی کے بھائی نے مجھ سے پوچھا: "سعد، کیا تم نے اسے چھوڑ دیا؟"
تو میں نے کہا: "میں نے ختم کر دیا" ۔ اس کے بعد سب چلے گئے۔
پھر میرے بھائی ایک تحریری طلاق نامہ بنوا کر میرے پاس لے کر آیا، اور کہا کہ اس پر انگوٹھا اور دستخط کرو۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے، اور میں پڑھ بھی نہیں سکتا۔ میرے بھائی نے مجھے یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ طلاق نامہ ہے۔ چنانچہ میں نے اس پر انگوٹھا لگایا اور دستخط کیے۔
اس کے بعد میرے بھائی کے دوست نے مجھ سے قرآن کریم اٹھوایا اور کہا: "تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟" میں نے جواب دیا: "ہاں، دے دی" ۔ اس نے یہ سوال تین بار دہرایا، اور میں نے تینوں بار "ہاں، دے دی" کہا، لیکن اپنی زبان سے لفظِ طلاق نہیں نکالا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا بیوی کو طلاق ہو گئی ہے؟
اگر ہو گئی ہے تو کتنی طلاق ہو ئی ہے؟
میری بیوی سے میرا ایک بچہ بھی ہے، اور بچے کی خاطر وہ دوبارہ میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے ۔
تو کیا وہ میرے ساتھ دوبارہ رہ سکتی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بیان کے مطابق، جب شوہر نے غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو یہ بات دو بار کہی کہ"میں نے تیرے کو طلاق دی" تو اس کے ساتھ ہی بیوی پر دو طلاقیں واقع ہو گئیں۔ البتہ بعد میں جب بیوی اوربیوی کے بھائی او شوہر کے بھائی کے دوست نے شوہر سے دریافت کیا کہ کیا اس نے طلاق دی ہے؟ تو شوہر نے جو کچھ جواب میں کہا یعنی "ہاں میں نے تمہیں فارغ کر دیا"، اور "میں نے ختم کر دیا" اورہاں، دے دی"اگر اس وقت اس کی نیت نئی طلاق دینے کی نہیں تھی، بلکہ وہ صرف ان کے سوال کے جواب میں پہلے دی گئی طلاق کی خبر اور تصدیق کرنا مقصود تھا، تو اس سے کوئی اضافی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
اسی طرح، سائل کے بھائی نے جو ایک تحریری طلاق نامہ بنایا اور اس سے دستخط لیے، اگر واقعۃًشوہر یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے یا اس میں کیا لکھا ہواہے اور مذکورہ تحریر اسے پڑھ کر سنائی بھی نہیں گئی تھی، تو اس سے بھی مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
واقعہ کے بعد اگر مطلقہ بیوی کی عدت (مکمل تین ماہواریاں) نہ گزری ہو تو شوہر اس سے رجوع کر سکتا ہے۔ رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر مطلقہ بیوی سے کہہ دے: ”میں نے تم سے رجوع کر لیا“ یا اس سے بوس و کنار یا ہمبستری کرے، تو رجوع ہو جائے گا۔ نیز قولی رجوع کرنا اور اس پر گواہ بنانا بہتر ہے۔ البتہ اگر مطلقہ بیوی کی عدت ختم ہو چکی ہو تو شوہر کو رجوع کا حق نہیں ہوگا، ہاں باہمی رضامندی سے نیا مہر مقرر کر کے گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنے کی اجازت ہوگی۔ رجوع یا تجدیدِ نکاح کے بعد شوہر کے پاس صرف ایک طلاق دینے کا اختیار ہوگا۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
" الطَّلَاقُ مَرَّيْنِ فَإِمْسَاكَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيح بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا اتيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا الا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ فَإِنْ خِفْتُمُ الَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُ وُدَ اللَّهِ فَأُولَبِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ ، فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ۔" ( البقرة. ٢٢٩،٢٣٠)
ترجمہ:
"وہ طلاق دو مرتبہ ( کی ) ہے پھر خواہ رکھ لینا قاعدہ کے موافق خواہ چھوڑ دینا خوش عنوانی کے ساتھ اور تمہارے لئے یہ بات حلال نہیں کہ ( چھوڑنے کے وقت ) کچھ بھی لو (گو) اس میں سے ( سہی) جو تم نے ان کو (مہر میں) دیا تھا۔ مگریہ کہ میاں بیوی دونوں کو احتمال ہو کہ اللہ تعالی کے ضابطوں کو قائم نہ کرسکیں گے۔ سواگر تم لوگوں کو یہ احتمال ہو کہ دونوں ضوابط خدا وندی کو قائم نہ کر سکیں گے تو کوئی گناہ نہ ہو گا اس ( مال کے لینے دینے ) میں جس کو دے کر عورت اپنی جان چھڑا لے یہ خدائی ضابطے میں سوتم ان سے با ہر مت نکلنا اور جو شخص خدائی ضابطوں سے بالکل باہر نکل جائے (ایسے ہی لوگ اپنا نقصان کرنے والے ہیں ) پھر اگر کوئی ( تیسری ) طلاق دے دے عورت کو تو پھر وہ اس کے لئے حلال نہ رہے گی اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ (عدت کے بعد ) نکاح کرلے۔ پھر اگر وہ اس کو طلاق دے دے تو ان دونوں پر اس میں کچھ گناہ نہیں کہ بدستور پھر مل جائیں۔ شرطیکہ دونوں غالب گمان رکھتے ہیں کہ (آئندہ) خداوندی ضابطوں کو قائم رکھیں گے اور یہ خداوندی ضابطے ہیں۔ حق تعالی ان کو بیان فرماتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے جو دانش مند ہیں۔"
(تفسیر بیان القرآن، ج: 1، ص: 162، ط: مکتبہ رحمانیہ)
بدائع الصنائع میں ہے:
"ولو قال لامرأته: أنت طالق فقال له رجل: ما قلت؟ فقال: طلقتها أو قال قلت: هي طالق فهي واحدة في القضاء؛ لأن كلامه انصرف إلى الإخبار بقرينة."
( فصل و منھا النیة فی احد نوعی الطلاق ، ج : 3 ، ص : 102 ، ط : سعید )
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام «والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم"
(كتاب الطلاق،الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق،ج: 1، ص: 374-375، ط: دار الفكر بيروت )
العقود الدرية في تنقيح فتاوي الحامدية :
"(سئل) في رجل قال لزوجته روحي طالق وكررها ثلاثا ناويا بذلك جميعه واحدة وتأكيدا للأولى وزجرها وتخويفها وهو يحلف بالله العظيم أنه قصد ذلك لا غيره فهل يقع عليه بذلك واحدة رجعية ديانة حيث نواها فقط وله مراجعة زوجته في العدة بدون إذنها حيث لم يتقدم له عليها طلقتان؟
(الجواب) : لا يصدق في ذلك قضاء لأن القاضي مأمور باتباع الظاهر والله يتولى السرائر وإذا دار الأمر بين التأسيس والتأكيد تعين الحمل على التأسيس كما في الأشباه ويصدق ديانة أنه قصد التأكيد ويقع عليه بذلك طلقة واحدة رجعية ديانة حيث نواها فقط وله مراجعتها في العدة بدون إذنها حيث لم يتقدم له عليها طلقتان لأن روحي طالق رجعي كما في الفتاوى الخيرية والتمرتاشي وغيرهما وأما روحي فقط فإنه كناية إذ هو كاذهبي كما صرح به صاحب البحر لكن لا يصدق أنه قصدا لتأكيد إلا بيمينه لأن كل موضع كان القول فيه قوله إنما يصدق مع اليمين لأنه أمين في الإخبار عما في ضميره والقول قوله مع يمينه كما في الزيلعي وأفتى بذلك التمرتاشي.
وقال في الخانية لو قال أنت طالق أنت طالق أنت طالق وقال أردت به التكرار صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا. اهـ. ومثله في الأشباه والحدادي وزاد الزيلعي أن المرأة كالقاضي فلا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو علمت به لأنها لا تعلم إلا الظاهر. "
(كتاب الطلاق، ج:1، ص:37، ط: دارالمعرفة)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وكذلك كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع به الطلاق إذا لم يقر أنه كتابه كذا في المحيط والله أعلم بالصواب."
(کتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل السادس في الطلاق بالكتابة، ج:1، ص:379، ط:رشیدیه)
وفیہ ایضا :
"الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة"
(کتاب الطلاق ، ج : 1 ، ص : 468 ، ط : دار الفکر بیروت)
المبسوط للسرخسي میں ہے:
" ويستوي إن طالت مدة العدة أو قصرت لأن النكاح بينهما باق ما بقيت العدة وقد روي أن علقمة رضي الله عنه طلق امرأته فارتفع حيضها سبعة عشر شهرا ثم ماتت فورثه ابن مسعود رضي الله عنه منها وقال إن الله تعالى حبس ميراثها عليك فإذا انقضت العدة قبل الرجعة فقد بطل حق الرجعة وبانت المرأة منه،"
(کتاب الطلاق، باب الرجعة، ج: 6، ص: 19، ط: دار المعرفة - بيروت، لبنان)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100658
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن