بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

محض زبانی ہبہ کرنے سے ہبہ تام نہیں ہوتا۔


سوال

ہم پانچ بھائی اور دو بہنیں ہیں، اور سب شادی شدہ ہیں۔ جس گھر میں ہم مقیم ہیں، وہ آدھا والد کے نام ہے اور آدھا والدہ کے نام تھا۔ والدہ کا انتقال ہو چکا ہے، اور والد صاحب الحمد لله بقیدِ حیات ہیں۔

یہ گھر والد نے خریدا تھا اور والدہ کے نام صرف نام کی حد تک رکھا تھا، لیکن ہبہ نہیں کیا تھا۔ اب والد صاحب اس گھر کی تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ والد صاحب چاہتے ہیں کہ یہ گھر صرف تین بیٹوں کو دے دیں، جبکہ بڑے بیٹے اور چھوٹے بیٹے کو الگ الگ مکان دے چکے ہیں، اور دونوں بیٹیوں کو الگ الگ پلاٹ بھی دے چکے ہیں اور قبضہ بھی دے چکے ہیں۔ والد صاحب نے زبانی طور پر ہم بھائیوں سے کہہ دیا ہے کہ یہ گھر تمہارا ہو گیا ہے، اور چونکہ یہ مکان تین منزلہ ہے، اس لیے کہا کہ ہر منزل ایک ایک بیٹے کی ہے۔

کیا یہ گھر شرعی طور پر ہمارا ہو گیا ہے یا نہیں؟

جواب

ہبہ کرنے کا درست طریقہ یہ ہے کہ والد صاحب زبانی ہبہ کرنے کے بعد ہر بیٹے کو اس کی متعین منزل مکمل مالکانہ قبضے اور تصرف کے ساتھ حوالہ کردیں۔ اگر والد صاحب خود اسی مکان میں مقیم ہوں تو اپنا سامان وہاں سے نکال دیں اور کچھ وقت کے لیے مکان سے باہر نکل جائیں۔ البتہ، اگر مکان میں موجود سامان بھی مکان کے ساتھ ہی ہبہ کر دیا جائے تو پھر واہب (ہبہ کرنے والے) اور موہوب لہ (جسے ہبہ کیا گیا) کے درمیان تخلیہ (خالی کر دینا) کافی ہے۔ تخلیہ کی صورت یہ ہے کہ واہب، تخلیہ کی نیت سے کچھ وقت کے لیے مکان سے باہر نکل جائے، اس سے موہوب لہ کا قبضہ تام ہوجائے گا۔ بعد ازاں اگر ہبہ کرنے والا موہوب لہ کی اجازت سے دوبارہ اس مکان میں رہائش اختیار کرے تو یہ ہبہ کے مکمل ہونے میں مانع نہیں ہوگا۔

لیکن اگر ہبہ کرنے والا خود مکان میں موجود رہے یا اس کا سامان وہاں موجود ہو، اور اس کق بھی ہبہ نہ کرے، تو محض زبانی طور پر گفٹ کرنے سے ہبہ تام نہیں ہوگا۔ اگر مذکورہ طریقے پر عمل کرنا مشکل ہو تو والد صاحب ہر بیٹے کو معمولی قیمت کے عوض اس کی منزل فروخت کر دیں اور بعد میں چاہیں تو وہ قیمت معاف کر دیں۔

البتہ والد صاحب پر لازم ہے کہ اپنی زندگی میں اولاد کو جو کچھ بھی دیں، اس میں انصاف اور برابری قائم کریں، کسی شرعی وجہ کے بغیر کسی کے ساتھ کمی بیشی کرنا درست نہیں۔ البتہ اگر اولاد میں سے کوئی زیادہ دین دار، فرماں بردار، یا والدین کا خدمت گزار ہو، تو اسے دوسروں کی نسبت کچھ زیادہ دینا شرعی طور پر درست ہے۔

لہذا اگر مذکورہ طریقہ سے گفٹ کیا جائے گا، تو گفٹ درست ہو گا، ورنہ نہیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وقوله: بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة."

(كتاب الهبة، ج : 5، ص :689، ط : سعید)

المحیط البرہانی میں ہے:

"وعن أبي يوسف لا يجوز ‌للرجل أن يهب لامرأته، أو أن تهب لزوجها ولأجنبي داراً وهما فيها ‌ساكنان، كذلك الهبة للولد الكبير؛ لأن الواهب إذا كان في الدار فيده بائن على الدار، وذلك يمنع تمام يد الموهوب له."

(‌‌كتاب الهبة والصدقة، ‌‌الفصل السادس : في الهبة من الصغير، ج : 6، ص : 251، ط : دار الكتب العلمية)

البحرالرائق میں ہے:

"‌وفي ‌الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع متميزا غير مشغول على ما سيأتي تفصيله وركنها هو الإيجاب والقبول وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم حتى يصح الرجوع والفسخ."

(کتاب الهبة، ج:7، ص:284، ط: دار الكتاب الإسلامي)

منحۃ الخالق (البحرالرائق کی حاشیہ)میں ہے:

"أما إذا باع بكذا من الثمن وقبل المشتري، ثم أبرأه من الثمن أو وهبه أو تصدق عليه صح."

(كتاب البيع، تعدد الإيجاب في البيع، ج : 5، ص : 287، ط : سعید)

فتاویٰ شامی میں ہے:

" أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة: أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية، ولو كنت مؤثراً أحداً لآثرت النساء على الرجال». رواه سعيد في سننه، وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم». فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا، والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية: ولو وهب شيئاً لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى. وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزياً إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف، وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا: يكون آثماً في التخصيص وفي التفضيل، وليس عند المحققين من أهل المذهب فريضة شرعية في باب الوقف إلا هذه بموجب الحديث المذكور، والظاهر من حال المسلم اجتناب المكروه، فلاتنصرف  الفريضة الشرعية في باب الوقف إلا إلى التسوية والعرف لايعارض النص هذا خلاصة ما في هذه الرسالة، وذكر فيها أنه أفتى بذلك شيخ الإسلام محمد الحجازي الشافعي والشيخ سالم السنهوري المالكي والقاضي تاج الدين الحنفي وغيرهم اهـ."

(‌‌كتاب الوقف، فصل يراعي شرط الواقف في اجارته، ج : 4، ص : 444، ط : سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144707102063

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں