بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اولاد کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے وراثت سے محروم کرنے کی شرعی حیثیت


سوال

میرے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے، میری یہ بیٹی اپنے والدین کی بہت نافرمان ہے،والد جب بیمار تھے تو کبھی ان کی عیادت کے لئے نہیں آئی،جب وفات ہوئی تو غیروں کی طرح تھوڑی دیر کے لئے بیٹھ کر پھر چلی گئی،میرے پاس بھی نہیں آتی، اس نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی، کئی مرتبہ اس کے شوہر نے اس کو طلاق دی ہے، اس کے باوجود بھی ان کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے، اور شوہر نے بھی اس کو اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔

تو کیا اس طرح کی نافرمان بیٹی کو والد کے پراپرٹی میں شرعاحصہ ملے گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے اولاد پر ان کےوالدین کے حقوق کو لازم کیاہے، اور جائز کام میں حسبِ استطاعت ان کی اطاعت  ضروری قرار دی ہے،   اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں جہاں اپنی بندگی کی دعوت دی ہے وہیں  والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم بھی  فرمایا ہے ،اور اپنے شکر کے ساتھ والدین کے شکر کرنے کا بھی حکم دیاہے، چناں چہ ارشادِ باری تعالی ہے:

"وَإِذْ قالَ لُقْمَاْنُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ یبُنَيَّ لاتُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ، وَوَصَّيْنَا الْإِنْسانَ بِوالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْناً عَلى وَهْنٍ وَّفِصالُهُ فِي عامَيْنِ أَنِ اشْكُرْلِي وَ لِوالِدَيْكَ  إِلَيَّ الْمَصِيرُ." (سورة: لقمان، الأية: 23،24)

ترجمہ: ”اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو جب اس کو سمجھانے لگا اے بیٹے شریک نہ ٹھہرائیو اللہ کا بے شک شریک بنانا بھاری بےانصافی ہے، اور ہم نے تاکید کر دی انسان کو اس کے ماں باپ کے واسطے پیٹ میں رکھا اس کو اس کی ماں نے تھک تھک کر اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو برس میں کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا آخر مجھ ہی تک آنا ہے۔“ (بیان القرآن)

 خاص کر جب والدین بوڑھے ہوجائیں تو ایسی حالت میں بھی  شریعت نے والدین کو غصہ و ناراضی میں  زبان سے ’’اف‘‘ تک  کا لفظ (کہ جس سے ان کو تکلیف ہو) کہنے سے منع کیا ہے یعنی والدین کو ایذا دینا تو در کنار! انہیں خالی ایسا لفظ جس سے انہیں تکلیف ہو زبان پر لانابھی منع ہے، چناں چہ قرآن کریم میں ہے:

"وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحْسَانًاۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ ٱلْكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا  وَٱخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّحمَةِ وَقُل رَّبِّ ٱرْحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا."(سورة: الإسراء، الأية:  23،٢٤)

ترجمہ: ”اور حکم کر چکا تیرا رب کہ نہ پوجو اس کے سوائے اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اگر پہنچ جائے تیرے سامنے بڑھاپے کو ایک ان میں سے یا دونوں تو نہ کہہ ان کو ہوں اور نہ جھڑک ان کو اور کہہ ان سے بات ادب کی، اور جھکا دے ان کے آگے کندھے عاجزی کر نیاز مندی سے اور کہہ اے رب ان پر رحم کر جیسا پالا انہوں نے مجھ کو چھوٹا سا۔“ (بیان القرآن)

نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث  میں والدین سے اچھے سلوک اوراچھا معاملہ کرنے کاحکم فرمایا ہے ،اور ان کی نافرمانی سے روکا ہے، اور جو اولاد  ماں یا باپ کی نافرمانی کرے  ان کے لیے سخت وعید دنیا و آخرت میں فرمائی ہیں، حتی کہ متعدد احادیث میں یہ وارد ہے کہ شب قدر جیسی مبارک رات  جس میں اللہ تعالی کی مغفرت ، بخشش و رحمت بالکل عام ہوتی ہے، اس میں بھی سوائے چار آدمیوں کے اللہ تعالی سب امتِ مسلمہ کی مغفرت  فرماتے ہیں، ان چار قسم کے لوگوں میں ایک شخص  والدین کی نافرمانی  کرنے والا ہے،  جس کی اللہ تعالی اس مبارک مغفرت والی رات میں بھی معافی نہیں فرماتے ۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  سائلہ  کی مذکورہ بیٹی  کو  چاہئے کہ اس نافرمانی سے باز آجائے،اور وقت کو غنیمت سمجھ کر اپنی والدہ کی خوب اطاعت اور فرنانبرداری کرے،اور  اپنے والدین کی جو نافرمانی کی ہے،اس پر خوب گڑ گڑا کر روئے،اور توبہ واستغفار کرے،اور اللہ سے معافی مانگے،نیز اگر واقعتًا سائلہ کی اس بیٹی کو طلاق مغلظہ ہوئی ہو، اور وہ اس کے باوجود بھی اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ رہ رہی ہو،تو یہ شرعا ناجائز اور حرام ہے،سائلہ کی بیٹی پر لازم ہے کہ اس سے علیحدہ ہوجائے،اور اپنی مکمل عدت گزار کر کسی اور کے ساتھ نکاح قائم کرے۔

تاہم اس نافرمانی کی بنیاد پر سائلہ کی یہ بیٹی اپنے والد کے وراثت سے محروم نہیں ہوگی،دیگر بھائیوں کے ساتھ اس کو بھی اپنے والد کے پراپرٹی میں حصہ ملے گا،سائلہ کا اپنی بیٹی کو نافرمانی کی وجہ سے والد کے وراثت سے محروم کرنا شرعا جائز نہیں ہے۔

بلکہ   سائلہ کو چاہیے کہ  اپنی  بیٹی کو وعظ ونصیحت کرکے  ا ن کی اصلاح کرے ، اس لیے کہ  نافرمان بیٹی سدھر بھی سکتی ہے  ،نیک بھی بن سکتی ہے  ، لہذا دعا اور حسن تدبیر سے اصلاح کی کوشش جاری رکھنی چاہیے ، جائیداد و غیرہ سے محروم کرنے میں اور خرابیاں  پیدا ہوں گی  اور اس میں بیٹی کی نافرمانی  مزید بڑھ جانے کا بھی اندیشہ ہے۔

جیسا کہ مشکوۃ شریف میں ہے:

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه"

ترجمہ: ”جو شخص اپنے وارث کی میراث روک لے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا جنت میں حصہ روک لے گا۔“

(کتاب الفرائض والوصایا، باب الوصایا، الفصل الثالث، ج: 2، ص: 926، رقم الحدیث: 3078، ط: المکتب الاسلامی)

 تکملۃ رد المحتار   میں ہے: 

"الإرث جبري لايسقط بالإسقاط."

(کتاب الدعوی، باب التحالف، فصل في دفع الدعاوی، ج: 7، ص: 505، ط: ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100634

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں