بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

محرم کا ستر دیکھنے کا حکم


سوال

کیا محرم کا ستر  دیکھنا بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح غیر محرم کا ستر دیکھنا ؟

جواب

میاں بیوی کے لیے ایک دوسرے کا ستر دیکھنا جائز ہے، تاہم بہتر یہ ہے کہ زوجین بھی بلاضرورت ایک دوسرے کا ستر نہ دیکھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ میں نے کبھی آپ ﷺ کا ستر نہیں دیکھا۔ 

میاں بیوی کے علاوہ دیگر محارم یعنی والد، بھائی،بہن وغیرہ کا ستر دیکھنا اسی طرح حرام ہے جس طرح غیر محرم کا ستر دیکھنا حرام ہے۔

مشكاة المصابیح میں ہے:

"وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا ينظر الرجل إلى عورة الرجل ولا المرأة إلى عورة المرأة."

(کتاب النکاح،‌‌ باب النظر إلى المخطوبة وبيان العورات، ج:2، ص:931، ط:المکتب الإسلامی)

ترجمہ: ”حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کوئی مرد کسی دوسرے مرد کے ستر کی طرف نہ دیکھے، کوئی عورت کسی دوسری عورت کے ستر کی طرف نہ دیکھے۔“ 

مظاہر حق میں ہے: 

”ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے یہ الفاظ ہیں کہ : نہ توآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میراسترکبھی دیکھا اورنہ کبھی میں نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاستردیکھا۔ معلوم ہواکہ اگرچہ شوہراوربیوی ایک دوسرے کاستردیکھ سکتے ہیں، لیکن آدابِ زندگی اورشرم وحیا  کاانتہائی درجہ یہی ہے کہ شوہراوربیوی بھی آپس میں ایک دوسرے کاسترنہ دیکھیں۔“

(ج:3، ص:262، ط: دار الاشاعت)

فتح الباری  میں ہے:

"قال النووي فيه تحريم نظر الرجل إلى عورة الرجل والمرأة إلى عورة المرأة وهذا مما لا خلاف فيه وكذا الرجل إلى عورة المرأة والمرأة إلى عورة الرجل حرام بالإجماع ونبه صلى الله عليه وسلم بنظر الرجل إلى عورة الرجل والمرأة إلى عورة المرأة على ذلك بطريق الأولى ويستثنى الزوجان فلكل منهما النظر إلى عورة صاحبه إلا أن في السوأة اختلافا والأصح الجواز لكن يكره حيث لا سبب وأما المحارم فالصحيح أنه يباح نظر بعضهم إلى بعض لما فوق السرة وتحت الركبة قال وجميع ما ذكرنا من التحريم حيث لا حاجة ومن الجواز حيث لا شهوة."

(کتاب النکاح،باب ما يحل من الدخول والنظر إلى النساء في الرضاع، ج:9، ص:338، ط: المكتبة السلفية)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"وأما النظر إلى العورة حرام لما روي عن سلمان رضي الله عنه قال: لأن أخر من السماء فأنقطع نصفين أحب إلي من أن أنظر إلى عورة أحد أو ينظر أحد إلى عورتي «ولما ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الوعيد في كشف العورة قيل: يا رسول الله فإذا كان أحدنا خاليا فقال: إن الله أحق أن يستحى منه» «وخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى إبل الصدقة فرأى راعيها تجرد في الشمس فعزله وقال: لا يعمل لنا من لا حياء له» ولكن مع هذا إذا جاء العذر فلا بأس بالنظر إلى العورة لأجل الضرورة فمن ذلك أن الخاتن ينظر ذلك الموضع والخافضة كذلك تنظر."

(کتاب الاستحسان، النظر إلى الأجنبيات، ج:10، ص:155، ط: دار المعرفة)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144607100205

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں